اصل واقعہ کیا تھا ؟

شیخین رحمۃ اللہ تعالی علیہما نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کی ، آپ فرماتی ہیں کہ جب حضور اقدس ﷺ غزوہ سے فارغ ہو کر روانہ ہوئے ۔ اور مدینہ طیبہ پہنچنے سے پہلے ایک مقام پر پڑائو کا حکم فرمایا میں اٹھی اور قضائے حاجت کیلئے لشکریوں کے پڑائو اور ٹھہرائو سے ذرا فاصلے پر باہر چلی گئی، فراغت پاکر اپنی قیام گاہ پر لوٹی تو اتفاق سے میرا ہاتھ سینے پر گیا، تو مجھے پتہ چلا کہ میرا ہار گلے میں نہیں ہے ۔ وہ ہار جزع غفار کا بنا ہوا تھا۔ میں اسی جگہ پر واپس گئی تو ہار کو تلاش کرنے لگی ۔ اور اس تلاش میں دیر لگ گئی ۔ادھر لشکر روانہ ہو رہا تھا جو لوگ میرا کجاوا (محمل ) اونٹ پر رکھتے اور باندھتے تھے وہ آئے اور یہ سمجھا کہ میں اس کجاوے (محمل ) میں بیٹھی ہوئی ہوں ۔ محمل کو اٹھاکر اونٹ کی پیٹھ پر باندھ دیا ۔ میں ایک کم وزن اور سبک جسم عورت تھی ۔ لہذا ان کو یہ پتہ نہ چلا کہ محمل خالی ہے یا بھرا ہوا ہے۔ میں جب ہار تلاش کرکے اقامت گاہ پر لوٹی تو لشکر روانہ ہو چکا تھا ۔ جہاں لشکر کا پڑائو تھا، وہاں پر اب کوئی بھی موجود نہ تھا جس جگہ پر میرا ڈیرہ تھا میں اس جگہ آکر بیٹھ گئی ۔ میرا خیال یہ تھا کہ حضور اقدس ﷺ جب مجھ کو نہ پائیں گے تو کسی کو بھیج کر مجھ کو بلوالیںگے ۔ میں اپنی جگہ پر بیٹھی رہی۔ بیٹھے بیٹھے آنکھیں بوجھل ہوئیں، نیند کا غلبہ ہوا اور میں سو گئی ۔ حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالی عنہ جو لشکر کے پیچھے ’’معقب کارواں‘‘ کی خدمت پر مامور تھے ( معقب کاروں یعنی پہلے زمانہ میں یہ دستور تھا کہ جب کوئی قافلہ یا لشکر کوچ کرتا تھا تو ایک شخص کارواں یا لشکر کے پیچھے رکھا جاتا تھا تاکہ کارواں سے کسی کی کوئی چیز گر جائے تو وہ شخص اٹھالے اور پھر منزل پر پہنچ کر امیر کارواں کے سپرد کر دے ، اور امیر کارواں تحقیق کرکے جس کی وہ چیز ہو اسے دیدے ) حضرت صفوان بن معطل صبح کے وقت اس مقام پر پہونچے اور مجھ کو سوتا پایا ۔ چونکہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے جب عورتوں کے شرعی پردے نہ تھے، تب انہوں نے مجھ کو دیکھا تھا، اس لئے انہوں نے مجھ کو پہچان لیا ۔ اور مجھ کو پہچان لینے پر فوراً استرجاع پڑھا ۔ یعنی ’’ انا للہ و انا الیہ راجعون‘‘۔ ان کے استرجاع پڑھنے سے میں بیدار ہوئی اور چہرے اور جسم کو میں نے چادر میں اور زیادہ چھپالیا ، حضرت صفوان نے استرجاع کے علاوہ کچھ بھی نہ کہا اور نہ میں نے کچھ سنا ۔ انہوں نے اونٹنی سے اتر کر اونٹنی کو بٹھایا اور میں جا کر سوار ہوگئی ۔ اور حضرت صفوان اونٹنی کو کھینچ کر چل دیئے ۔ ہم نے چل کر لشکر کو سخت دھوپ اور گرمی کے وقت ٹھہرائو میں پالیا ۔پھر ہلاک ہوا جس کو میرے معاملے میں ہلاک ہونا تھا اور جس شخص نے سب سے بڑھ کر اس کی تشہیر اور اتہام طرازی کی وہ عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق تھا۔ حوالہ: (الخصائص الکبریٰ فی معجزات خیر الوری از :امام علامہ جلال الدین سیوطی اردو ترجمہ ، جلد ۱۔ ص ۴۴۹ تا ۴۵۰)

بس اتنی سی بات تھی لیکن مدینہ طیبہ کے منافقین اور خصوصاً عبد اللہ بن اُبی بن سلول منافق نے اپنے خبث باطن اور دل میں چھپے ہوئے نفاق کا اظہار کرتے ہوئے ام المومنین محبوبۂ محبوب رب العالمین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عصمت اور پاک دامنی کے خلاف تہمت اور افترا پردازی کا طوفان کھڑا کر دیا ۔ فتنے کا طوفان برپا ہوگیا ۔ منافقین کے ساتھ کفار اور مشرکین بھی شامل ہوگئے، کچھ ضعیف الاعتقاد، سادہ لوح ، بھولے بھالے مسلمان بھی ان کے بہکاوے میں آگئے۔

جہاں دیکھو وہاں صرف ایک ہی بات ، مبالغہ ، غلو اور جھوٹ کی آمیزش کے ساتھ منافقین نے اس واقعہ کو اتنی اہمیت اور شہرت دی کہ خدا کی پناہ۔ ایک عظیم فتنہ کھڑا ہو گیا ۔ حالانکہ اجلّۂ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین نے منافقین کے بہتان و افک کا دندان شکن جواب دیا اور بارگاہ رسالت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عصمت اور پاک دامنی کا اظہار کیا ۔

امیر المؤمنین خلفیۃ المسلمین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کے جسم اقدس پر جب کہ مکّھی تک نہیں بیٹھتی کیونکہ اس کے پائوں نجاستوں سے آلودہ ہوتے ہیں تو حق تعالی آپ کے لئے کیسے گوارا کرے گا، اس بات کو جو اس سے کہیں زیادہ بد ترین ہو اور اس سے آپ کی حفاظت نہ فرمائے ۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کا سایہ زمین پر نہیں گرتا، مبادا کہ وہ زمین ناپاک ہو ۔ حق تعالی جب کہ آپ کے سائے کی اتنی حفاظت فرماتا ہے تو آپ کی زوجہ محترمہ کی ناشائستگی سے کیوں نہ حفاظت فرمائے گا ۔ مولائے کائنات حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! حق تعالی نے اتنا گوارا نہیں فرمایا کہ آپ کے پائے اقدس کے نعلین مبارک میں نجاست کی آلودگی ہو اور وہ آپ کو اس کی خبر دیتا ہے کہ آپ نعلین کو پائے اقدس سے اتار دیں ۔ تو اگر یہ واقعہ نفس الامر میںوقوع پذیر ہوتا تو یقینا رب تبارک و تعالی آپ کو اس کی خبر دیتا ۔