حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جس نے ’’حَیّٰ عَلَی الفَلاَحِ ‘‘سناپھر نماز میں حاضر نہ ہوا تو اس نے محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت ترک کردی ۔ (طبرانی الاوسط)

اور حضرت ابوشعساء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیںکہ ہم لوگ مسجد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے توموذّن نے عصر کی اذان پکاری توایک شخص مسجد سے نکل کر چلا گیا تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ضرور بالضرور اس نے ابو القاسم محمدﷺ کی نافرمانی کی ( سنن بیہقی )نیز حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہیکہ پگھلے ہوئے سیسے سے انسان کے کانوں کا بھر دیاجانا اس سے بہتر ہے کہ وہ اذان سن کر جواب نہ دے ۔( یعنی جماعت میں حاضرنہ ہو) ( مکاشفۃ القلوب)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! آج داڑھی، عمامہ شریف ، مسواک وغیرہ سنتوں کے ترک کرنے کی وعیدیں ہم سناتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیںلیکن نمازباجماعت کی ادائیگی پر عمل کی نہ ترغیب دلائی جاتی ہے اور نہ وعیدیں سنائی جاتی ہیں حالانکہ نماز با جماعت ایسی عظیم سنت ہے کہ اس کے تارک سے رحمت عالم ﷺ سخت ناراض ہوتے ہیں اور اذان سن کر بھی نماز باجماعت اداکرنے میں اگر کوتاہی کریں تو سمجھ لوکہ ان کے دل میں کما حقہٗ رسول گرامی وقار ﷺ کو راضی کرنے کا جذبہ نہیں آئو ہم دعا کریں کہ اللہ ہم سب کو جماعت سے نمازپڑھنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔