شوہر کیلئے زینت کرو

یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جس کے لئے انہیں آراستہ رہنے کا اسلام کی طرف سے حکم دیا گیا اور جس آراستہ رہنے کو کار ثواب قرار دیا گیا اس پر تو توجہ نہیں ہے ،اور جس غیر محرم کی نگاہوں سے اپنے آپ کو بچانے کا درس ہی نہ دیا گیا بلکہ اس بات کو اشد ضروری قرار دیا گیا اور اس کے لئے اسلام کی طرف سے نقاب اور حجاب کا حکم دیا گیا کہ کوئی غیر اسے دیکھ نہ سکے،تو جس کے لئے منع کیا اس کے لئے تو سب کچھ کیا جارہا ہے،یہ عورتوں کا بہت بڑا عیب ہے ،اسکا نقصان یہ ہے کہ اپنا اہنا رہتا نہیں اس کی محبت میں کمی آجاتی ہے ،اور جس غیر سے بچنے کو کہا گیا اس کے غلط میلانات انکی طرف ہوتے ہیں،عورتوں کو اس عیب سے روکنے کے لئے ہمارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ بہتر عورت وہ کہ اس کا شوہر اسے دیکھے تو خوش ہو جائے،عورتوں کو ہمارے آقا ﷺ کی نصیحت کو فراموش نہیں کرنا چاہیئے،اور ہر طرح سے اپنے شوہر کے لئے سامان تسکین مہیاکرنا چاہیئے،جائز ذرائع کمزور ہوتے ہیں تو حرام کے دروازے کھلتے ہیں،ہمیں جائز ذرائع کو اتنا مضبوط بنانا چاہیئے کے حرام کا خیال بھی کسی کے دماغ میں نہ آسکے، یہی نکاح کا صحیح مقصد ہے،عورتوں کو اپنے شوہروں کے لئے بن سنورنا نفل نماز سے بہتر ہے،بہتر کا لفظ یہ بتا رہا ہے کہ عورت کا اپنے شوہر کے لئے سنورنا بھی باعث ثواب ہے،افسوس کی بات ہے کہ گناہ کے نام پر سنورنے میں ہمارے پاس وقت ہے اور وہی کام ثواب کے نام سے مل رہا ہے تو اس کا ہمیں خیال تک نہیں ہے ،شوہروں کی اپنے گھروں سے بے رغبتی عورتوں کی غلط کرداری کا نتیجہ ہے،خود کو درست بنا لو ہر مسئلہ آپ بن جائے گا،فرمان نبی ﷺ کو سامنے رکھو اور جنت کی مثالی عورت بن جاوٗ

شوہرکی تسکین تیرے سوا کوئی نہیں ، زینت بھی عبادت سمجھ کر تھام لے