اسلام میں سلام دینے کا تصور

محمد رضا عبدالرشید (نوری مشن مالیگاؤں،)

اللہ ربُّ العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے :۔

یآ ایھا الذین آمنوا لا تدخلوا بیوتاً غیر بیوتِکُمْ حتی تستانِسُوْا و تُسلِّموا علیٰ اھلھا ( سورۃ النور : ۲۷)

’’ اے ایمان والو! نہ داخل ہوا کرو دوسروں کے گھروں میں اپنے گھروں کے علاوہ جب تک تم اجازت نہ لے لو اور سلام نہ کرلو ان گھروں میں رہنے والوں پر‘‘ ( کنزالایمان )

سورۃ النور میں دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے :

فاذا دخلتم بیوتاً فسلموا علیٰ انفسکم تحیۃ ً من عند اللہ مبرکۃ طیبۃً ( النور ۶۱)

’’ جب تم داخل ہو گھروں میں تو سلامتی کی دعا دو اپنوں کو ،وہ دعا اللہ کی طرف سے مقرر ہے جو بڑی بابرکت اور پاکیزہ ہے ‘‘( کنز)

اگر کوئی شخص سلام دے تو اس کے سلام کا جواب دینے کا طریقہ اللہ رب العزت نے کتنے اچھے انداز میں بیان کیا ہے ۔ واذا حییتم بتحیۃ ٍ فحیوا با حسن منھا او ردوھا ( النساء : ۸۶)

اور جب سلام دیا جائے تمھیں کسی لفظ دعا سے تو سلام دو تم ایسے لفظ سے جو بہتر ہو اس سے یا کم ازکم دہرادو وہی لفظ ( کنزالایمان )

سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے کو سلام دینے کی فضیلت اس طرح بیان فرمائی ہے : حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہیایک آدمی نے حضور ا سے عرض کیا: اسلام کی کونسی چیز سب سے بہتر ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم مسکینوںکوکھانا کھلائواور ہر شخص کو سلام کرو خواہ تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں ( بخاری و مسلم )

حضرت ابی عمارہ البراء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول ِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کام کرنے کا حکم دیا : { مریض کی بیمار پرسی کرنا { جنازوں کے ساتھ جانا

{ چھینکنے والے کو یرحمک اللہ سے جواب دینا { کمزور کی مدد کرنا

{ مظلوم سے تعاون کرنا { سلام کو پھیلانا یعنی ہر شخص کو سلام کا جواب دینا { قسم کھانے والے کی قسم کا پورا کرنا‘‘( بخاری و مسلم )

رحمت عالم ا نے باہمی جذبات محبت کو نکھارنے کے کے لئے ایک نسخۂ کیمیا ارشاد فرمایا ۔آپ بھی سنئے اور اس پر عمل کرکے اس کی برکتوں سے مالا مال ہوجائیے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جنت میں داخل نہیں ہوگے جب تک ایمان نہ لائو اور تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہ کرو کیا میں تم کو ایسی چیز نہ بتائوں جس پر تم عمل کرو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو ؟ فرمایا اپنے درمیان سلام کو پھیلایا کرو یعنی ہر ایک کوالسلام علیکم کہا کرو ۔ ( مسلم )

ایک دوسرے کو سلام کہنے کی برکات اس حدیث میں مشاہدہ فرمائیں ۔

حضرت ابو یوسف عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے حضور اکو یہ ارشاد فرماتے سنا ۔ اے لوگو ! سلام کو عام کرو ،مسکینوں کو کھانا کھلائو ،صلہ رحمی اختیار کرو اور نماز پڑھو جب کہ لوگ سورہے ہوں تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جائو گے ۔

رحمت عالم ا جب کسی کو سلام فرماتے تو تین مرتبہ السلام علیکم فرماتے تاکہ جس کو سلام کیا جارہاہے وہ سن بھی لے اور سمجھ بھی لے ۔سرور عالم ا کا یہ معمول تھا کہ جب کمسن بچوں کے پاس سے گذرتے تو انہیں سلام کرتے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ بچوں کے پاس سے گذرے تو انہیں سلام کہا اور فرمایا کہ میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم بھی بچوں کو اپنے سلام سے نوازا کرتے تھے۔ امام ابو دائود حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی سے رو ایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ’’ رحمت عالم ا بچوں کے پاس سے گزرے جو کھیل رہے تھے تو انہیں سرور کائنات انے’’ السلام علیکم‘‘ کہہ کر سلامتی کی دعا دی ‘‘ ۔ ( سبل الہدیٰ ،ص ۲۲۸)

امام بخاری ’’ الادب المفرد ‘‘ میں حضرت اسماء بنت یزید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ایک روز میں اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ بیٹھی تھی ، حضور ا ہمارے پاس سے گزرے اور ہمیں سلام سے نوازا ۔

جب کسی کی طرف سے بارگاہ رسالت میں سلام عرض کیا جاتا تو اس کے جواب میں فرماتے ’’ علیک و علیہ السلام ‘‘ تجھ پر بھی اور سلام بھیجنے والے پر بھی سلام ہو ۔

حضرت امام ابو دائود غالب کتان سے نقل کرتے ہیں کہ بنی نمیر کا ایک شخص اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم اخدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی ’’ان ابی یقرء علیک السلام‘‘ یا رسول اللہ میراباپ حضور ا کی بارگاہ میں سلام عرض کرتا ہے ۔ اس کے جواب میں حضور ا نے ارشاد فرمایا : علیک و علیٰ ابیک السلام ‘‘ تجھ پر اور تیرے باپ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتیاں ہوں ۔

امام بخاری اور مسلم ،حضرت ام المومنین حضرت عایشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتی ہیں ۔

یہود کا ایک گروہ بارگاہ ِ رسالت میں آیا اور کہا السّام علیک ( السام ،موت ) حضور ا نے فرمایا ’’ علیکم ‘‘ تم پر بھی ۔ حضرت عایشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب یہودیوں کی بات سنی تو آپ نے گصہ سے بے قابو ہو کر فرمایا ’’ السام علیکم لعنکم و غضب علیکم ‘‘ تم پر موت آئے ،اللہ تم پر پھٹکار بھیجے اور اس کا غضب تم پر نازل ہو۔ اللہ کے رسول ا نے اُم المومنین کو فرمایا ’’ اے عائشہ تمھیں نرمی کا برتا ئو کرنا چاہئے اور فحش کلامی سے دور رہنا چاہئے ‘‘ آپ نے عرض کی یا رسول اللہ ! انہوں نے جو بکواس کی ہے آپ نے نہیں سنا ؟ حضور ا نے فرمایااے عائشہ جو جواب میں نے دیاہے وہ تم نے نہیں سنا میں نے وہی چیز ان کی طرف لوٹا دی ہے میں نے ان کے بارے میں بارگا ہ الہی میں جو کہا ہے وہ مقبول ہوگا اور انہوں نے میرے بارے میں جو کہا ہے وہ مسترد کر دیا جائے گا ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ مشرکین میں سے کسی شخص نے حضور ا کی خدمت میں عریضہ لکھا اور اس میں حضور اکرم ا کی خدمت میں سلام پیش کیا ۔رحمت عالم ا نے جب اس خط کا جواب دیا تو خود حضور ا نے بھی اس کو اس کے سلام کا جواب سلام سے دیا ۔

امام بخاری نے ادب مفرد میں حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ایک روز نبیٔ کریم ا کا گزر ایک مسجد سے ہوا ،خواتین کا ایک گروہ وہاں بیٹھا تھا،حضور ا نے اپنے داہنے ہاتھ سے انھیں سلام فرمایا ۔

امام مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے آپ نے کہا کہ رسول اللہ ا نے فرمایا : میرے پاس جبرئیل ( علیہ السلام ) آئے اور آکر عرض کی یا رسول اللہا ! یہ خدیجہ ہیں جو حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی ہیں ،ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں روٹی اور سالن ہے اور پینے کے لئے مشروب ہے جب وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو حضور ا انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام پہونچائیں اور انہیں جنت میں ایک محل کی خوشخبری دیں جو موتیوں سے بنا ہوا ہے جس میں نہ شور ہوگا نہ تھکاوٹ ہوگی ۔

ایک روز جبرئیل امین بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت خدیجہ کو سلام فرماتا ہے جس پر سرکار دوعالم ا نے اپنی رفیقۂ حیات کو اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہونچایا تو از راہِ ادب آپ نے عرض کی۔

’’ اللہ تعالیٰ تو خود سلام ہے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام پر اللہ کا سلام ،اس کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں‘‘ ۔

اسلام نے سلام کو عام کرنے پر بہت زور دیاہے کہ سلام مسلمانوں کی شناخت ہے ،سلام کرنے سے ایک مسلمان کا دل دوسریے مسلمان کے لئے خلوص و محبت کا سر چشمہ بن جاتا ہے ۔۔حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ سلام کرو کہ اس سے دل پگھلتا ہے اور باہمی محبت میں اضافہ ہوتا ہے ،کسی بھی مجلس میں حاضر ہوں تو پہلے سلام عرض کرے ،جب کوئی شخص آئے اور سلام عرض نہ کرے تو اس سے سلام عرض کروانا چاہئے ۔

فتح مکہ کے روز صفوان بن اُمیہ نے کلدہ بن حنبل کو نبیٔ کریم ا کی خدمت میں روانہ کیا اور ان کے ذریعہ دودھ اور کچھ تازہ سبزیاں بھجوائیں ،حضور ا اس وقت وادی کی اونچی جگہ تشریف فرماتھے ۔ کلدہ کہتے ہیں کہ میں حاضر ہوا تو نہ سلام عرض کیا اور نہ اجازت طلب کی ،تو حضور ا نے مجھے حکم دیا کہ یہاں سے چلے جائو پھر لوٹو اور پہلے یہ عرض کرو’’ السلا مُ علیکم ،أادخل ؟ ’’ اللہ تعالیٰ کی حضور ا پر سلامتیاں ہوں کیا مجھے داخل ہونے کی اجازت ہے ‘‘۔

اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’ جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کرتے ہیں اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ لیتاہے وہ محض اللہ رب العزت کی رضا کے لئے اس کا ہاتھ پکڑتا ہے تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کے سارے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں ‘‘۔