اٹلی یا یورپ میں نئے آنے والوں کے لئے کچھ اہم باتیں…..

یورپ میں نئے آنے والےایک نئی دنیا میں قدم رکھتے ہیں؛اور اس کے ساتھ ہی کچھ غلط فہمیوں کا شکار بھی ہوتے ہیں…..

دنیا کے ہر مہذب معاشرے میں کسی کو دیکھ کر مسکرا دینا اخلاقیات کی اعلیٰ روایت سمجھی جاتی ہے….

جس طرح اسلام میں رسول کریم ﷺنے فرمایا کہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے مسکرا دینا صدقہ ہے..

مگراسلام کی کچھ حدودوقیود ہیں جس کی وجہ سے عورت ،عورت کے لئے مسکرا سکتی ہے، مرد ،مرد کے لئے مسکرا سکتا ہے…

غیرمحرم کے لیے مسکرانا؛ اور میٹھی میٹھی گفتگو کرنا شریعت مطہرہ میں گناہ ہے….

اس لئے ہمارے کلچر میں” عشق مجازی” اور جھوٹی محبت کے مارے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی لڑکی یا عورت ہنسی تو میرے جال میں پھنسی….

مگر یورپ میں مذہب سے زیادہ ان کے اپنے طے کیے ہوئے اصول و ضوابط اہمیت رکھتے ہیں….

جس میں مرد وعورت کی تخصیص نہیں ہر کوئی ایک دوسرے کے لئے مسکرا دیتا ہے، یہیں سے ہمارے نوجوان غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں….

اور جنسی ہراسگی جیسے جرائم کر بیٹھتے ہیں…..

دوسری بات ہمارے کلچر میں انتہائی قریب ہوکر ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کا رواج نہیں ہے جبکہ ان کے ہاں مرد ہو یا عورت جب آپ سے مخاطب ہوتے ہیں تو آپ کے قریب ہونا ؛اور آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرناعیب نہیں سمجھتے؛ ہمارا نوجوان اس سے بھی غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے…

وہ خود ہی سوچ لیتا ہے کہ میرے اتنا قریب ہو رہی ہے ؛ضرور مجھ میں انٹرسٹڈ ہے(دلچسپی رکھتی ہے)…

پھر اور ایک بات ؛اس میں کوئی شک نہیں شراب شریعت مطہرہ میں حرام ہے…

اس لیے ہمارےہاں مذہب اور کلچر کی وجہ سے: اگر کوئی شراب پینےجیساجرم کرتا بھی ہے تو سرعام نہیں کرتا…

مگر کوئی بھی یورپین شہری سوائے مسلمان کے شراب کو ایک عام مشروب سمجھتا ہے اور وہ اپنے ہر کھانے کے ساتھ ایک مشروب کے طور پر پیتا ہے حتیٰ کہ اپنی کافی میں بھی شراب کا تھوڑا استعمال کر لیتا ہے….

اور ہمارے بعض نوجوان جو مذہب سے تو پہلے ہی دور ہوتے ہیں؛ مگر بدقسمتی سے ماں باپ کی نصیحت سے بھی دور ہو جاتے ہیں؛ اپنوں کی نظر بھی ان پر نہیں رہتی….

تو پھر نیاء آنے والا نوجوان بھی یورپین شہری بننے کی ایکٹنگ کرتا ہے اور ہاتھ میں بیرا(شراب کا کین) پکڑ لیتا ہے؛اور ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ میں بھی آپ جیسا ہی ہوں؛حالانکہ ان کا مہذب شہری بھی ایسا کچھ نہیں کرتا……

اورہمارا نوجوان یہ سمجھتا ہے کہ اب لڑکیاں مجھ پر فریفتہ ہو جائیں گیں مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا….

سوائے اسکے کہ یورپین شہری مشروب کے طور پر پیتا ہے؛ پھر ہمارا نوجوان ٹینک بھرنے کے لیے پیتا ہے؛اور کہیں گرا پڑا ہوتا ہے…

ایک اور بات : ۔ پھر کچھ نوجوان کانوں میں مندریاں ڈال کر یہ سمجھتے ہیں کہ اب لڑکیاں تو ضرور مجھ پر فریفتہ ہو جائیں گی …

اٹلی میں عموما یہ کام زنگرے (ولایتی چنگھڑ) کرتے ہیں اور ہمارے پاکستان میں بھی دو تین دہائیاں پہلے تک صرف

“چنگھڑ” یا ” پکھی واس “ہی کانوں میں مندریاں ڈلواتے تھے.. مگر اب بہت سے نوجوانوں کو ان کی برابری کا شوق چڑھا ہے….

نہ ہمارا کلچر ایسی اجازت دیتا ہے اور نہ ہمارا دین….

یہ یاد رکھیے آپ یورپ میں آئے ہیں اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہر قسم کی آزادی آپ کو میسر آ گئی ہے..

پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنے کلچر کے نمائندے ہیں؛ یورپی کلچر کے نمائندے نہیں؛ اپنے کلچر کی اچھائیاں ان کو بتائیے؛ناکہ ان کی برائیوں کواپنانا شروع کر دیں؛اگر اس معاشرے کے کلچر کو اپنانا ہے تو ان کی اچھی باتیں اپنائیں ….

مثلََا! یہ لوگ جھوٹ کم بولتے ہیں ؛مزدور یا کسی کا بھی حق نہیں کھاتے؛عموماََ دھوکہ نہیں دیتے؛ملکی قانون کی پاسداری کرتے ہیں

اہم بات یہ ہے کہ آپ مذہب اسلام کے ماننے والے ہیں؛ آپ کے کسی بھی برے عمل کی وجہ سے مسلمان بدنام ہوتا ہے چاہے وہ دنیا کے کسی بھی کونے کا رہنے والا ہو…..

بعض نوجوانوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں وہ کہتے ہیں مایوس ہوگیا ہوں..

ماں باپ سے دوری ہے؛ سر پر قرض ہے؛ کام یہاں پے مل نہیں رہا؛ ڈاکومنٹس کے مسائل ہیں….

یہاں پر بھی یہ بات یاد رکھیے کہ اللہ تبارک وتعالی نے ہمیں مایوس ہونے سے منع کرتا ہے اور مایوسی کو کفر سمجھا گیا ہے….

آپ اس کو ذرا دوسرے زاویہ نگاہ سے دیکھئے!

کہ جو آج سے تیس سال پہلے آئے تھے ان میں سے کسی بزرگ کے پاس بیٹھئے ان سے ان کی داستان سنیے کہ وہ روڈوں کے اوپر گتے کے بکس تلاش کرکے ان کو اپنا بچھونا بناتے سردی اور گرمی میں نہانے کا انتظام نہ ہوتا کبھی کوئی پکڑ کے ان کو گھر لے جاتا نہلا دیتا اس طرح کے حالات میں انہوں نے زندگی کی شروعات کی….

آج آپ ان میں سے کسی کو بزنس مین دیکھتے ہیں کسی کو اچھا مزدور دیکھتے ہیں….

آپ اگر کیمپ میں رہ رہے ہیں تو آپ کو چھت میسر ہے کھانے کو میسر ہے رات کو سونے کا بستر میسر ہے زبان سکھانے کے لیے معاونت میسر ہے؛کام کی تلاش کے موقع آپکے پاس موجود ہیں؛اب تو الحمدللہ اٹلی میں پہلے سے قدرے کام بھی بہتر ہو رہا ہے..

روڈ پر تھوکنا یہاں پر برا سمجھا جاتا ہے…

ہمارے کلچر میں ناک زور سے صاف نہیں کرتے مگر ان کے یہاں ناک صاف کرنے کے لیے پورا زور لگا سکتے ہیں…..

ایک بات اور! ہمارے پس ماندہ یا ترقی پذیر ممالک کی نسبت ان کے ادارے بہت مضبوط ہیں اس لئےلڑائی جھگڑا؛یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں ؛بلکہ فون پر بے مقصد؛ بے معنی گفتگو نہ کریں؛ذو معنی گفتگو سے پرہیز کریں؛ ورنہ کسی وقت بھی آپ مسائل کا شکار ہو سکتے….

جو لوگ ان باتوں کو نظر اندازکرتے تھے اُن میں سے آج بہت سے لوگ قانونیمسائل کا شکار ہیں

اپنے قریب کسی بھی دینی ادارے سے رابطہ رکھیںروزانہ کسی مسجد یا اسلامک سینٹرمیں ایک دو نمازیں ادا کریں ؛اگر روزانہ ممکن نہ ہو تو کم از کم ہفتہ میں ایک بارجمعہ کی نماز کےلئے ضرور جائیں؛اگر آپ کے پاس کام نہیں ہےتو وہاں پرنمازیوں کو کام کے لئے یاد دہانی کرواتے رہیں؛

بجائے اس کے کہ آپ کوئی عورت یا لڑکی اپنی کامیابی کے لئے تلاش کریں اپنی محنت لگن پر بھروسہ رکھیں؛جو آپ اپنی محنت سے حاصل کریں گے اس پر زوال نہیں ہو گا اانشاء للہ

کسی کو سیڑھی بنا کر منزل پانے والے اکثر میں روتے دیکھے ہیں..

تحریر :_ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی