حضور اقدس ﷺنے اشارۃً الزام کی تردید فرمائی

منافقین و مشرکین کی جانب سے حضرت سیدتنا ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی عصمت اور پاک دامنی پر مسلسل الزامات و اتہامات کا سلسلہ جاری رہا ۔ بلکہ روز بروز اس میں اضافہ اور مبالغہ ہوتا رہا۔ ادھر صحابۂ کرام و جانثاران بارگاہ رسالت منافقین کے اقوال و الزامات کی تردید فرماتے رہے۔ یہ معاملہ ایک ماہ سے زیادہ طول پکڑ گیا ۔ حضور اقدس ﷺ نے بر بنائے مصلحت سکوت فرمایا اور منافقین کو کچھ جواب نہ دیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عصمت اور پاک دامنی سے آپ یقینا با خبر تھے لیکن مصلحت ایزدی کی بنا پر آپ نے اپنی رفیق حیات کی برأت کا صراحۃً اعلان نہ فرمایا ۔ البتہ اشارۃً اپنے جاں نثار صحابہ کے سامنے ان الفاظ میں ذکر فرمایا کہ وَ اللّٰہِ مَا عَلِمْتُ عَلیٰ أھْلِیْ إلَّا خَیْرًا یعنی خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ میری اہلیہ کا دامن اس تہمت سے پاک ہے ۔

یہاں تک کہ اس فتنہ کے دوران آپ نے مسجد نبوی میں دوران خطبہ فرمایا کہ ’’ کون ہے جو میری مدد کرے ، اور اس شخص سے انتقام لے جس نے بلا شبہ مجھے اور میری اہل کو ایذا پہنچائی ‘‘ ( اس سے مراد عبد اللہ بن ابی بن سلول منافق تھا ) پھر فرمایا کہ ’’ قسم ہے خدا کی ! میں اپنی اہل سے پارسائی کے سوا کچھ نہیں جانتا ‘‘

قارئین کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ آپ اس واقعہ کا گہری نظر سے مطالعہ فرمائیں اور اس پر غور و فکر فرمائیں کیونکہ اس واقعہ کے ضمن میں جس طرح زمانۂ اقدس ﷺ کے منافقین نے فتنہ برپا کر رکھا تھا، اسی طرح دور حاضر کے منافقین فرقۂ وہابیہ، نجدیہ ، تبلیغیہ وغیرہم نے بھی اس واقعہ کے ضمن میں بہت اودھم مچا رکھا ہے اور اس واقعہ کو حضور اقدس ﷺ کے علم غیب کی نفی میں بطور دلیل پیش کرتے ہیں ۔ اور معاذ اللہ یہاں تک بکواس کرتے ہیں کہ اگر حضور اقدس ﷺ کو علم غیب ہوتا تو آپ علی الاعلان حضرت عائشہ کی برأت ظاہر کرتے ۔ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا ۔ لہذا ثابت ہوتا ہے کہ آپ کو علم غیب نہیں تھا ۔ دور حاضر کے منافقین کا یہی شیوہ ہے کہ وہ توہین و تنقیص رسالت کرنے کیلئے قرآن کے معنی اور احادیث کے مفہوم میں ترمیم و تردد پیدا کرکے لوگوں کو بہکانے کی کوشش کرتے ہیں بقول :

ذکر روکے فضل کاٹے ، نقص کا جویاں رہے

پھر کہے مردک کہ ہوں امت رسول اللہ کی

( از : امام احمد رضاؔ ، محدث بریلوی)

مذکورہ واقعہ تفصیل سے بیان کرنے کے بعد اس واقعہ میں کیا کیا اسرار و رموز مخفی تھے؟نیز حضور پاک ﷺ نے کس مصلحت کی بنا پر سکوت فرمایا؟ اور اس میں کیا حکمت تھی ؟وہ انشاء اللہ کتاب کے اختتام میں عرض کروں گا ۔ پہلے اس واقعہ کو تفصیل سے ذکر کرتا ہوں ۔

جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا لشکر کے قافلے سے بچھڑ گئیں اور قافلہ جب روانہ ہوگیا تب تک کسی کو پتہ ہی نہ چلا کہ حضرت عائشہ بچھڑ گئی ہیں ۔ محمل اٹھانے والوں نے یہی سمجھ کر محمل (کجاوے) کو اونٹ پر رکھ دیا تھا کہ آپ اس کے اندر تشریف فرما ہیں ۔ لیکن جب یہ لشکر مدینہ شریف کے قریب صلصل نامی مقام پر ٹھہرا اور اونٹ بٹھائے گئے، مگر محمل سے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا باہر تشریف نہ لائیں، تب پتہ چلا کہ آپ پیچھے رہ گئیں ہیں، ان کے انتظار میں لشکر بمقام صلصل ٹھہرا رہا لشکر میں پانی اس انداز سے تھا کہ مدینہ شریف پہنچ جائے ۔ لیکن ام المومنین کے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے قافلہ کو مجبوراً ان کے انتظار میں رکنا پڑا اور لشکر میں جتنا پانی تھا، وہ صرف ہوگیا۔ نماز کا وقت آیا تو وضو کیلئے پانی نہیں تھا پینے کیلئے بھی پانی کی تنگی تھی ۔ پانی کے بغیر وضو اور وضو کے بغیر نماز پڑھنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن چونکہ یہ قافلہ محبوبۂ محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و ازواجہ و بارک وسلم کے انتظار میں ٹھہرنے کی وجہ سے پانی کی قلت کی دقت و مصیبت میں مبتلا تھا ۔ لہذا اللہ تبارک و تعالی نے اپنے محبوب کی حرم محترمہ کے صدقے اور طفیل ان لشکر والوں پر مہربان ہو کر، ان پر اور ان کے طفیل قیامت تک کے مسلمانون پر کرم فرماکر تیمم کاحکم نازل فرمایا ۔ جس کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت سید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ صدیقہ میں عرض کیا کہ مَا ھِیَ بِأوَّلِ بَرْکَتِکُمْ یَا آلِ أبِیْ بَکْرٍ اے اولاد ابو بکر ! یہ تمہاری پہلی برکت نہیں ‘‘ مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو تمہاری بہت سی برکتیں پہونچی ہیں ۔ ( مدارج النبوۃ ، اردو ترجمہ ، جلد ۲۔ ص ۲۷۵)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب ہم مدینہ منورہ واپس آئے، تو مشیت ایزدی سے ان ہی دنوں میں بیمار ہوگئی ۔ میں گھر ہی میں تھی۔ ایک ماہ سے زیادہ میں بیمار رہی ۔ باہر میرے خلاف فتنہ پردازوں نے جو الزامات اٹھا رکھے تھے، اس کا مجھے کچھ پتہ نہ تھا ۔ ایک دن ام مسطح نام کی عورت نے الزام تراشیوں کی اتہام سازیوں کی ساری باتیں مجھ سے بیان کیں ۔ جنہیں سن کر میں پہلے سے زیادہ بیمار ہوگئی۔ ایک روز حضور اقدس ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور سلام علیک کے بعد مجھ سے فرمایا ’’ تم کیسی ہو ؟ ‘‘ میں نے اپنی کیفیت بتانے کے بعد عرض کیا کہ اگر آپ اجازت عطا فرمائیں تو میں چند دنوں کیلئے اپنے والدین کے گھر چلی جائوں ۔ حضور نے اجازت عطا فرمائی اور میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر چلی گئی ۔ میں نے اپنی والدہ سے تمام باتیں دریافت کیں ۔ میں تمام رات روتی رہی اور صبح ہوجانے پر بھی میرے آنسو تھمتے ہی نہ تھے ، تمام شب جاگتی ہی رہی ، پلک تک نہ جھپکی ۔ میں دن بھر مسلسل روتی رہی، میرے آنسو روکے نہ رکتے تھے اور نیند نام کو بھی نہ تھی، مجھ کو اندیشہ ہوا کہ شدت گریہ کی وجہ سے شاید میرا جگر پھٹ جائے گا ۔ حوالہ: (الخصائص الکبری ، اردو ، جلد ، ۱۔ ص ۴۵۱)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک روز حضور اقدس ﷺ مجھ کو ملنے میرے گھر تشریف لائے ۔ اور مجھ سے فرمایا کہ اے عائشہ ! میرے حضور تمہارے بارے میں ایسی ایسی باتیں پہنچی ہیں، لہذا اگر تم بری اور پاک ہو، تو عنقریب اللہ تمہاری پاکی بیان فرمائے گا اور تمہاری برأت کی خبر نازل فرمائے گا ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں ۔ کہ حضور کی زبان مبارک سے یہ کلمات سن کر میرے آنسو تھم گئے یہاں تک کہ میری آنکھوں میں ایک قطرہ تک بھی نظر نہ آتا تھا۔ یہ اس خوشی کی بنا پر تھا جو میں نے حضور اکرم ﷺ کے کلام مبارک سے بشارت پائی تھی ۔

حوالہ : (۱) مدارج النبوۃ ، اردو ترجمہ، جلد ۲۔ ص ۲۸۱

(۲) خصائص کبری، اردوترجمہ ،جلد ۱ ۔ ص ۴۵۲)