سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہوجاؤگے

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم لوگوں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ جماعت سے پیچھے رہ جانے والایا تو منافق ہوتا تھا یا مریض ، اور بیشک مریض کاحال یہ ہوتاتھا کہ دو آدمیوں کے درمیان چل کر آتا تھا اور رسول اعظم ﷺ نے ہم لوگوں کو ہدایت کی سنتوں کی تعلیم دی ہے اور ہدایت کی سنتوں میں سے یہ بھی ہے کہ نماز اس مسجدمیں پڑھی جائے جس میں اذان دی گئی ہو ۔ اورایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو اس بات سے خوش ہو کہ وہ کل قیامت کے دن مسلمان ہونے کی حالت میں اللہ سے ملاقات کرے تو اس پر لازم ہیکہ وہ نمازوں کو وہاں پڑھے جہاں اذان دی گئی ہوکیونکہ اللہ نے تمہارے نبی ﷺ کے لئے ہدایت کی سنتیں رکھی ہیں اور نماز با جماعت ہدایت کی سنتوں میں سے ہے۔ اور اگر تم لوگ اپنے گھروں میں نماز پڑھ لوگے جس طرح جماعت سے پچھڑنے والا اپنے گھر میں پڑھ لیتا ہے تو تم لوگ اپنے نبی کی سنتوں کو چھوڑنے والے ہو جائو گے اور اگر تم لوگوں نے اپنے نبی کی سنت کو چھوڑ دیا تو یقینا گمراہ ہوجائو گے ۔

جو آدمی اچھی طرح وضو کرکے مسجد کاقصد کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے ہر قدم پر ایک نیکی لکھ دیتاہے اور ہر قدم کے بدلہ میں ایک درجہ بلند فرماتا ہے اور ایک گناہ معاف کر دیتا ہے ۔ اور تم لوگ یقین مانو کہ ہم نے اپنے کواس حال میں دیکھا کہ جماعت سے وہی آدمی پچھڑتا تھاجو ایسا منافق ہوتاجس کا نفاق سب کومعلوم ہوتا۔ اور بعض لوگ تودو آدمیوں کے درمیا ن چلا کرلائے جاتے تھے یہاں تک کہ وہ صف میں کھڑے کر دیئے جاتے تھے۔ ( مسلم ، مشکوۃ)