بسم اللہ الرحمن الرحیم

از قلم مفتی علی اصغر

5جمادی الثانی 1441

31 جنوری 2020

عرض حال

پچھلے ہفتے اعجاز قرآنی کے فن پر ایک مختصر تحریر لکھی متعدد اہل علم کی طرف سے نا صرف دلچسپی کا اظہار کیا گیا بلکہ کچھ سوالات اور اشکالات کے تبادلے کا سلسلہ بھی رہا خود میں نے بھی تحریر لکھنے تک خود کو محدود نہیں کیا بلکہ موضوع کی دلچسپی نے کئی کتب پڑھنے اور مزید غورو فکر کرنے پر مجبور کیا ۔

میں جو اس فن کو سمجھ پایا ہوں وہ یہ ہے کہ جس طرح تفسیر صوفیانہ ہوتی ہے کہ کسی لفظ سے نکلنے والی دلالت کو لے کر صوفیاء تفسیر صوفیانہ کرتے ہیں یہ اصل میں تفسیر اشاری ہوتی ہے فن تفسیر کی بعض کتب میں صوفی تفسیر کے بجائے اشاری تفسیر کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ تفاسیر ایک اشارے اور ایک دور کی دلالت تک محدود ہوتی ہیں ۔امام ابن عجیبہ علیہ الرحمہ نے پورے قرآن کی تفسیر اشاری کی ہے بہت عظیم بزرگ ہیں الحکم العطائیہ کی بہت آسان اور عام فہم شرح پڑھنی ہو تو امام ابن عجیبہ کی ایقاظ الہمم بہت شاندار ہے

سائنسی تفاسیر بھی حقیقت میں تفسیر اشاری ہی ہوتی ہیں اور اس معاملے میں فہم قرآن کے ساتھ ساتھ سائنسی نیچر کو سامنے رکھنا ضروری ہے سائنس کی ہر تحقیق کو خود سائنس بھی حتمی نہیں سمجھتی اس موضوع پر دونوں طرف کا اعلی ادراک ضروری ہے خاص کر علم تفسیر کو بہت ہی گہرائی سے جان کر ایسی تفاسیر بیان کی جا سکتی ہیں۔اس فن پر لکھی گئی کتب بھی ربط یابس پر مشتمل ہوتی ہیں۔میں اس فن کو پڑھ ہی رہا تھا کہ مولانا اسید الحق بدایونی مرحوم کی کتاب بھی مجھے پڑھنے کا اتفاق ہوا انہوں نے سائنسی تفاسیر پر تنقیدی مقالہ لکھا ہے بہت ہی عمدہ ہے ۔ہمارے جو لوگ عرب میں پڑھ رہے ہیں ان کو بھی وہاں پر پھیلے مختلف افکار پر تنقیدی مقالہ جات لکھنا چاہیے چند روز قبل ہی مصر میں ایک عالمی کانفرنس میں جب اسلامی فکر میں جدت اور تبدیلی کی بات کی گئی تو شیخ احمدطیب نے جو ترکی بہ ترکی جواب دیا وہ تاریخ کا حصہ رہے گا کہ جدت اپنے باپ کے گھر میں پیدا کر!!! نہ کہ دین میں۔ اللہ اکبر عجیب افکار پیدا ہو رہے ہیں خیر بگڑے افکار کے کئی عوامل ہوتے ہیں ایک محرک سازش ہوتا ہے تو کہیں خود نمائی اور شہرت کی طلب بھی ہوتی ہے مولانا اسید الحق مرحوم نے ایک مصنف کا حوالہ دے کر لکھا کہ وہ سائنسی تفاسیر کے غلو پر بات کرتے ہوئے لکھ رہے تھے کہ کل یہ نہ ہو کہ کوئی ڈارون کے باطل نظریے کو لے کر لکھ دے کہ یہ بھی قرآن سے ثابت ہے معاذ اللہ مصنف نے لکھا کہ یہ عجوبہ بھی ہو کر رہا اور ایک لکھاری نے اس جسارت کو کرنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کی

میں نے عرب دنیا کے بگڑے افکار پر تنقیدی مقالہ جات لکھنے کی جو بات کی ہے اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ بگڑی فکر تو معتزلہ کے دور سے آج تک موجود ہے اورپاک و ھند میں کچھ نہ کچھ لوگ ہر دور میں پائے گئے ہیں جو بوسیدہ افکار اور چلے ہوئے کارتوسوں کو اردو میں ڈھال کر خود نئے مجتھد بن کر ظاہر ہوتے رہتے ہیں حالانکہ کہ شرق و غرب میں ان افکارکو تو سالہا سال سے مردود قرار دے کر ڈھیڑوں ڈھیر کتب لکھی جا چکی ہوتی ہیں ۔

لیکن میں ایک فکر پر بڑا حیرا ن ہوں کہ عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک ہر مسلمان یہ جانتاہے کہ سنت سے مراد کیا ہے اصول فقہ کی بات کریں تو دوسری صدی سے آج تک سنت کا لفظ بطور ماخذ پڑھایا جاتا ہے اور ہر مسلمان اس پر متفق ہے کہ سنت سے مراد سنت نبوی ہوتی ہے لیکن کچھ لوگوں نے حجت حدیث کا انکار اس انداز میں کیا ہے کہ سنت کے لفظ کو سنت ابراھیمی پر محمول کر دیا اور حدیث رسول کے متعلق کہہ دیا کہ یہ بطور دین کے ماخذ بننے اور احکامات کی بنیاد بننے اور قرآن پاک کے احکامات کی تشریح و توضیح کرنے کے لائق نہیں العیاذ باللہ اور پھر جب مجمع میں پوچھا جاتا ہے کہ آپ حدیث سے متعلق کیا کہتے ہیں تو جواب دیا جاتا ہے کہ فن رجال بہت بہترین علم ہے اس سے بہتر علم علم حدیث کی حفاظت کے لئے نہیں ہو سکتا تھا سوال گندم جواب چنا ۔پھر تعجب یہ ہے کہ خود جب کوئی مسئلہ بتاتے ہیں تو بار بار اسی حدیث رسول کا حوالہ بطور استدالال دیتے ہیں جس کو استدلال کا محل ہی نہیں مانتے ۔یہ اس لئے کہ

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں

صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں