هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَاۚ-فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖۚ-فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىٕنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ(۱۸۹)

وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا (ف۳۷۰) اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا (ف۳۷۱) کہ اس سے چین (آرام)پائے پھر جب مرد اس پر چھایا اسے ایک ہلکا سا پیٹ رہ گیا(ف۳۷۲) تو اسے لیے پھرا کی(چلتی پھرتی رہی) پھر جب بوجھل پڑی دونوں نے اپنے رب اللہ سے دعا کی ضرور اگر تو ہمیں جیسا چاہیے بچہ دے گا تو بے شک ہم شکر گزار ہوں گے

(ف370)

عِکرمہ کا قول ہے کہ اس آیت میں خِطاب عام ہے ہر ایک شخص کو اور معنٰی یہ ہیں کہ اللہ وہی ہے جس نے تم میں سے ہر ایک کو ایک جان سے یعنی اس کے باپ سے پیدا کیا اور اس کی جِنس سے اس کی بی بی کو بنایا پھر جب وہ دونوں جمع ہوئے اور حمل ظاہر ہوا اور ان دونوں نے تندرست بچہ کی دعا کی اور ایسا بچہ ملنے پر ادائے شکر کا عہد کیا پھر اللہ تعالٰی نے انہیں ویسا ہی بچہ عنایت فرمایا ۔ ان کی حالت یہ ہوئی کہ کبھی تو وہ اس بچہ کو طبائع کی طرف نسبت کرتے ہیں جیسے دہریوں کا حال ہے ، کبھی ستاروں کی طرف جیسا کواکب پرستوں کا طریقہ ہے ، کبھی بُتوں کی طرف جیسا بُت پرستوں کا دستور ہے ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ وہ ان کے اس شرک سے برتر ہے ۔ (کبیر)

(ف371)

یعنی اس کے باپ کی جِنس سے اس کی بی بی بنائی ۔

(ف372)

مرد کا چھانا کنایہ ہے جِماع کرنے سے اور ہلکا سا پیٹ رہنا ابتدائے حمل کی حالت کا بیان ہے ۔

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَاۚ-فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(۱۹۰)

پھر جب اس نے انہیں جیسا چاہیے بچہ عطا فرمایا انہوں نے اس کی عطا میں اس کے ساجھی(شریک) ٹھہرائے تو اللہ کو برتری ہے اُن کے شرک سے(ف۳۷۳)

(ف373)

بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اس آیت میں قریش کو خِطاب ہے جو قُصَیْ کی اولاد ہیں ۔ ان سے فرمایا گیا کہ تمہیں ایک شخص قُصَیۡ سے پیدا کیا اور اس کی بی بی اسی کی جِنس سے عرَبی قرَشی کی تاکہ اس سے چین و آرام پائے پھر جب ان کی درخواست کے مطابق انہیں تندرست بچہ عنایت کیا تو انہوں نے اللہ کی اس عطا میں دوسروں کو شریک بنایا اور اپنے چاروں بیٹوں کا نام عبد مُناف ، عبدالعُزّٰی ، عبد قُصَیۡ اور عبدالدار رکھا ۔

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْــٴًـا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ(۱۹۱)

کیا اسے شریک کرتے ہیں جو کچھ نہ بنائے اور وہ خود بنائے ہوئے ہیں

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ(۱۹۲)

اور نہ وہ ان کو کوئی مدد پہنچا سکیں اور نہ اپنی جانوں کی مدد کریں (ف۳۷۵)

(ف375)

اس میں بُتوں کی بے قدری اور بُطلانِ شرک کا بیان اور مشرکین کے کمالِ جہل کا اِظہار ہے اور بتایا گیا ہے کہ عبادت کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو عابِدکو نفع پہنچانے اور ا س کا ضَرر دفع کرنے کی قدرت رکھتا ہو ۔ مشرکین جن بُتوں کو پُوجتے ہیں ان کی بے قدرتی اس درجہ کی ہے کہ وہ کسی چیز کے بنانے والے نہیں ، کسی چیز کے بنانے والے تو کیا ہوتے خود اپنی ذات میں دوسرے سے بے نیاز نہیں ، آپ مخلوق ہیں ، بنانے والے کے محتاج ہیں ، اس سے بڑھ کر بے اختیاری یہ ہے کہ وہ کسی کی مدد نہیں کر سکتے اور کسی کی کیا مدد کریں خود انہیں ضَرر پہنچے تو دفع نہیں کر سکتے ، کوئی انہیں توڑ دے ، گرا دے جو چاہے کرے وہ اس سے اپنی حفاظت نہیں کر سکتے ، ایسے مجبور بے اختیار کو پُوجنا انتہا درجہ کا جہل ہے ۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْؕ-سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ(۱۹۳)

اور اگر تم انہیں (ف۳۷۶) راہ کی طرف بلاؤ تو تمہارے پیچھے نہ آئیں (ف۳۷۷) تم پر ایک ساہے چاہے انہیں پکارو یا چپ رہو (ف۳۷۸)

(ف376)

یعنی بُتوں کو ۔

(ف377)

کیونکہ وہ نہ سُن سکتے ہیں نہ سمجھ سکتے ہیں ۔

(ف378)

وہ بہرحال عاجِز ہیں ایسے کو پُوجنا اور معبود بنانا بڑی بے خِرَدی ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۹۴)

بے شک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں(ف۳۷۹) تو اُنہیں پکارو پھر وہ تمہیں جواب دیں اگر تم سچے ہو

(ف379)

اور اللہ کے مملوک و مخلوق ، کسی طرح پُوجنے کے قابل نہیں اس پر بھی اگر تم انہیں معبود کہتے ہو ؟

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ٘-اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ٘-اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ٘-اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَاؕ-قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ(۱۹۵)

کیا اُن کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے گرفت کریں یا ان کے آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا ان کے کان ہیں جن سے سنیں (ف۳۸۰) تم فرماؤ کہ اپنے شریکوں کو پکارو اور مجھ پر داؤں چلو اور مجھے مہلت نہ دو(ف۳۸۱)

(ف380)

یہ کچھ بھی نہیں تو پھر اپنے سے کمتر کو پُوج کر کیوں ذلیل ہوتے ہو ۔

(ف381)

شانِ نُزول : سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بُت پرستی کی مَذمّت کی اور بُتوں کی عاجزی اور بے اختیاری کا بیان فرمایا تو مشرکین نے دھمکایا اور کہا کہ بُتوں کو بُرا کہنے والے تباہ ہو جاتے ہیں ، برباد ہوجاتے ہیں ، یہ بُت انہیں ہلاک کر دیتے ہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی کہ اگر بُتوں میں کچھ قدرت سمجھتے ہو تو انہیں پُکارو اور میری نقصان رسانی میں ان سے مدد لو اور تم بھی جو مکر و فریب کر سکتے ہو وہ میرے مقابلہ میں کرو اور اس میں دیر نہ کرو ، مجھے تمہاری اور تمہارے معبودوں کی کچھ بھی پرواہ نہیں اور تم سب میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔

اِنَّ وَلِیِّ ﰯ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ﳲ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ(۱۹۶)

بے شک میرا والی اللہ ہے جس نے کتاب اُتاری (ف۳۸۲) اور وہ نیکوں کو دوست رکھتا ہے(ف۳۸۳)

(ف382)

اور میری طرف وحی بھیجی اور میری عزّت کی ۔

(ف383)

اور ان کا حافِظ وناصِر ہے اس پر بھروسہ رکھنے والوں کو مشرکین وغیرہ کا کیا اندیشہ ، تم اور تمہارے معبود مجھے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے ۔

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ(۱۹۷)

اور جنہیں اس کے سوا پوجتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے اور نہ خود اپنی مدد کریں (ف۳۸۴)

(ف384)

تو میرا کیا بگاڑ سکیں گے ۔

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْاؕ-وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ(۱۹۸)

اور اگر انہیں راہ کی طرف بلاؤ تو نہ سنیں اور تو انہیں دیکھے کہ وہ تیری طرف دیکھ رہے ہیں (ف۳۸۵) اور انہیں کچھ بھی نہیں سوجھتا

(ف385)

کیونکہ بُتوں کی تصویریں اس شکل کی بنائی جاتی تھیں جیسے کوئی دیکھ رہاہے ۔

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)

اے محبوب معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیر لو

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(۲۰۰)

اور اے سننے والے اگر شیطان تجھے کوئی کو نچادے(کسی برے کام پر اُکسائے)(ف۳۸۶) تو اللہ کی پناہ مانگ بے شک وہی سنتا جانتا ہے

(ف386)

کوئی وسوسہ ڈالے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓىٕفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ(۲۰۱)

بے شک وہ جو ڈر والے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیار ہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں(ف۳۸۷)

(ف387)

اور وہ اس وسوسے کو دور کر دیتے ہیں اور اللہ تعالٰی کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ(۲۰۲)

اور وہ جو شیطانوں کے بھائی ہیں(ف۳۸۸) شیطان انہیں گمراہی میں کھینچتے ہیں پھر گئی(کوتاہی) نہیں کر تے

(ف388)

یعنی کُفّار ۔

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَاؕ-قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِـعُمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْۚ-هٰذَا بَصَآىٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۲۰۳)

اور اے محبوب جب تم ان کے پاس کوئی آیت نہ لاؤ تو کہتے ہیں تم نے دل سے کیوں نہ بنائی تم فرماؤ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب سے وحی ہوتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنا ہے اور ہدایت اور رحمت مسلمانوں کے لیے

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴)

اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو (ف۳۸۹)

(ف389)

مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارِجِ نماز ، اس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے ۔ جمہور صحابہ رضی اللہ عنہم اس طرف ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے سننے اور خاموش رہنے کے باب میں ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس میں خطبہ سننے کے لئے گوش برآواز ہونے اور خاموش رہنے کا حکم ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے نماز و خطبہ دونوں میں بغور سُننا اور خاموش رہنا واجب ثابت ہوتا ہے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قرأت کرتے ہیں تو نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنٰی سمجھو ۔ غرض اس آیت سے قرأت خَلْفَ الْاِمام کی ممانَعت ثابت ہوتی ہے اور کوئی حدیث ایسی نہیں ہے جس کو اس کے مقابل حُجّت قرار دیا جا سکے ۔ قرأت خَلۡفَ الاِمام کی تائید میں سب سے زیادہ اعتماد جس حدیث پر کیا جاتا ہے وہ یہ ہے ۔ ” لَاصَلٰوۃَ اِلَّا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ” مگر اس حدیث سے قرأت خَلۡفَ الاِمَامِ کا وجوب تو ثابت نہیں ہوتا صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ بغیر فاتحہ کے نماز کامِل نہیں ہوتی تو جب کہ حدیث قرأۃُ الامامِؒ لَہ قِرَاء َۃٌ سے ثابت ہے کہ امام کا قرأت کرنا ہی مقتدی کا قرأت کرنا ہے تو جب امام نے قرأت کی اور مقتدی ساکِت رہا تو اس کی قرأت حُکمیہ ہوئی اس کی نماز بے قرأت کہاں رہی ، یہ قرأت حُکمیہ ہے تو امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے سے قرآن و حدیث دونو ں پر عمل ہو جاتا ہے اور قرأت کرنے سے آیت کا اِتّباع ترک ہوتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ وغیرہ کچھ نہ پڑھے ۔

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ(۲۰۵)

اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو (ف۳۹۰) زاری(عاجزی) اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اورشام (ف۳۹۱) اور غافلوں میں نہ ہونا

(ف390)

اوپر کی آیت کے بعد اس آیت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف سننے والے کو خاموش رہنا اور بے آواز نکالے دل میں ذکر کرنا یعنی عظمت و جلالِ الٰہی کا استِحضار لازم ہے کذا فی تفسیر ابنِ جریر ۔ اس سے امام کے پیچھے بلند یا پست آواز سے قرأت کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور دل میں عظمت و جلالِ حق کا استحضار اور ذکرِ قلبی ہے ۔

مسئلہ : ذکر بالجَہر اور ذکر بالاِخفاء دونوں میں نُصوص وارِد ہیں ، جس شخص کو جس قسم کے ذکر میں ذوق و شوقِ تام و اخلاصِ کامل مَیسّر ہو اس کے لئے وہی افضل ہے کذافی ردّالمحتار وغیرہ ۔

(ف391)

شام عصر و مغرب کے درمیان کا وقت ہے ان دونوں وقتوں میں ذکر افضل ہے کیونکہ نمازِ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور اسی طرح نمازِ عصر کے بعد غروب تک نماز ممنوع ہے اس لئے ان وقتوں میں ذکر مُستحَب ہوا تاکہ بندے کے تمام اوقات قربت و طاعت میں مشغول رہیں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩(۲۰۶)

بے شک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں(ف۳۹۲) اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بولتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں (ف۳۹۳)

(ف392)

یعنی ملائکہ مقرّبین ۔

(ف393)

یہ آیت آیاتِ سجدہ میں سے ہے ان کے پڑھنے اور سننے والے دونوں پر سجدہ لازم ہو جاتا ہے ۔

مُسلم شریف کی حدیث میں ہے جب آدمی آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہے اور کہتا ہے افسوس بنی آدم کو سجدہ کا حکم دیا گیا وہ سجدہ کرکے جنّتی ہوا اور مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں انکار کر کے جہنّمی ہو گیا ۔