بکواس معاہدۂ صدی

ٹرمپ کا ’’معاہدۂ صدی‘‘ (ڈیل آف دی سینچری) اتنا بڑا دھوکہ ہے کہ اس کی سنگینی کے بیان کیلئے لفظ ’’دھوکہ‘‘ ناکافی اور چھوٹے موٹے دھوکہ بازوں کی ہتک ہے۔ ٹرمپ اینڈ کمپنی پیٹھ میں نہیں، پیٹ میں چھرا گھونپنے کے درپے ہے۔ اہل فلسطین کے بارے میں فیصلہ کرنے والے ٹرمپ اور وہ افراد، جو اس سازش میں ملوث ہیں، اپنی بدنیتی کے ذریعہ، رہی سہی زمین بھی چھین کر اہل فلسطین کو ایک طرح سے مزید تنگ قطعہ ٔ اراضی میں سمیٹ دینا چاہتے ہیں کہ اُن کا وجود بے بسی کے وجود میں تبدیل ہوجائے ۔ اس اقدام کے ذریعہ اقوام متحدہ کی توہین کا بھی اُنہیں احساس نہیں ہے جس نے ۱۹۴۸ء سے لے کر آج تک سیکڑوں قراردادوں میں فلسطین کے حق کو تسلیم کیا اور اسرائیل کی مذمت کی۔ اسی توہین اور اس کے ساتھ معاہدہ کی ناجائز اور جانبدارانہ شقوں کے پیش نظر اقوام متحدہ نے اس معاہدہ کو مسترد کردیا بالکل اسی طرح جیسے فلسطینی اتھاریٹی نے مسترد کیا ہے۔ یاد رہے کہ فلسطین نے امریکہ اور اسرائیل سے تمام تعلقات منقطع کرلئے ہیں۔

(۱) اس معاہدہ کے تحت ’’نیا فلسطین‘‘ کے نام سے جو ملک تشکیل دیا جائے گا وہ مغربی کنارہ کے چند علاقوں اور غزہ پر مشتمل ہوگا۔ ان علاقوں پر فلسطینی حکومت کو کنٹرول دیا جائیگا مگریہاں واقع یہودی بستیاں بہرحال حکومت ِاسرائیل کے زیر سایہ رہیں گی (بہ الفاظ دیگر، مختصر اور دور افتادہ ’’نیا فلسطین‘‘ نہ تو یہودی بستیوں سے پاک ہوگا نہ ہی خود فلسطینیوں کو اپنے علاقوں کا مکمل اختیار دیا جائیگا)۔

(۲) مقامات مقدسہ کی جو کیفیت اس وقت ہے، وہی باقی رہے گی (اس کا مفہوم واضح ہے کہ یہاں بھی اسرائیل کی غاصب مملکت اور حکومت کا کنٹرول ہوگا اور ہر معاملے میں اسی کی بالادستی قائم رہے گی)۔

(۳) مصر، غزہ کو کچھ اراضی فراہم کرے گا تاکہ اس پر ہوائی اڈہ اور کارخانے قائم کئے جاسکیں۔ اہل فلسطین کو اس اراضی پر سکونت اختیار کرنے کا حق نہیں ہوگا۔

(۴) فلسطین کی کوئی فوج نہیں ہوگی۔ اسے اسلحہ رکھنے کا بھی اختیار نہیں ہوگا سوائے وہ جو شہری پولیس کیلئے ضروری ہوگا۔ معاہدہ پر دستخط، جو ناممکن ہے، کے ساتھ ہی حماس کو اپنا پورا اسلحہ مصر کے پاس جمع کرادینا ہوگا۔

(۵)امریکہ، ’نیا فلسطین‘ کو فوری طور پر تسلیم نہیں کریگا بلکہ متعدد زاویوں سے چار سال تک اس کا جائزہ لے گا۔ ’نیا فلسطین‘ سے امریکی انتظامیہ کو یہ ’’اُمید‘‘ ہوگی کہ وہ ’’دہشت گردی ‘‘کی اعانت نہ کرے، حماس اور اسلامی جہاد ہتھیار ڈال دیں، فلسطینی کرپشن سے باز رہیں، حقوق انسانی اور آزادیٔ مذہب و صحافت کی پاسداری کریں تاکہ ’نیا فلسطین‘ ناکام مملکت نہ بنے۔

اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق امریکہ، فلسطین کو ایسی باتوں کی تلقین کررہا ہے جس کی پاسداری وہ خود نہیں کرتا۔ اس نے یروشلم کو ۲۰۱۷ء ہی میں اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرلیا اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کردیا۔ اُس وقت اس نے کہا تھا کہ ’’ ہم نے یروشلم کو ٹیبل پر سے ہٹا دیا ہے تاکہ مذاکرات ہوں تو یروشلم پر کوئی بات نہ ہو۔‘‘حد تو یہ ہے کہ نام نہاد معاہدہ کیلئے فلسطینیوں سے بات چیت کی گئی نہ ہی اُنہیں اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی گئی۔اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے کہ جس کے مقدر کا فیصلہ کیا جائے، اُس کی رائے جاننے تک کی کوشش نہ ہو۔

اس پورے پس منظر میں ضروری ہے کہ وہ تمام ممالک جو انسانی حقوق کی علمبرداری کا دعویٰ کرتے ہیں اور حق و انصاف کی قسمیں کھاتے ہیں، اس معاہدہ کو مسترد کریں اور امریکہ کو من مانے طریقے سے کسی بھی معاہدہ کا مسودہ تیار کرنے سے باز رکھیں۔ اس کیلئے مختلف ملکوں کا ایک گروپ اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کی سرپرستی میں فلسطینی حقوق کو محسوس اور محفوظ کرے اور اُن کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو انصاف میں بدلنے کیلئے ٹرمپ اور نیتن یاہو پر دباؤ ڈالے۔

(روزنامہ انقلاب کا اداریہ)