اسلام اور تحفظ نسواں

غلام مصطفی رضوی ( نوری مشن مالیگائوں)

یہ ایک المیہ اور ٹریجڈی ہے کہ مسلمانوں میں تہذیب جدید کی آڑ میں اسلامی اصولوں اور اسلام کی مطلوبہ زندگی سے دوری پیدا کی جارہی ہے ۔ آزادی کا نعرہ مغربی فیشن کا مفروضہ ہے ، آزادی کایہ کھوکھلا تصور در اصل مذہب سے بیداری کا انخلاء کرکے بیزاری کا شعور ازبر کراتا ہے ۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان سب باطل تصورات کے نشانے پر صرف مسلمان ہیں ۔

مسلمانوں میں دین ِمتین سے دوری پیدا کرنے کے لئے کئی ہتھکھنڈے اپنائے گئے ،فحش فلمیں ،لٹریچر ،جرائد و مجلات ،افسانے ،حیاء سوز ناول و کہانیاں ، مخلوط پروگرام اور ڈرامے پھر بے پردگی کا عملی رواج بھی اسلام دشمن قوتوں کے تخریبی مشن کا پتہ دیتا ہے ۔

حق و باطل کی معرکہ آرائی ہر دور میں رہی ہے اور فتح حق ہی کو نصیب ہوئی ہے اس میں اسلام کے نظام اخلاق کا بڑا دخل ہے اسی سبب دانشورانِ مغرب اوور مستشرقین نے اسلام کے نظام اخلاق پر تنقید کی ہے ۔حقوق نسواں ،اسلامی حدود ،اور اسلامی پردے پر اعتراض کئے ہیں ، اسلامی پردے کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ اور آزادی کے لئے آڑ قرار دیا ہے ۔ ہیومن رائٹس کی دہائی دینے والوں نے عورت کی معاشرتی حیثیت کو مسخ کرکے رکھ دیا ہے ۔اسلام کے اخلاقی نظام کے زوال کی خاطر معاشرتی زندگی میں یہ لعنت پھیلائی گئی کہ عورتوں کو مردوں کے دوش بدوش رہنا چاہئے … افسوس کہ ہمارا معاشرہ ان کی تہذیب کو اپنانے میں فخر محسوس کرتا ہے ،ماڈرن کلچر کے نام سے مغربی تہذیب کو فروغ دیا جارہا ہے اور پردے کو ختم کرنے کی فضا راست کرنے کی کوشش کی ہورہی ہے۔

آج جب کہ مغرب کے رائج کردہ مساواتِ نسواں کے تصور کی حقیقت اس صورت میں ظاہر ہوگئی ہے کہ وہاں خواتین کا تقدس پامال ہے ان کی عزتیں ،عصمتیں تاراج ہوکر رہ گئی ہیں ان کی حیثیت ایک کھلونے کی سی ہے ،رشتوں کا احترام اُٹھ چکا ہے ایسے میں ضروری ہوگیا ہے کہ اسلامی پردے کو رواج دیا جائے کہ اسی میں نسوانیت کا تحفظ و وقار اور عزت واحترام ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ جو شے قیمتی و تقدس مآب ہو اسے پردہ میں رکھا جاتا ہے اس کی حفاظت و صیانت کی جاتی ہے ۔

قرآن مقدس کولے لیجئے وہ سب سے افضل و اعلیٰ کتاب ہے ،اس کے احترام کے لئے اسے غلاف( پردہ ) میں رکھا جاتا ہے ۔ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دنیائے آب و گل میں تشریف لاکر خواتین کو وقار بخشا،ان پر ہونے والے جو ر و ستم کو ختم کرایا اور انہیں عزت و وقار عطا کرکے ان کے حقوق کو تحفُّظ فراہم کیا۔ خواتین کے احترام کے لئے پردے کا حکم نافذ فرمایا ۔ پردہ اسلامی شعار ہے جبکہ بے پردگی جاہلانہ شعار ہے جیسا کہ قرآن مقدس میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے اگلی جاہلیت کی بے پردگی۔ ‘‘

( الاحزاب ۳۳؍ کنزالایمان)

آج وہی جاہلانہ طرز پروان چڑھ رہا ہے ،فیشن کے نام پر ایسے نقاب ایجاد ہوئے ہیں جن میں سرے سے پردے کا اہتمام نہیں ہوتا اور نگاہوں کی حیاء اٹھ جاتی ہے ۔اللہ عزوجل کا پاک ارشاد ہے۔

’’ مسلمان مردوں کو حکم دو’’ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ ان کے لئے بہت ستھرا ہے بیشک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بنائو نہ دکھائیں مگر جتنا خود ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں ‘‘

۔ ( النور ۳۱،۳۰کنزالایمان)

اس آیت مبارکہ سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ۔مثلاً

tt جس طرح عورتوں کا ظاہری پردہ ہے اسی طرح مردوں کا نگاہوں کا پردہ ہے وہ اس طرح کہ مرد اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ۔

ttظاہری پردے کے ساتھ ہی باطنی پاکیزگی بھی اختیار کریں ۔

ttخواتین اپنا سنگار اور آرائش نامحرموں کو نہ دکھائیں ۔

رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ’’ عورت پردے میں رہنے کی چیز ہے جس وقت وہ بے پردہ ہوکر باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو جھانک جھانک کر دیکھتا ہے ‘‘۔

( جنتی زیور ،علامہ عبدالمصطفی اعظمی،ص ۵۷بحوالہ ترمذی )

ناقدین مغرب نے مساوات نسواں کے نام پر تعددازدواج ،عورتوں کی نجی زندگی کے لئے مختص اسلامی اصول و ضوابط اور قوانین وغیرہ کوموضوع بنایا ہے ۔

صنف نسواں کا تحفظ اسی میں ہے کہ وہ مردوں کی طرح آفسوں ،دفتروں ،کارخانوں وغیرہ میں نگاہوں کا مرکز نہ بنتے ہوئے گھروں کی زینت بنی رہے ۔ استاذمحترم پرو فیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مد ظلہ العالی رقم طراز ہیں : پاکی و طہارت در اصل حسن و جمال کا دوسرا نام ہے جو طاہر نہیں وہ جمیل ہو ہی نہیں سکتا ۔ اسلام مرد سے زیادہ عورت کے حسن کی حفاظت چاہتا ہے اس لئے اسے پوشیدہ رہنے پر زور دیا گیا ہے کہ ہر قیمتی اور حسین شے پوشیدہ ہی رہے تو مناسب ہے اس لئے اسلام نے معاش کا سارا بوجھ مرد پر ڈالا ہے اور عورت کو مستثنیٰ رکھا تاکہ وہ دلربا اور دل پذیر رہے مرد کے ذوق و شوق اورقوت ِعمل کی محرک بنے ۔عورت و مرد چھکڑے کے دو بیل نہ ہوں، بلکہ اسلام چاہتا ہے کہ وہ ایک گلشن کے گل و بلبل ہوں ،ایک محفل کے شمع و پروانہ ہوں اور ایک ہی آسمان کے آفتاب وماہتاب ہوں ‘‘۔

مغربی معاشرہ تباہی کے جس دہانے پر پہونچ چکا ہے اور اخلاقی زوال سے ہم آہنگ ہوچکا ہے وہ ان کے مساوات نسواں اور آزادیٔ نسواں کے جھوٹے نعرے اور دعوے کے نتائج ہیں اور وہ یہی عفریت مسلم معاشرے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں بایں سبب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ اسلامی پردے کے ساتھ ہی فرمودات سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں صنف نسواں کی اسلامی حیثیت اور ذمہ داریوں کو اجاگر کیا جائے ۔

خخخ