(۱۵) اللہ ملک الملوک ہے

۲۱۔ عن أبی ہریرۃ قال: إن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سمع رجلایقول: شاہان شاہ، فقال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : أللّٰہ مَلِکُ الْمُلُوکِ۔

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص نے دوسرے شخص کو پکارا : اے شاہان شاہ! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا : شاہان شاہ اللہ ہے ۔

]۴[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

ظاہر ہے کہ اصل منشاء منع اس لفظ کا استغراق حقیقی پر حمل ہے ۔ یعنی موصوف کا استثناء تو عقلی ہے کہ خوداپنے نفس پر بادشاہ ہونا معقول نہیں ۔ اسکے سوا جمیع ملوک پر سلطنت اور یہ معنی قطعا مختص بحضرت عزت جل جلالہ ہیں ۔ اور اسی معنی کے ارادے سے اگر غیر پر اطلاق ہو تو صراحۃ کفر ہے ۔کہ استغراق حقیقی میں رب عزوجل بھی داخل ہوگا۔ یعنی معاذ اللہ موصوف کو اس پر بھی سلطنت ہے ۔ یہ ہر کفر سے بد تر کفر ہے ۔ مگر حاشا نہ ہرگز کوئی مسلمان اسکا ارادہ کر سکتاہے ۔ نہ زنہار کلام مسلم میں یہ لفظ سنکر کسی کا اس طرف ذہن جا سکتا ہے ۔ بلکہ قطعا قطعا عہد یا استغراق عرفی ہی مراد اور وہی مفہوم و مستفاد ہوتا ہے کہ قائل کا اسلام ہی اس ارادہ پر قرینئہ قاطعہ ہے ۔ جیسا کہ علماء نے موحد کے ۔ أنبت الربیع البقل ۔ موسم ربیع نے سبزہ اگا یا ۔ کہنے میں تصریح

فرمائی ۔

اب رہا یہ کہ استغراق حقیقی اگر چہ نہ مراد نہ مفہوم ۔ مگر مجرد احتمال ہی موجب منع ہے ۔ یہ قطعا باطل ہے ۔ یوں تو ہزاروں الفاظ کہ تمام عالم میں دائرو سائر ہیں منع ہوجائیں گے ۔ پہلے خود اسی لفظ شہنشاہ کی وضع و ترکیب لیجئے ۔ مثلا قاضی القضاۃ ، امام الائمہ، شیخ الشیوخ ، عالم العلماء ، صدر الصدور ،امیر الامراء خان خاناں ، بگاربگ وغیرہا کہ علماء و مشائخ و عامہ سب میں رائج ہیں۔آخری تین لفظ عربی فارسی ترکی تین مختلف زبانوں کے لفظ ہیں ۔اور معنی ایک یعنی سرور سروراں ، سردار سرداراں ، سید الاسیاد ، اور اگر امیر امر بمعنی حکم سے لیجئے تو امیر الامراء بمعنی حاکم الحاکمین ، شک نہیں کہ ان الفاظ کو عموم و استغراق حقیقی پر رکھیں تو قاضی القضاۃ ، حاکم الحاکمین ، عالم العلماء اور سید الاسیاد قطعا حضرت رب العزت عزوجل ہی کیلئے خاص ہیں اوردوسرے پر ان کا اطلاق صریح کفر بلکہ بنظر حقیقت اصلیہ صرف قاضی و حاکم و سید و عالم بھی اسی کے ساتھ خاص ۔

اسی طرح امام الائمہ ، شیخ الشیوخ اور شیخ المشائخ اپنے استغراق حقیقی پر یقینا حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ،اور دوسرے پر اطلاق یقینا کفر ۔ کہ ا س کے عموم میں حضور اقد س صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی داخل ہوں گے اور معنی یہ ٹھہریں گے ۔کہ فلاں شخص معاذ اللہ حضور سید عالم اما م العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بھی شیخ و اما م ہے ،اور یہ صراحتاً کفر ہے ۔ مگر حاشا ۔ ان تمام الفا ظ میں ہرگز یہ معنی قائلین کی مراد ،نہ ان کے اطلاق سے مفہوم و مفاد۔ اور اس پر دلیل ظاہر و باہر یہ ہے کہ متکبر مغرور جبار سلاطین کہ اپنے آپ کو ما بدولت و اقبال اور اپنے بڑے عہدہ داروں و امراء و زراء کو بندئہ حضور وفدوی خاص لکھتے ہیں جنکے تکبر کی یہ حالت کہ اللہ ورسول کی توہین پر شاید چشم پوشی بھی کر جائیں ۔ مگر ہرگز اپنی ادنی سی توہین پر درگزر نہ کریں ۔ یہ ہی جبار ۔ انہیں امراء کو قاضی القضاۃ امیرالامراء خان خاناں اور بگازبگ خطاب دیتے ہیں ،اور خود لکھتے ،اور اوروں سے لکھواتے ،اورلوگو ں کو کہتے لکھتے دیکھتے سنتے اور پسند و مقر ررکھتے ہیں ،بلکہ جو انکے اس خطاب پر اعتراض کرے عتاب پائے ۔ اگر ان میں استغراق حقیقی کاا دنی ایہام بھی ہوتا جس سے متوہم ہوتا کہ یہ امراء خود سلاطین پربھی حاکم و افسر بالا و بر تر اور سردار وافسر ہیں ۔ تو کیا امکان تھا اسے ایک آن کیلئے بھی روا رکھتے ۔

تو ثابت ہوا کہ عرف عام میں امثال الفاظ میں استغرا ق حقیقی ارادۃً وا فادۃً ہر طرح قطعا یقینا متروک و مہجورہے ۔ جس کی طرف اصلاً خیال بھی نہیں جاتا۔ بعینہ بداہۃً یہی حال شہنشاہ کا ہے ۔ کیا پکے مجنون کے سوا کوئی گمان کر سکتا ہے کہ امام اجل ابو العلاء علاء الدین ناصحی ،امام اجل ابوبکر رکن الدین کرمانی ، علامہ اجل خیرالملت و الدین رملی، عارف باللہ شیخ مصلح الدین، عارف باللہ حضرت امیر، عارف باللہ حضرت حافظ ، عارف باللہ حضرت مولوی معنوی ، عارف باللہ حضرت مولانا نظامی،عارف باللہ حضرت مولانا جامی ،فاضل جلیل مخدوم شہاب الدین وغیرہم قدست اسرارہم کے کلام میں یہ ناپاک معنی مراد ہونا در کنار اسے سن کر کسی مسلمان کا وہم بھی اس طرف جا سکتا ہے ؟ تو بے ارادہ وبے افادہ اگر مجرد احتما ل منع کیلئے کافی ہوتا وہ الفاظ بھی حرام ہوتے، حالانکہ خواص و عوام سب میں شائع و ذائع ہیں َ خصوصا قاضی القضاۃ، کہ فقہائے کرام کا لفظ اور قدیماً و حدیثا ً ان کے عامہ ٔ کتب میں موجود ہے ۔ اس میں اور شہنشاہ میں کیا فرق ہے ۔

امام اجل علامہ بدر الملت و الدین محمود عینی حنفی عمدہ القاری شرح صحیح بخاری شریف میں فرماتے ہیں ۔

سب سے پہلے جس کا لقب قاضی القضاۃ ہوا، امام اعظم کے شاگرد امام ابو یوسف ہیں ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہما ۔ اس جناب نے یہ لقب قبول فرمایا ۔ اور ان کے زمانہ میں فقہاء و علماء و محدثین کے اکابر و عمائد تھے ان میں کسی سے بھی اس کا انکار منقول نہ ہوا۔

اب ثابت ہوا کہ وہ (حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو شہنشاہ کہنے پر ) طعن نہ فقط انہیں ائمہ و فقہاء و اولیاء پر ہوگا جن سے لفظ شہنشاہ کی سند یں بے شمار کتب میں مذکور ،بلکہ ائمئہ تبع تابعین اور انکے اتباع اور امام مذہب حنفی ابو یوسف اور اس وقت سے آج تک کے تمام علمائے حنفیہ اور بکثرت علمائے بقیہ مذاہب سب پر طعن لازم آئے گا ۔ اور اس پر جرأت ظلم شدید اور جہل مدید ہوگی ۔

لا جرم بات وہی ہے کہ لفظ جب ارادۃً و افادۃً ہر طرح شناعت سے پاک ہے تو صرف احتمال باطل اسے ممنوع نہ کر دے گا ورنہ سب سے بڑھ کر نماز میں ’’تعالیٰ جدک ‘‘ حرام ہو کہ دوسرے معنی کس قدر شنیع وفضیح رکھتا ہے ۔

ہاں صدر اسلام میں کہ شرک کی گھٹائیں عالمگیر چھائی ہوئی تھیں، نقیر و قطمیر کے ساتھ نہایت تدقیق فرمائی جاتی کہ توحید بر وجہ اتم اذہان میں متمکن ہو ۔ ولہذا نہ فقط شہنشاہ بلکہ أنت سیدنا کے جواب میں ارشاد فرمایا ’ ألسید اللہ ‘ سید اللہ ہی ہے ۔ ابو الحکم کنیت رکھنے کو منع فرمایا۔

حالانکہ یہ الفاظ و اوصاف غیر خدا کیلئے خود قرآن عظیم و احادیث و اقوال علماء میں بکثرت وارد ۔

وہابیہ و خوارج اسی نکتئہ جلیلہ سے غافل ہو کر شرک شرک و کفر میں پڑے ۔اللہ تعالیٰ تو ’’ إن الحکم اِلاللہ‘‘ حکم اللہ ہی کا ہے ۔ فرماتا ہے ۔ مولیٰ علی نے کیسے ابو موسی کو حکم فرمایا ۔ ( یہ مقولئہ خوارج ہے )

اللہ تعالیٰ تو ’’ إیّاکَ نَسْتَعِیْنُ ‘‘ فرماتا ہے ۔ مسلمانوں نے انبیا و اولیا سے کیسے استعانت کی ۔ اللہ تعالیٰ تو’’ قُلْ لاَ یَعْلَمُ ألآیَۃ ‘‘ فرماتا ہے اہل سنت نے کیسے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیلئے اطلاع غیوب مان لی ۔ ( یہ وہابیہ کے اقوال ہیں )

ان اندھو ں نے نہ جانا کہ وہی خدا ئے تعالیٰ ’’ فَابْعَثُو ا حَکَماً ‘‘ ایک پنچ بھیجو، فرماتا ہے ۔ اور ’’ تَعَاوَنُو عَلی الْبِرِّ وَ التَّقْوٰی ‘‘ اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو ۔ اور ’’إسْتَعِیْنُوا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوۃِ ‘‘اور صبر اور نماز سے مدد چاہو ۔ اور ’’ إلاّ مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَسُوْلٍ‘‘ سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے۔ اور’’ یَجْتَبِی مِنْ رُسُلِہٖ مَنْ یَّشَائُ‘‘ چن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے ۔ اور’’ تِلْکَ مِنْ أنْبَآئِ الْغَیْبِ نُوحِیْہَا إلَیْکَ‘‘یہ غیب کی خبریں ہم تمہار طرف وحی کرتے ہیں ۔اور’’ یُؤمِنُونَ بِالْغَیْبِ ‘‘ بے دیکھے ایمان لائے ۔ وغیرہا فرمارہا ہے ۔ ’’ أفَتُؤمِنُونَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَ تَکْفُرُونَ بِبَعْضٍ‘‘ تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے ہو اور کچھ سے انکار کرتے ہو ۔

خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ۔ اس مقصد کی شرع میں نظیر واقعۂ تحریم خمر ہے۔ کہ ابتدا ء میں نقیر، مزفت ،جرہ، اور حنتم یعنی مضبوط برتنوں میں نبیذ ڈالنے سے منع فرمایا ۔کہ تساہل واقع نہ ہو ۔ جب اسکی حرمت اور اس سے نفرت مسلمانوں کے دلوں میں جم گئی اور اس سے کامل تحفظ و احتیاط نے قلوب میں جگہ پائی توفرمایا: إنّ ظَرْفاً لاَ یُحِلُّ شَیْئاً وَ لاَ یُحَرِّمُہٗ ۔ برتن کسی چیز کو حلال و حرام نہیں کرتا ۔ فقہ شہنشاہ ص ۱۱ تا ۲۴ ملخصا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۰۔ مجمع الزائد للہیثمی، ۸/۱۰۵ ٭ عمدۃ القاری للعینی،

۲۱۔ کنز العمال لعلی المتقی، ۱۶/۵۹۶ ٭ ابن البخار،