اولاد رب کی عطا ہے

ہمارے آقا و مولا ﷺ نے صالح عورت کی چھٹی علامت یہ بیان فرمائی کہ بہتر عورت وہ ہے جو زیادہ بچے جننے والی ہو ،اگر چہ یہ مسئلہ کسی کا اپنا اختیاری نہیں،کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خاندان کی سبھی اناث صاحب اولا د ہوتی ہیں مگر کم نصیبی سے کسی ایک عورت کو کوئی ایسا مرض لاحق ہوجاتا کہ اس کی وجہ سے وہ بانجھ ہوتی ہے تو اس میں عورت کا اپنا کوئی قصور نہیں،اسے کچھ کہا نہیں جا سکتا،کیونکہ یہ اختیار کی بات ہی نہیں ہے جیسا کہ پروردگار عالم کا فرمان ذیشان ہے یجعل من یشآء عقیما اللہ جسے چاہتا ہے بانجھ بناتا ہے، یہ اللہ کی قدرت کی بات ہے،مگر کتنی عورتیں اپنے عیش اور آرام میں خلل نہ آئے اس لئے قصدا اولاد کو روکتی ہیں وہ اس چھٹی علامت سے اپنے آپ کو خارج کر رہی ہیں،اچھی عورتوں کو اللہ کی عطا کے لینے میں تساھل نہیں برتنا چاہیئے،حمل سے ولادت اور ولادت سے پرورش تک کی عبادتوں کا تذکرہ ہم اس موضوع پر کرنے کی کوشش کریں گے انشآء اللہ تعالیٰ