جماعت کی حکمتیں

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اس میںکوئی شک نہیں کہ نماز انسانی زندگی کے تمام گوشوں ، شعبوں ، اور زاویوں پر محیط ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں اجتماعیت کے فروغ میں ہر سطح پر دور رس اثرات رکھتی ہے ۔ فرمان الٰہی :

وَ اَقِیْمُوْ الصَّلٰوۃَ وَ آتُوْا الزَّکَوٰۃَ وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ O

اورنماز قائم کرو ،زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔

اس آیت میں نماز با جماعت کا حکم صراحت کے ساتھ دیا گیا ہے، ایک ’’اقیموا الصلوٰۃ ‘‘ میں اور دوسری جگہ ’’و ارکعوا مع الراکعین‘‘ میں ان دونوں جگہوں پر امر کا صیغۂ جمع استعمال کیا گیا ہے ۔ آیت کے آخری حصہ میں نماز کو ایک جگہ باہمی طور پر ادا کرنے کی تلقین زیادہ وضاحت کے ساتھ موجود ہے ۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو ! گھر کے گوشۂ خلوت کی بجائے نماز پنجگانہ مسجد میں با جماعت ادا کرنے کا حکم اپنے اندر بہت سی حکمتوں کا حامل ہے ۔ چند حکمتیں درج ذیل ہیں :

= پنجگانہ نماز مسجد میں باجماعت ادا کرنے سے مسلمانوں کو دن میں پانچ مرتبہ اکٹھا ہونے کے مواقع میسر آتے ہیں ۔ اس طرح انہیں اہل محلہ کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ کون کس حال میں ہے ؟ قرب و جوار میں کوئی ایسا تو نہیں جو آدھی روٹی کا محتاج ہے ۔ یا تنگی و عسرت یا بیماری کے ہاتھوں پریشانی میں دن کاٹ رہا ہے ۔

= نماز کی یکجائی باہمی قرب و موانست اور محبت کے رشتے مضبو ط و مستحکم کرنے میں ممد و مدد گار بنتی ہے ۔ ایک دوسرے کی خوشی اور غمی اوردکھ سکھ میں شریک ہو کر ہی ایک صحتمند اور صالح معاشرہ کی تعمیر ممکن ہے ۔

= ہمیشہ نماز با جماعت کی ادائیگی سے انسان کے دل میں یہ احساس جاگزیں ہو جاتا ہے کہ جب بغیر کسی شرعی عذرکے گھر کے اندر رہ کر انفرادی سطح پر نماز جیسے فریضہ کی بجا آوری ممکن نہیں ہے تو افراد معاشرہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ کیسے رہ سکتے ہیں ؟ رب قدیرد ہم سب کو نماز با جماعت کا پابند بنائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔

٭٭٭