حدیث نمبر 23

روایت ہے حضرت نافع سے کہ حضرت ابن عمر جب نماز میں داخل ہوتے تو تکبیر کہتے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے اور جب”سمع اﷲ لمن حمدہ”کہتے تو ہاتھ اٹھاتے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے حضرت ابن عمر نے اس کام کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم تک مرفوع کیا ۱؎(بخاری)

شرح

۱؎ ابھی ہم عرض کرچکے کہ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نماز میں رفع یدین نہ کرتے تھے اور یہاں حضرت نافع کی روایت میں آگیا کہ کرتے تھے ان دونوں روایتوں کو جمع کرلو کہ پہلے کرتے تھے بعد میں نہ کرتے تھے یعنی نسخ کے پتہ لگنے پر رفع یدین چھوڑ دیا،از طحاوی۔ فقیر نے”جاءالحق”حصہ دوم میں ر فع یدین نہ کرنے کی پچیس حدیثیں جمع کی ہیں وہاں مطالعہ کرو۔

لطیفہ: مکہ معظمہ میں امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہ کا مسئلہ رفع یدین میں مناظرہ ہوا، امام اوزاعی نے رفع یدین کے لیے حضرت ابن عمر کی حدیث پیش کی، امام اعظم نے جواب دیا کہ مجھ سے حماد نے روایت کی انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے علقمہ اور اسود سے انہوں نے حضرت ابن مسعود سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سوائے تکبیر اولیٰ کے کبھی رفع یدین نہ کرتے اور فرمایا کہ میری حدیث کے تمام راوی بڑے فقیہ و عالم ہیں ،لہذا تمہاری حدیث سے یہ حدیث راجح ہے۔مرقات ،فتح القدیر وغیرہ۔