حدیث نمبر 21

روایت ہے حضرت ابوحمید ساعدی سے ۱؎ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت میں فرمایا کہ میں حضور انور کی نماز کا تم سب سے زیادہ حافظ ہوں میں نے حضورصلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا جب تکبیر کہتے تو اپنے ہاتھ اپنے کندھوں کے مقابل کرتے ۲؎ اورجب رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں سے گھٹنے مضبوط پکڑتے۳؎ پھر اپنی پیٹھ جھکاتے پھر جب سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوجاتے حتی کہ ہر جوڑ اپنی جگہ لوٹ جاتا پھر جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ یوں رکھتے کہ نہ بچھاتے نہ سمیٹتے ۴؎ اور پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ کرتے۵؎ پھر جب دو رکعتوں میں بیٹھتے تو اپنے بائیں پاؤں پر بیٹھتے اور دایاں کھڑا کرتے پھر جب آخری رکعت میں بیٹھتے تو اپنا بایاں پاؤں آگے نکالتے او ر دوسرا پاؤں کھڑا کرتے اور کولہے پر بیٹھتے۶؎(بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام عبدالرحمن یا کچھ اور ہے ،قبیلہ بنی ساعدہ سے ہیں، انصاری ہیں، اپنے گاؤں میں رہتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت کے لیے آتے رہتے تھے اسی لیے اس موقع پر صحابہ نے بطور تعجب پوچھاکہ اے ابوحمید!تم کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت زیادہ میسر نہ ہوئی تم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز سے زیادہ واقف کیسے ہوگئے جیسا کہ ابوداؤد کی روایت میں ہے۔

۲؎ اس طرح کہ ہاتھ کے گٹے کندھوں کے مقابل ہوتے اور انگوٹھے کانوں کے مقابل لہذایہ حدیث مسلم، بارری کی اس روایت کے خلاف نہیں جو ابھی آرہی ہے جس میں یہ ہے کہ حضور انورصلی اللہ علیہ و سلم اپنے ہاتھ کانوں تک اٹھاتے تھے کیونکہ وہاں انگوٹھے مراد ہیں جو لوگ کندھوں سے انگوٹھے لگاتے ہیں وہ اس حدیث پرعمل نہیں کرسکتے،حنفیوں کا عمل اس پر بھی ہے اور اس پر بھی،لہذا یہ حدیث حنفیوں کے بالکل خلاف نہیں،بلکہ موافق ہے۔کانوں تک ہاتھ اٹھانے کی پوری بحث ہماری کتاب “جاءالحق”حصہ دوم میں دیکھوجہاں اس پر بیس حدیثیں بیان کی گئی ہیں۔حدیثوں کو جمع کرنا ضروری ہے نہ کہ کسی حدیث کو چھوڑنا۔

۳؎ اس طرح کہ انگلیاں پھیلا کرگھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑلیتے اور ہاتھوں کو سیدھا رکھتے اور اس پر پیٹھ کا پورا بوجھ دے دیتے،دونوں ہاتھ شریف کمان کی طرح ٹیڑھے نہ کرتے۔

۴؎ یعنی نہ تو سجدے میں زمین پر کہنیاں لگاتے اور نہ بازو پسلیوں سے ملادیتے بلکہ ہاتھوں کو الگ رکھتے۔

۵؎ اس طرح کہ سجدے میں پاؤں کے پورے پنجے جما کر زمین پر رکھتے جس سے پاؤں کی ہر انگلی کا کنارہ قبلہ رخ ہوجاتا۔ خیال رہے کہ پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین سے لگنا فرض ہے اور تین انگلیوں کا پیٹ لگنا واجب،دسوں کا لگنا سنت۔آج عام نمازی اس سے بے خبر ہیں یا تو دونوں پاؤں سجدہ میں اٹھائے رکھتے ہیں یا انگلیوں کی نوک لگاتے ہیں اس سے نماز قطعًا نہیں ہوتی۔

۶؎یہ جملہ امام شافعی کی دلیل ہے وہ دوسری التحیات میں یونہی بیٹھتے ہیں۔اس کا جواب ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ یہ بیٹھنا بڑھاپے شریف یا کسی بیماری وغیرہ ضعف کی حالت میں تھا۔عام حالات میں ہر التحیات میں بائیں پاؤں پر ہی بیٹھتے تھے۔ ہم نے اس طرح بیٹھنے کی اٹھارہ حدیثیں اپنی کتاب”جاء الحق”حصہ دوم میں جمع کی ہیں جن میں سے مسلم شریف کی روایت ابھی گزر گئی اس مسئلہ کا وہاں مطالعہ کرو۔حتی کہ بخاری،ابوداؤد،نسائی،مالک نے عبداﷲابن عبداﷲابن عمر سے روایت کی کہ وہ فرماتے ہیں سنت یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا کرو اور بائیں پاؤں پربیٹھو تو میں نے کہا آپ خود ایسا کیوں نہیں کرتے تو فرمایا میرے پاؤں میرا بوجھ نہیں اٹھاتے۔