حدیث نمبر 22

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے مقابل اٹھاتے ۱؎ اور جب رکوع کی تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی یونہی ہاتھ اٹھاتے اور کہتے”سمع اﷲ لمن حمدہ ربنا لك الحمد”اور سجدے میں یہ نہ کرتے ۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ اس کی شرح ابھی گزر چکی کہ گٹے کندھوں تک رہتے اور انگوٹھے کانوں تک۔

۲؎ اس حدیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے رکوع میں جاتے آتے رفع یدین کیا مگر یہ ذکر نہیں کیا کہ آخر وقت تک کیا۔حق یہ ہے کہ رفع یدین منسوخ ہے۔چنانچہ عینی شرح بخاری میں ہے کہ سیدنا عبداﷲ ابن زبیر نے ایک شخص کو رکوع میں جاتے آتے رفع یدین کرتے دیکھا تو فرمایا ایسا نہ کیا کرو یہ وہ کام ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اولًاکیا تھا پھر چھوڑ دیا ،نیز سیدنا ابن مسعود،عمر ابن خطاب،علی مرتضٰی،براء ابن عازب،حضرت علقمہ وغیرہم بہت صحابہ سے کہ وہ رفع یدین نہ کرتے تھے اور کرنے والوں کو منع کرتے تھے، نیز ابن ابی شیبہ اور طحاوی نے حضرت مجاہد سے روایت کی کہ میں نے حضرت ابن عمر کے پیچھے نماز پڑھی آپ نے سوا تکبیر اولیٰ کے کسی وقت ہاتھ نہ اٹھائے۔معلوم ہوا کہ سیدنا ابن عمر کے نزدیک بھی رفع یدین منسوخ ہے،نیز رسالہ آفتاب محمدی میں ہےکہ حضرت ابن عمر کی حدیث چند روایتوں سے منقول ہے جس میں سے ایک روایت میں یونس ہے جو سخت ضعیف ہے، دوسری اسناد میں ابوقلابہ ہے جو خارجی المذہب تھا(دیکھو تہذیب)،تیسری اسناد میں عبید اﷲ ہےیہ پکا را فضی تھا،چوتھی اسناد میں شعیب ابن اسحاق ہے جو مرجیہ مذہب کا تھا۔غرض کہ رفع یدین کی احادیث کی اکثر اسنادوں میں بدمذہب خصوصًا روافض بہت شامل ہیں کیونکہ یہ ان کا عمل ہے۔ہوسکتا ہے کہ روافض کے تقیہ کی وجہ سے امام بخاری کو بھی پتہ نہ لگاہو،لہذامذہب حنفی نہایت قوی ہے کہ نمازوں میں سوا تکبیرتحریمہ کے اور کہیں رفع یدین نہ کیا جائے۔اس کی پوری تحقیق ہماری کتاب”جاءالحق” حصہ دوم میں دیکھو۔