أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ نَـتَقۡنَا الۡجَـبَلَ فَوۡقَهُمۡ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّظَنُّوۡۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌ ۢ بِهِمۡ‌ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّاذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ (اس طرح) اٹھا لیا تھا گویا کہ وہ ان کے اوپر سائبان ہے اور وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر ضرور گرنے والا ہے (اس وقت ہم نے ان سے کہا تھا) ہم نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لو، اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو، تاکہ تم متقی ہوجاؤ ” ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ (اس طرح) اٹھا لیا تھا گویا کہ وہ ان کے اوپر سائبان ہے اور وہ یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر ضرور گرنے والا ہے (اس وقت ہم نے ان سے کہا تھا) ہم نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑ لو، اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو، تاکہ تم متقی ہوجاؤ “۔

حضرت موسیٰ بنواسرائیل کے پاس تورات کی الواح لے کر آئے اور فرمایا کہ ان کو لو اور ان کی اطاعت کا اقرار کرو، تو انہوں نے کہا جب تک اللہ تعالیٰ آپ کی طرح ہم سے کلام نہیں کرے گا ہم یہ اقرار نہیں کریں گے، پھر وہ بجلی کی ایک کڑک کے ذریعے ہلاک کیے گئے، اور پھر زندہ کیے گئے۔ حضرت موسیٰ نے ان سے پھر تورات کے قبول کرنے کے لیے فرمایا انہوں نے پھر انکار کیا، تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ فلسطین کے پہاڑوں میں سے ایک فرسخ لمبے پہار کو اکھار کر سائبان کی طرح ان پر معلق کردیں، ان کے پیچھے سمندر تھا اور ان کے سامنے سے آگ آرہی تھی، ان سے کہا گیا کہ قسم کھا کر اقرار کرو کہ تم تورات کے احکام پر عمل کروگے ورنہ یہ پہاڑ تم پر گرجائے گا، تب انہوں نے تورات پر عمل کرنے کا پختہ عہد کیا اور توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گرگئے۔ انہوں نے کروٹ کے بل سجدہ کیا تھا اور مارے خوف کے پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے، جب اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا تو انہوں نے کہا اس سجدہ سے افضل کوئی سجدہ نہیں ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور جس کی وجہ سے اپنے بندوں پر رحم فرمایا۔ پھر انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ کروٹ کے بل یعنی ایک شق پر سجدہ کیا کریں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کو خوب کوشش سے لو اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد کرو، یعنی اس میں تدبر اور غور و فکر کرو، اور اس کے احکام کو ضائع نہ کرو، کیونکہ کتابوں کو نازل کرنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ ان کے مقتضی پر عمل کیا جائے، یہ نہیں کہ ان کے معنی پر غور وفکر کیے بغیر ان کی صرف تلاوت کرلی جائے۔ امام نسائی نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ لوگوں میں سب سے بدتر فاسق وہ ہے جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کے کسی حکم کی طرف رجوع نہیں کرتا، اس حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتلا دیا ہے کہ قرآن مجید پڑھنے سے مقصود عمل ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن، ج 7، ص 436 ۔ 43، مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو، ایران، 1387 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 171