أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَنِىۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُهُوۡرِهِمۡ ذُرِّيَّتَهُمۡ وَ اَشۡهَدَهُمۡ عَلٰٓى اَنۡفُسِهِمۡ‌ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّكُمۡ‌ ؕ قَالُوۡا بَلٰى‌ ۛۚ شَهِدۡنَا ‌ۛۚ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنۡ هٰذَا غٰفِلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور (یاد کیجیے) جب آپ کے رب نے بنو آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور ان کو خود ان کے نفسوں پر گواہ کرتے ہوئے فرمایا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! ہم (اس پر) گواہی دیتے ہیں، (یہ گواہی اس لیے لی ہے) تاکہ قیامت کے دن تم یہ (نہ) کہہ دو کہ ہم اس سے بیخبر تھے

تفسیر:

172 ۔ 174:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور (یاد کیجیے) جب آپ کے رب نے بنو آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور ان کو خود ان کے نفسوں پر گواہ کرتے ہوئے فرمایا : کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ! ہم (اس پر) گواہی دیتے ہیں، (یہ گواہی اس لیے لی ہے) تاکہ قیامت کے دن تم یہ (نہ) کہہ دو کہ ہم اس سے بیخبر تھے۔ 172 ۔ یا تم یہ (نہ) کہہ سکو کہ شرک تو ابتداءً ہمارے آباء نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ان کی اولاد ہیں، کیا تو باطل پرستوں کے فعل کی وجہ سے ہمیں ہلاک کرے گا۔ 173 ۔ اور ہم اسی طرح تفصیل سے آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ حق کی طرف لوٹ آئیں۔ 174 ۔۔

بنو آدم سے میثاق لینے کے متعلق احادیث 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ سورة الاعراف کی اس آیت کے متعلق میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا پھر ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا، پھر اس پشت سے اولاد نکالی پھر فرمایا ان کو میں نے جنت کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جنت کے عمل کریں گے۔ پھر ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور ان سے پوچھا یا رسول اللہ ! پھر عمل کس چیز میں ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ جب کسی بندہ کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے اہل جنت کے عمل کراتا ہے، حتی کہ وہ شخص اہل جنت کے اعمال پر مرتا ہے پھر اللہ اس کو جنت میں داخل کردیتا ہے، اور جب کسی بندہ کو دوزخ کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے اہل دوزخ کے عمل کراتا ہے حتی کہ وہ اہل دوزخ کے اعمال پر مرتا ہے پھر اللہ اس کو دوزک میں داخل کردیتا ہے۔

امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3086، سنن ابو داود رقم الحدیث : 4703، موطا امام مالک رقم الحدیث : 1661، مسند احمد ج 1، ص 311، صحیح ابن حبان، رقم الحدیث : 6166 ۔ الشریعہ الاجری، رقم الحدیث : 170، کتاب الاسماء والصفات للبیہقی، ص 325، المستدرک ج 1، ص 37، ج 2، ص 324، ج 2، ص 544، التمہید لابن عبدلبر ج 6، ص 2 ۔ 3)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر (ہاتھ) پھیرا تو ان کی پشت سے ان کی اولاد کی وہ تمام روحیں جھڑ گئیں جن کو وہ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا، اور ان میں سے ہر انسان کی دو آنکھوں آکے درمیان نور کی ایک چمک تھی، پھر وہ سب روحیں حضرت آدم پر پیش کی گئیں۔ حضرت آدم نے کہا اے میرے رب ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تمہاری اولاد ہیں۔ حضرت آدم نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کی آنکھوں کے درمیان کی چمک ان کو بہت پیاری لگی پوچھا اے رب یہ کون ہے ؟ فرمایا یہ تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک شخص ہے اس کا نام داود ہے۔ کہا اے رب ! آپ نے اس کی کتنی عمر رکھی ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال، کہا اے میرے رب ! میری عمر میں سے اس کے چالیس سال زیادہ کردے۔ جب حضرت آدم کی عمر پوری ہوئی تو ان کے پاس ملک الموت آیا۔ حضرت آدم نے کہا کیا ابھی میرے عمر میں سے چالیس سال باقی نہیں ہیں ! انہوں نے کہا کیا آپ نے یہ چالیس سال اپنے بیٹے داود کو نہیں عطا کیے تھے ! پس حضرت آدم نے انکار کردیا تو ان کی اولاد نے بھی انکار کردیا۔ اور آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی اور حضرت آدم نے (اجتہادی) خطا کی تو ان کی اولاد نے بھی خطا کی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3087 ۔ جامع البیان جز 9، ص 155، تفسیر القرآن العظیم البن ابی حاتم ج 5، ص 1614)

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان سے میثالق لیا، ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو ان کی اولاد کو چیونٹوں کی مانند نکالا، پھر ان کی مدت حیات، ان کا رزق اور ان کے مصائب لکھ دیے اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ کیا اور فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں، انہوں نے کہا کیوں نہیں ! (جامع البیان جز 9، ص 150)

محمد بن کعب القرظی نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ روحوں کو ان کے اجسام سے پہلے پیدا کیا (جامع البیان ج 9، ص 157، الدرالمنثور ج 3، ص 599، بحوالہ امام ابن ابی شیبہ)

میثاق لینے کا مقام 

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرتے ہی ان کی پشت سے ان کی اولاد کو نکال کر ان سے عہد لیا تھا۔

امام ابن ابی حاتم، امام ابن مندہ اور امام ابو الشیخ نے کتاب العظمۃ میں اور امام ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا اور اس سے ہر اس روح کو نکالا جس کو وہ قیامت تک پیدا کرنے والا ہے۔ (الدرالمنثور ج 3، ص 601، جامع البیان جز 9 ص 149)

امام احمد، امام النسائی، امام ابن جریر، امام ابن مردویہ، امام حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ اور امام بیہقی نے کتاب الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے یوم عرفہ کے دن وادی نعمان میں آدم (علیہ السلام) کی پشت سے میثاق لیا اور ان کی پشت سے تمام اولاد کو نکالا اور فرمایا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ (الدر المنثور ج 3، ص 601)

علامہ ابوعبداللہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے کہ جس جگہ میثاق لیا گیا تھا اس کی تعیین میں اختلاف ہے اور اس سلسلہ میں چار اقوال ہیں، حضرت ابن عباس سے ایک روایت ہے کہ یہ میثاق عرفہ کی ایک جانب وادی نعمان میں لیا گیا تھا، اور ان سے دوسری روایت یہ ہے کہ سرزمین ہند میں جہاں حضرت آدم (علیہ السلام) کو اتارا گیا تھا وہیں ان سے یہ میثاق لیا گیا تھا۔ کلبی سے روایت ہے کہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ پر یہ میثاق لیا گیا تھا اور یہ کہ جب حضرت آدم کو جنت سے آسمان دنیا کی طرف اتارا گیا تو وہاں ان سے یہ میثاق لیا گیا تھا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7، ص 283، مطبوعہ دار الفکر بیروت، 1415 ھ)

میثاق حضرت آدم کی پشت سے ذریت نکال کرلیا گیا تھا یا بنو آدم کی پشتوں سے 

قرآن مجید کی اس آیت میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے بیٹوں کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکال کر ان سے میثاق لیا اور احادیث میں یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکال کر یہ میثاق لیا۔ اور بہ ظاہر یہ تعارض ہے۔ علامہ آلوسی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت میں جو بنی آدم مذکور ہے اس سے مراد حضرت آدم اور ان کی اولاد ہیں۔ اور اولاد کو ان کی پشتوں سے نکالنے کا معنی یہ ہے کہ بعض لوگ بعض لوگوں سے اپنے اپے زمانہ میں پیدا ہوتے رہیں گے اور حدیث میں صرف حضرت آدم کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ حضرت آدم اصل ہیں اور اصل کا ذکر کرنے کے بعد فرع کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ اصل کا ذکر فرع کے ذکر سے مستغنی کردیتا ہے، اور حدیث میں یہ مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی پشت پر ہاتھ پھیر، اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ ہاتھ پھیرنے والا فرشتہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس لیے اسناد کردیا کہ وہ حکم دینے والا ہے۔ (علامہ آلوسی نے یہ جواب علامہ بیضاوی سے نقل کیا ہے)

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ حدیث کا یہ معنی نہیں کہ تمام اولاد کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے بالذات نکالا، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جو اولاد ان سے بالذات اور براہ راست پیدا ہوئی اس کو نکالا اور پھر ان کے بیٹوں کی پشت سے ان کی براہ راست پیدا ہونے والی اولاد کو نکالا اور چونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) مظہر اصلی تھے اس لیے کل اولاد کا اسناد ان کی طرف کردیا، خلاصہ یہ ہے کہ تام اولاد کو تفصیلاً حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کی پشت سے نکالا گیا اور اجمالاً حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا گیا۔ قرآن مجید میں تفصیلاً بیٹوں کی پشت سے تمام اولاد کو نکالنے کا ذکر ہے اور حدیث میں حضرت آدم کی پشت سے تمام اولاد کو اجمالاً نکالنے کا ذکر ہے۔

امام رازی نے یہ فرمایا ہے کہ اس میں کوئی استبعاد نہیں ہے کہ دو مرتبہ میثاق لیا گیا ہو ایک مرتبہ حضرت آدم کی پشت سے تمام اولاد کو نکال کر میثاق لیا گیا ہو اور دوسری بار ان کے بیٹوں کی پشت سے اولاد کو نکال کر میثاق لیا گیا ہو۔ قرآن مجید میں حضرت آدم کے بیٹوں کی پشتوں سے اولاد کو نکال کر میثاق لینے کا ذکر ہے اور حدیث میں حضرت آدم کی پشت سے اولاد کو نکال کر ان سے میثاق لینے کا ذکر ہے۔؎

میثاق کے حجت ہونے پر ایک اور اشکال کا جواب 

اس آیت میں یہ فرمایا ہے : (یہ گواہی اس لیے لی ہے) تاکہ قیامت کے دن تم یہ (نہ) کہہ دو کہ ہم سے سے بیخبر تھے۔

اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اگر یہ اقرار اضطراری تھا بایں طور کہ ان پر حقیقت واقع منکشف کردی گئی تھی اور انہوں نے عین الیقین سے مشاہدہ کرلیا تھا تو ان کے لیے جائز ہوگا کہ وہ قیامت کے دن یہ کہہ دیں کہ ہم نے اس وقت اقرار کیا تھا جب ہم پر یہ حقیقت منکشف کردی گئی تھی اور جب ہم سے یہ انکشاف زائل کردیا گیا اور ہم کو ہماری آراء کے حوالے کردیا گیا تو ہم میں سے بعض صحت اور صواب کو پہنچے اور بعض سے خطا ہوئی، اور اگر انہوں نے اس دن نظر اور فکر سے استدلال کیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید سے صحت اور صواب کو پہنچ کر اقرار کیا تھا تو وہ قیامت کے دن یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح پہلے دن ہماری نصرت اور تائید کی گئی تھی اگر بعد میں بھی ہمیں یہ نصرت اور تائید حاصل ہوتی تو بعد میں بھی ہم اسی طرح اللہ تعالیٰ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دیتے اور شرک نہ کرتے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ان سے اپنی ربوبیت کا میثاق لیا تھا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں ایسی عقل اور بصیرت رکھ دی تھی جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور معرفت کے ادراک پر قادر تھے۔

اس اعتراض کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ اقرار اضطراری تھا اور حقیقت واقعی ان پر منکشف کردی گئی تھی۔ لیکن ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ دنیا میں جسمانی تولد کے بعد ان کو ان کی آراء کے حوالے کردیا گیا تھا۔ ان سے کہا جائے گا کہ اے جھوٹو ! تم کو تمہاری آراء کے حوالے کب کیا گیا تھا کیا ہم نے تمہارے پاس اپنے نبی اور رسول نہیں بھیجے تھے جو تم کو خواب غفلت سے جگا رہے تھے اور تم کو اس عہد اور میثاق کی یاد دلا رہے تھے۔ اللہ ت عالیٰ نے اپنی ربوبیت اور وحدانیت پر اور اپنے رسولوں کے صدق پر دلائل قائم کردیے ہیں اور جب رسولوں نے یہ بتادیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے ازل میں یہ میثاق لیا تھا اور ان کا صدق معجزہ سے ثابت ہوچکا ہے تو اب جو شخص اس میثاق کا انکار کرے گا وہ معاند ہوگا اور اس عہد کا توڑنے والا ہوگا اور مخبر صادق کی خبر کے بعد اس کے بھول جانے اور یاد نہ رہنے کا عزر معتبر نہیں ہوگا۔ 

کیا یہ میثاق کسی کو یاد ہے ؟

علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں : ذی النون سے پوچھا گیا کیا آپ کو یہ میثاق یاد ہے ؟ انہوں نے کہا گویا کہ اب بھی میرے کانوں میں اس عہد اور میثاق کی اواز آرہی ہے اور بعض عارفین نے یہ کہا کہ لگتا ہے کہ یہ میثاق کل لیا گیا تھا۔ (روح المعانی ج 9، ص 106، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اصل کائنات ہونا 

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں : 

بعض اہل اللہ نے یہ کہا ہے کہ جب حضرت آدم کی پشت سے ان کی اولاد کے ذروں کو نکالا گیا تو سب سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذرہ نے جواب دیا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں سے یہ فرمایا : ” ائتیا طوعا او کرھا قالتا اتینا طائعین : خوشی یا ناخوشی سے دونوں حاضر ہوجاؤ (تو) دونوں نے کہا ہم خوشی سے حاضر ہوئے ” (حم السجدہ :41) ۔ اس وقت زمین کے جس ذرہ نے سب سے پہلے جواب دیا تھا وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذرہ تھا۔ اور یہ کعبہ کی مٹی کا ذرہ تھا اور سب سے پہلے زمین کا یہی حصہ بنایا گیا تھا، پھر اسی کو پھیلایا گیا جیسا کہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے اور جب آپ کی تربت (مٹی) شریفہ کعبہ کی مٹی تھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مدفن بھی مکہ میں ہونا چاہیے تھا، کیونکہ روایت ہے کہ جس جگہ کی مٹی سے انسان بنایا جاتا ہے اسی جگہ اس کا مدفن ہوتا ہے، لیکن کہا گیا ہے کہ جب طوفان آیا تھا تو ایک جگہ کی مٹی دوسری جگہ پہنچ گئی تھی اور مٹی کا وہ مبارک اور پاک ذرہ جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مبدء تھا اس جگہ پہنچ گیا جہاں اب مدینہ منورہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مدفن اقدس ہے۔ اور اس کلام سے یہ مستفاد ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تخلیق کی اصل ہیں اور تمام کائنات آپ کی تابع ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ چونکہ آپ کا ذرہ تمام مخلوق کی ام (اصل) ہے اسی وجہ سے آپ کا لقب امی ہے۔ (روح المعانی ج 9، ص 111، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 172