بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

یہ سورت مدنی ہے بجُز سات آیتوں کے جو مکۂ مکرّمہ میں نازِل ہوئیں اور ” اِذْیَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ” سے شروع ہوتی ہیں ۔ اس میں پچھتّر آیتیں اور ایک ہزار پچھتّر کلمے اور پانچ ہزار اسی حرف ہیں ۔

یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِؕ -قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِۚ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِكُمْ۪-وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱)

اے محبوب تم سے غنیمتوں کو پوچھتے ہیں(ف۲) تم فرماؤ غنیمتوں کے مالک اللہ و رسول ہیں (ف۳) تو اللہ سے ڈرو (ف۴) اور اپنے آپس میں میل (صلح صفائی)رکھو اور اللہ و رسول کا حکم مانو اگر ایمان رکھتے ہو

(ف2)

شانِ نزول : حضرت عُبادہ بن صامِت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت ہم اہلِ بدر کے حق میں نازِل ہوئی جب غنیمت کے معاملہ میں ہمارے درمیان اختلاف پیدا ہوا اور بدمزگی کی نوبت آگئی تو اللہ تعالٰی نے معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکال کر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کیا آپ نے وہ مال برابر تقسیم کردیا ۔

(ف3)

جیسے چاہیں تقسیم فرمائیں ۔

(ف4)

اور باہم اختلاف نہ کرو ۔

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚۖ(۲)

ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے (ف۵) ان کے دل ڈرجائیں اور جب اُن پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں (ف۶)

(ف5)

تو اس کے عظمت و جلال سے ۔

(ف6)

اور اپنے تمام کاموں کو اس کے سپرد کریں ۔

الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَؕ(۳)

وہ جو نماز قائم رکھیں اور ہمارے دئیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کریں

اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّاؕ-لَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ مَغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌۚ(۴)

یہی سچے مسلمان ہیں ان کے لیے درجے ہیں ان کے رب کے پاس (ف۷) اور بخشش ہے اور عزت کی روزی (ف۸)

(ف7)

بقدر ان کے اعمال کے کیونکہ مؤمنین کے احوال ان اوصاف میں متفاوَت ہیں ۔ اس لئے ان کے مراتب بھی جُدا گانہ ہیں ۔

(ف8)

جو ہمیشہ اِکرام و تعظیم کے ساتھ بے محنت و مشقت عطا کی جائے ۔

كَمَاۤ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَیْتِكَ بِالْحَقِّ۪-وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَكٰرِهُوْنَۙ(۵)

جس طرح اے محبوب تمہیں تمہارے رب نے تمہارے گھر سے حق کے ساتھ برآمد کیا(ف۹) اور بے شک مسلمانوں کا ایک گروہ اس پر ناخوش تھا(ف۱۰)

(ف9)

یعنی مدینہ طیّبہ سے بدر کی طرف ۔

(ف10)

کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ انکی تعداد کم ہے ، ہتھیار تھوڑے ہیں ، دشمن کی تعداد بھی زیادہ ہے اور وہ اسلحہ وغیرہ کا بڑا سامان رکھتا ہے ۔

مختصر واقعہ یہ ہے کہ ابو سفیان کے مُلکِ شام سے ایک قافلہ ساتھ آنے کی خبر پا کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ انکے مقابلہ کے لئے روانہ ہوئے ، مکّہ مکرّمہ سے ابو جہل قریش کا ایک لشکر گراں لے کر قافلہ امداد کے لئے روانہ ہوا ۔ ا بوسفیان تو رستہ سے کترا کر مع اپنے قافلہ کے ساحلِ بحر کی راہ چل پڑے اور ابو جہل سے اس کے رفیقوں نے کہا کہ قافلہ تو بچ گیا اب مکّۂ مکرّمہ واپس چل تو اس نے انکار کردیا اور وہ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے قصد سے بدر کیطرف چل پڑا ۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالٰی کُفّار کے دونوں گروہوں میں سے ایک پر مسلمان کو فتح مند کرے گا خواہ قافلہ ہو یا قریش کا لشکر ۔ صحابہ نے اس میں موافقت کی مگر بعض کو یہ عُذر ہوا کہ ہم اس تیاری سے نہیں چلے تھے اور نہ ہماری تعداد اتنی ہے ، نہ ہمارے پاس کافی سامانِ اسلحہ ہے ۔ یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گراں گزرا اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قافلہ تو ساحل کی طرف نکل گیا اور ابو جہل سامنے آ رہا ہے ۔ اس پر ان لوگوں نے پھر عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیک وسلم قافلے ہی کا تعاقُب کیجئے اور لشکرِ دشمن کو چھوڑ دیجئے ، یہ بات ناگوارِ خاطرِ اقدس ہوئی تو حضرت صدیقِ اکبر و حضرتِ عمر رضی اللہ عنہما نے کھڑے ہو کر اپنے اخلاص و فرمانبرداری اور رضا جُوئی و جاں نثاری کا اظہار کیا اور بڑی قوت و استحکام کے ساتھ عرض کی کہ وہ کسی طرح مرضیٔ مبارک کے خلاف سُستی کرنے والے نہیں ہیں پھر اور صحابہ نے بھی عرض کیا کہ اللہ تعالٰی نے حضور کو جو امر فرمایا اس کے مطابق تشریف لے چلیں ہم ساتھ ہیں ،کبھی تخلُّف نہ کریں گے ، ہم آپ پر ا یمان لائے ، ہم نے آپ کی تصدیق کی ، ہم نے آپ کے اِتِّباع کے عہد کئے ،ہمیں آپ کی اِتِّباع میں سمندر کے اندر کُود جانے سے بھی عذر نہیں ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا چلو اللہ کی برکت پر بھروسہ کرو اس نے مجھے وعدہ دیا ہے میں تمہیں بشارت دیتا ہوں ،مجھے دشمنوں کے گرنے کی جگہ نظر آ رہی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے کُفّار کے مرنے اور گرنے کی جگہ نام بنام بتا دیں اور ایک ایک کی جگہ پر نشانات لگادیئے اور یہ معجزہ دیکھا گیا کہ ان میں سے جو مر کر گرا اسی نشان پر گرا اس سے خطا نہ کی ۔

یُجَادِلُوْنَكَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ كَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَؕ(۶)

سچّی بات میں تم سے جھگڑتے تھے (ف۱۱) بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکی (ف۱۲) گویا وہ آنکھوں دیکھی موت کی طرف ہان کے جاتے ہیں(ف۱۳)

(ف11)

اور کہتے تھے کہ ہمیں لشکرِ قریش کا حال ہی معلوم نہ تھا کہ ہم ان کے مقابلہ کی تیاری کرکے چلتے ۔

(ف12)

یہ بات کہ حضرت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کرتے ہیں حکمِ الٰہی سے کرتے ہیں اور آپ نے اعلان فرمادیا ہے کہ مسلمانوں کو غیبی مدد پہنچے گی ۔

(ف13)

یعنی قریش سے مقابلہ انہیں ایسا مُہِیب معلوم ہوتا ہے ۔

وَ اِذْ یَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّآىٕفَتَیْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ یَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِیْنَۙ(۷)

اور یاد کرو جب اللہ نے تمہیں وعدہ دیا تھا کہ ان دونوں گروہوں (ف۱۴) میں ایک تمہارے لیے ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں وہ ملے جس میں کانٹے کا کھٹکا (کسی نقصان کا ڈر)نہیں(ف۱۵) اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے کلام سے سچ کو سچ کر دکھائے(ف۱۶) اور کافروں کی جڑ کاٹ دے(ہلاک کر دے) (ف۱۷)

(ف14)

یعنی ابو سفیان کے قافلے اور ابو جہل کے لشکر ۔

(ف15)

یعنی ابوسفیان کا قافلہ ۔

(ف16)

دینِ حق کو غلبہ دے اس کو بلند و بالا کرے ۔

(ف17)

اور انہیں اس طرح ہلاک کرے کہ ان میں سے کوئی باقی نہ بچے ۔

لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَ یُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ(۸)

کہ سچ کو سچ کرے اور جھوٹ کو جھوٹا (ف۱۸) پڑے بُرا مانیں مجرم

(ف18)

یعنی اسلام کو ظہور و ثبات عطا فرمائے اور کُفر کو مٹائے ۔

اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ(۹)

جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے (ف۱۹) تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزار فرشتوں کی قطار سے(ف۲۰)

(ف19)

شانِ نُزُول : مسلم شریف کی حدیث ہے روزِ بدر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کو ملاحَظہ فرمایا کہ ہزار ہیں اور آپ کے اصحاب تین سو دس سے کچھ زیادہ تو حضور قبلے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے مبارک ہاتھ پھیلا کر اپنے ربّ سے یہ دعا کرنے لگے ، یا ربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے پورا کر ، یاربّ جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا عنایت فرما ، یاربّ اگر تو اہلِ اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردے گا تو زمین میں تیری پرستِش نہ ہوگی ۔ اسی طرح حضور دعا کرتے رہے یہاں تک کہ دوشِ مبارک سے چادر شریف اُتر گئی تو حضرت ابوبکر حاضر ہوئے اور چادر مبارک دوشِ اقدس پر ڈالی اور عرض کیا یا نبیَ اللہ آپ کی مناجات اپنے ربّ کے ساتھ کافی ہوگئی ، وہ بہت جلد اپنا وعدہ پورا فرمائے گا ۔ اس پر یہ آیتِ شریفہ نازِل ہوئی ۔

(ف20)

چنانچہ اوّل ہزار فرشتے آئے پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مسلمان اس روز کافِروں کا تعاقُب کرتے تھے اور کافِر مسلمانوں کے آگے آگے بھاگتا جاتا تھا اچانک اوپر سے کوڑے کی آواز آتی تھی اور سوار کا یہ کلمہ سنا جاتا تھا ” اَقْدِمْ حَیْزومُ ” یعنی آگے بڑھ اے حیزوم ( حیزوم حضرت جبریل علیہ السلام کے گھوڑے کا نام ہے) اور نظر آتا تھا کہ کافِر گر کر مر گیا اور اس کی ناک تلوار سے اُڑا دی گئی اور چہرہ زخمی ہوگیا ۔ صحابہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے یہ معائنے بیان کئے تو حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسمان سوم کی مدد ہے ۔ ابوجہل نے حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کہاں سے ضرب آتی تھی ؟ مارنے والا تو ہم کو نظر نہیں آتا تھا آپ نے فرمایا فرشتوں کی طرف سے تو کہنے لگا پھر وہی تو غالب ہوئے تم تو غالب نہیں ہوئے ۔

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى وَ لِتَطْمَىٕنَّ بِهٖ قُلُوْبُكُمْۚ-وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠(۱۰)

اور یہ تو اللہ نے کیا مگر تمہاری خوشی کو اور اس لیے کہ تمہارے دل چین پائیں اور مدد نہیں مگر اللہ کی طرف سے(ف۲۱) بے شک اللہ غالب حکمت والا ہے

(ف21)

تو بندے کو چاہئے کہ اسی پر بھروسہ کرے اور اپنے زور و قوّت اور اسباب و جماعت پر ناز نہ کرے ۔