قسمت مری چمکائی ہے طیبہ میں بلاکر 

قسمت مری چمکائی ہے طیبہ میں بلاکر 

جھولی مری بھر دی ہے مدینے میں بلاکر 

تم داتا سخی ہو ،اور میں ادنیٰ بھکاری 

حسنین کا صدقہ دو زرا ہاتھ اٹھا کر 

دربار کا منگتا ہوں رہوں در ہی کا منگتا 

رکھنا مرے شاہا ! مجھے اپنا ہی بناکر

اپنی ہی نگاہوں میں سمائے رکھنا 

اِس بیکس و مجبور کو اعداء سے بچاکر 

کہہ دیجئے شامل ہے غلاموں میں تو شاکر 

بیٹھا ہوں میں چوکھٹ پر یہ امید لگا کر 

عامل ہوں میں جائو ک کا اے شاہِ مدینہ 

بخشش کی کریں پھر سے دعا لب کو ہلا کر 

جب حشر میں شاکر ہو پریشاں تو حضور 

رکھ لینا اسے اپنے ہی دامن میں حضور 

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.