منافقین زمانہ کے اعتراضات

دور حاضر کے منافقین یعنی وہابی ، نجدی ، دیوبندی ، اور تبلیغی فرقۂ باطلہ کے مبلغین و مقررین اپنے جہالت سے لبریز بیان اور تقریر جو در اصل تقریر نہیں بلکہ تفریق بین المسلمین ہوتی ہے ۔ بڑے تپ و تپاک سے اودھم مچاتے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ کی عصمت و پاک دامنی کے سلسلہ میں حضور نے ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصہ تک سکوت کیوں فرمایا ؟ آپ نے فی الفور ان کی برات کا اعلان کیوں نہ کر دیا ؟ بلکہ وحی کے منتظر رہے ۔ اور جب وحی آئی تب آپ نے برأت کا اعلان فرمایا ۔ اس سے پتہ چلا کہ آپ کو علم غیب نہیں تھا ۔ اگر علم غیب ہوتا تو آپ فوراً برأت کا اعلان کردیتے۔ ( معاذ اللہ )

بس یہی ہے ان کے دعوی کی دلیل و برہان ۔ مشیت ایزدی اور حکمت الہیہ کے رموز کو سمجھنے سے یک لخت قاصر وعاجز ہونے کی وجہ سے ایسی بے ڈھنگی بات کہہ رہے ہیں ۔ حالانکہ اس واقعہ کے پردے میں اللہ تعالی کی کئی حکمتیں پوشیدہ تھیں اور ان تمام حکمتوں سے اللہ نے اپنے محبوب اعظم ﷺ کو آگاہ فرما دیا تھا ۔ اسی وجہ سے آپ نے سکوت فرمایا تھا۔ کچھ وجوہات ذیل میں عرض ہیں ۔

حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر منافقین کی طرف سے تہمت لگائی گئی تھی ، منافق اس کو کہتے ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو لیکن دل سے وہ مومن نہیں ہوتا ۔ زبان سے تو قسمیں کھا کھا کر حضور اقدس ﷺ کو اللہ کا رسول ہونے کا اقرار کرتے تھے لیکن پیٹھ کے پیچھے حضور کی شان میں نا زیبا کلمات کہہ کر آپ کی گستاخی کرتے تھے اور آپ کو جھٹلاتے تھے ۔منافقین کی ان دو غلی باتوں کا اللہ نے پردہ فاش فرماتے ہوئے قرآن مجید میں ایک مکمل سورۃ بنام ’’ منافقون ‘‘ نازل فرمائی ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے :

’’ إذَا جَا ٓئَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوا نَشْھَدُ إنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ إنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَ اللّٰہُ یَشْھَدُ إنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ ‘‘ ( پارہ ۲۸ ۔ سورہ منافقون ۔ آیت ۱)

ترجمہ: ’’جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں ،کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقینا اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں ‘‘ (کنزاالایمان)

ان منافقین کی ایک خصلت کا ذکر قرآن شریف میں اس طرح ہے کہ :

’’إذَا لَقُوا الَّذِیْنَ آمَنُوْا قَالُوْا آمَنَّا وَ إذَا خَلَوْا إلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ قَالُوْا إنَّا مَعَکُمْ إنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِؤُنَ‘‘ ( پارہ ۱۔ سورئہ البقرۃ ، آیت ۱۴)

ترجمہ: ’’ اور جب ایمان والوں سے ملیں ، تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں، تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو یوں ہی ہنسی کرتے ہیں ۔‘‘ ( کنز الایمان شریف )

رسول کے ماننے میں اور ایمان کے اقرار میں منافقین دو غلی بولی بولتے ہیں اور ان کے اقرار و ایمان کا کچھ بھی اعتبار نہیں ۔ اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے کہ منافقین ضرور جھوٹے ہیں ۔ منافق کو صرف جھوٹا نہیں بلکہ’’ ضرور جھوٹا‘‘ کہا گیا ہے ۔ یعنی ان کا جھوٹ اتنا عام ہے کہ ان سے صدق کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی ۔ منافقوں کی بے حیائی اور بے شرمی کا یہ حال تھا کہ ابھی انکار اور ابھی رجوع ۔ بلکہ دن کے اجالے کو رات کی اندھیری کہہ دینے میں بھی ان کو کوئی جھجک محسوس نہیں ہوتی تھی۔ رسول اکرم ﷺ کو جھٹلاتے تھے، آپ کی تکذیب کرتے تھے ،آپ کے بین معجزات کو معاذ اللہ جادو اور سحر کہتے تھے ۔ لہذا ان جھوٹوں کے سامنے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی برأت کا اعلان کرنا بے سود تھا ۔ اگر حضور اقدس ﷺ اپنی طرف سے حضرت عائشہ کی برأت کا اعلان فرماتے، تو منافقین ایک الزام یہ گڑھتے کہ دیکھو! اپنی بیوی کا دفاع کر رہے ہیں ، زوجیت کی بناء پر طرفداری کر رہے ہیں، اپنی بیوی کے عیب پر پردہ ڈال رہے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ ۔