خلوص سب سے قیمتی ہوتا ہے لباس نہیں!!

غلام مصطفےٰ نعیمی

مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

gmnaimi@gmail.com

اوریٹری کلب سامعین سے کھچاکھچ بھرا تھا…آج کلب میں “اسلامی مساوات” کے عنوان پر ملک کے معروف سوشل ورکر نوید قمر صاحب کا خطاب تھا. نوید صاحب جہاں نبض شناس اسپیکر کے طور پر متعارف ہیں…وہیں سوشل ورکر کے طور پر بھی شناخت رکھتے ہیں.

نوید صاحب کی خطابت کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا…الفاظ کا انتخاب، لہجے کی چاشنی اور سلیقہ مندی سے بیان کردہ نکات پر سامعین عش عش کر اٹھے…مجمع نوید صاحب کی خطابت کا اسیر ہوچکا تھا…تقریر مکمل ہوتے ہی مصافحہ کرنے والوں کی لائن لگ گئی…. نوید صاحب ہاتھ ملاتے اور داد وصولتے رہے….اچانک نوید صاحب کا ہاتھ کسی کھردری چیز سے چھو گیا….نگاہ اٹھا کر دیکھا تو سامنے حمید عقیدت و احترام سے مصافحہ کے لئے کھڑا تھا….حمید ایک مزدور تھا مگر اسے علمی محفلوں کا بڑا شوق تھا….ٹھیلہ لئے کلب سے گزر رہا تھا کہ نوید صاحب کی آمد کا معلوم ہوا…. بس ٹھیلہ کنارے لگایا اور ہال جاکر پوری تقریر سنی…عقیدت سے ہاتھ بھی ملایا مگر پیشے کی محنت نے ہاتھوں پر نقوش چھوڑ دئے تھے….بچپن کے ساتھ ہی ہاتھوں کی نرمی بھی گزرے دنوں کی بات تھی…. اب تو ٹھیلہ کھینچتے کھینچتے ہاتھ سخت پتھر کی طرح ہوچکے تھے… حمید نے جتنی عقیدت سے مصافحہ کیا…نوید صاحب نے اتنی ہی حقارت سے ہاتھ جھٹک دیا…حمید کے کپڑے بھی قدرے میلے تھے…مزید دھوپ میں ٹھیلہ کھینچنے کی وجہ سے کپڑوں پر پسینے کے نشانات صاف نظر آرہے تھے…کھر درے پن کی وجہ سے ہی نوید صاحب نے ہاتھ جھٹک دیا تھا… اب جو حمید کا سراپا دیکھا تو غضب ناک لہجے میں بولے:

“گنوار، گنوار ہی ہوتا ہے… پہننے کا شعور ، نہ نہانے کا خیال، کہیں بھی گھس جاتے ہیں… اور اپنی کثافت سے ماحول تعفن زدہ کر دیتے ہیں”

حمید رونی سی صورت لئے سوچ رہا تھا ابھی جو شخص اسلامی مساوات پر اس قدر خوب صورت گفتگو کر رہا تھا…وہ عملی طور پر کس بے دردی سے مساوات کی دھجیاں بکھیر رہا ہے….سر جھکائے محفل سے نکلا اور ٹھیلہ کھینچتے ہوئے شہر کی گلیوں میں گم ہوگیا !!

ہمارے آس پاس ایسے کتنے ہی نوید بستے ہیں جو لکھنے ، بولنے کی حد تک بڑے مہذب ، اخلاق مند اور پیکر مساوات نظر آتے ہیں لیکن میلے کپڑے والے کسی غریب مزدور کو دیکھتے ہوئے ان کا مفروضہ تہذیب وتمدن اور فکر مساوات صبح کاذب کی طرح غائب ہوجاتی ہے…چہرہ غضبناک ، لہجہ آتش فشاں اور آنکھیں شرارے برسانے لگتی ہیں… حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا طرز عمل بڑا پیارا اور نہایت سادہ سا تھا….غنی ہو یا فقیر ، امیر ہو یا مزدور، سب کے ساتھ ایک سا سلوک فرماتے… حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ زاہر بن حرام نامی ایک دیہاتی تھے… حضور ﷺ سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے…خود حضور کو بھی زاہر بن حرام سے بے حد انس تھا…. آپ فرماتے تھے:

إنَّ زاهرًا باديتنا، ونحن حاضروه.(رواہ احمد 3/161)

“زاہر ہمارا بادیہ نشیں ہے اور ہم اس کے شہری دوست ہیں”

زاہر حب بھی مدینہ آتے تو حضور کے لئے پنیر ، گھی وغیرہ لیکر آتے…واپسی میں حضور بھی انہیں تحائف دیکر رخصت فرمایا کرتے…ایک مرتبہ وہ حاضر ہوئے تو سرکار گھر پر نہ ملے… وہ سامان بیچنے بازار چلے گئے….حضور کو جب زاہر کی خبر ملی تو آپ تلاشتے ہوئے بازار پہنچ گئے…ایک جگہ زاہر نظر آئے…دھوپ کی شدت سے کپڑے پسینے سے شرابور اور جسم گرد آلود تھا… حضور پیچھے سے آئے اور خوش طبعی فرماتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے زاہر کی آنکھیں بند کردیں.

زاہر نے پوچھا کون ہے؟

مگر حضور خاموش رہے…زاہر نے پھر پوچھا مگر حضور بدستور خاموش رہے حتی کہ زاہر نے کنکھیوں سے آپ کو پہچان لیا…بس فرط محبت میں آپ کے ہاتھوں کی گرفت میں مچلنے لگے.حضور نے از رہِ مزاح فرمایا:

من يشتري العبد؟

“یہ غلام کون خریدے گا؟

یہ سن کر زاہر بن حرام عرض کرتے ہیں حضور!

تب تو آپ بہت کم قیمت ملیگی کیوں کہ میں بڑا معمولی غلام ہوں ، بازار میں کوئی میری اچھی قیمت نہیں دے گا !!

جواباً سرکار نے ارشاد فرمایا:

لكن عند الله لست بكاسد.أو قال: لكن عند الله أنت غال.

“زاہر اللہ کے نزدیک تم کم قیمت نہیں ہو ….اللہ کے نزدیک تم بڑی قیمت والے ہو”

دوستان محترم !!

حضور نبی اکرم ﷺ کا طرز عمل دیکھیں کہ زاہر کو تلاشنے بازار تک جاتے ہیں… پسینے سے شرابور ، گردو غبار سے آلود شخص سے اسی خوش مزاجی اور اپنائیت سے ملتے ہیں جیسا روسائے عرب سے ملتے… سرکار مدینہ کے یہی وہ اخلاق تھے کہ غربا ومساکین آپ کی طرف بے اختیار کھنچے آتے تھے.

آج لوگ لباس اور دنیوی رتبہ دیکھ کر بات کرتے ہیں… اچھے مکان ، بڑی گاڑیوں سے انسان کا درجہ طے کیا جاتا ہے…لیکن اچھے کپڑوں سے انسان قیمتی نہیں ہوتا… خلوص ہی انسان کو قیمتی بناتا ہے… اس لئے کسی انسان کو اس کے کپڑوں سے نہیں اس کے خلوص ومحبت سے جانچیں تاکہ معاشرے سے اونچ نیچ کا فرق مٹے… مساوات عام ہو… مسلمان، مسلمان حقیقی بھائی نظر آئیں…

در نگاہے او یکے بالا و پست

با غلامِ خویش بریک خواں نشست

24 جمادی الاخری 1441ھ

18 فروری 2020 بروز منگل