دو لفظوں کو آپس میں ملانے کے لیے جو ” و ” استعمال ہوتی ہے ، اِسے وَاو عاطِفَہ کہتے ہیں ۔

اردو زبان میں واو عاطفہ ہر دو الفاظ کے درمیان نہیں آتی بلکہ:

1: جن دو الفاظ کے درمیان واو عاطفہ لانی ہو وہ دونوں واحد ہونے چاہییں ، یا جمع ۔

ایک‌واحد اور ایک‌جمع ہو تو واو عاطفہ نہیں لائیں گے ۔

مثلاً:

حقوق و فرض ، یا حق و فرائض لکھنا غلط ہے ؛ درست: ” حقوق و فرائض ” ہے ۔

گل و بلبلیں لکھنا غلط ہے ، درست: گُل و بلبل‌ ہے ۔

2: جن دو الفاظ کے درمیان واو عاطفہ آئے گی ، وہ دونوں الفاظ فارسی ہونے چاہییں ، یا عربی ؛ یا ایک فارسی اور دوسرا عربی ، یا ایک فارسی اور دوسرا تُرکی ۔

اگر ایک‌ اردو اور دوسرا فارسی یا عربی ہو تو واو عاطفہ نہیں آئے گی ۔

مثلاً:

¹ اَرض و سَما: دونوں الفاظ عربی ہیں ۔

² اُمید و بِیم : دونوں فارسی ہیں ۔

³ اُمِید و یاس: ایک لفظ فارسی اور دوسرا عربی ہے ۔ ( امید فارسی ، اور یاس عربی )

یہ ترکیب بالکل درست ہے ، جب کہ:

رنگ و روپ کہنا درست نہیں ، کیوں کہ روپ اردو لفظ ہے ، اور رنگ فارسی ۔

اردو زبان کا حرفِ عطف واو نہیں ” اور ” ہے ؛ اس لیے یہ ترکیب اس طرح ہونی چاہیے:

رنگ اور روپ ، یا رنگ ، روپ ۔

جیسے کسی نے اس شعر میں باندھا ہے ؎

پیسا ہی رنگ روپ ہے ، پیسا ہی مال ہے

پیسا نہ‌ہو تو آدمی چرخے کی‌مال ہے

( چرخے کی مال اُس ڈورے کو کہتے ہیں جو چرخے پر گھومتا رہتا ہے ، اور اس بیچارے کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا )

اسی طرح پھول و بلبل کہنا بھی درست نہیں ، کیوں کہ بلبل عربی لفظ ہے اور پھول اردو ۔

اسے یا تو گل و بلبل کہیں گے ( ایک فارسی اور دوسرا عربی ) یا پھر پھول اور بلبل کہیں گے ۔

3: علم عروض میں واو عاطفہ کا اسقاط جائز اختیاری ہے ، شاعر چاہے تو اِسے گرا سکتا ہے اور چاہے تو قائم رکھ سکتا ہے ۔

حالی پانی پتی کے دوشعر ہیں ، پہلے میں واو عاطفہ قائم ہے ، اور دوسرے میں ساقط ۔ ؎

¹ حِجازی امیروں کے گھر جاکے دیکھے

خِلافت کے زیر و زَبَر جاکے دیکھے

² کوئی قرطبہ کے کھنڈر جاکے دیکھے

مساجِد کے دیوار و دَر جاکے دیکھے

✍️لقمان شاہد

15-2-20ع