⚡ ایک مُلحد کے کیے گئے چند اعتراضات کے جوابات ⚡

✍🏻 محمد شعیب صفدر

( علماے کرام جو غلطی پائیں، مطلع فرمائیں!)

❶… (کیا آپ کے خدا کو کائنات کا علم تھا؟)

جواب: بہتر تھا کہ عقائد کی کسی بنیادی کتاب کا ہی مطالعہ کر لیتے…. تو یہ دن نہ دیکھتے…. مسلمانوں کا تو بنیادی عقیدہ ہے کہ

” اُس (ﷲ ﷻ) کا علم ہر شے کو محیط یعنی جزئیات، کلیات، موجودات، معدومات، ممکنات، مُحالات، سب کو اَزل میں جانتا تھا اور اب جانتا ہے اور اَبَد تک جانے گا، اشیاء بدلتی ہیں اور اُس کا علم نہیں بدلتا، دلوں کے خطروں اور وَسوسوں پر اُس کو خبر ہے اور اُس کے علم کی کوئی انتہا نہیں “ [بہارِ شریعت، حصہ اول، ص 11]

…. (کیا اس نے کائنات بنانے کا دعوی کیا…… قرآن، حدیث سے ثبوت)

سب سے پہلے لفظ ”کائنات“ کی وضاحت…

•” کائنات“……. عالم، دنیا، خلق ﷲ

(نوراللغات، ج سوم، ص 719)

• Universe:

The sum of everything that exists in the cosmos, including time and space itself.

” ہر اس شے کا مجموعہ جو اس عالم میں ہے، بہ شمول وقت اور خلا“

اب اس کے ثبوت کو قرآن کی چند آیات دیکھو، جو اس کے ثبوت کو کافی….

• هُو الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ-ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍؕ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠

ترجمہ: وہی ہے جس نے تمہارے لئے بنایا جو کچھ زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف اِسْتِوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اور” وہ سب کچھ جانتا ہے ۔“

(سورۂ البقرہ، آیت 29)

اس آیت میں تمھارے سوال کے پہلے جز (کیا ﷲ پاک کو کائنات کا علم ہے) اور دوسرے جز (قرآن سے ثبوت) دونوں کا جواب ہے۔

• اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ

ترجمہ : بیشک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے۔

( سورۂ الاعراف، آیت 54)

• تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا

ترجمہ : بڑی برکت والا ہے وہ جس نے آسمان میں بُرْج بنائے اور ان میں چراغ رکھا اور چمکتا چاند۔

( سورۂ الفرقان، آیت 61)

نوٹ: بروج کیا ہیں، اس کی تفصیل کے لیے دیکھو (خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: 61، ۳ / ۳۷۸)

• اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ(۱۵) وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا(۱۶)

ترجمہ : کیا تم نہیں دیکھتے اللہ نے کیونکر سات آسمان بنائے ایک پر ایک ۔ اور اُن میں چاند کو روشنی کیا اور سورج کو چراغ ۔

(سورۂ نوح، آیت 16)

آسمان کیا ہیں، اس کی تفصیل کے لیے دیکھو تفسیرِ صاوی

علامہ صاوی رحمہ ﷲ لکھتے ہیں

” المراد بالسمٰوٰت ما علي فيشمل العرش“

سمٰوٰت سے مراد ہر وہ چیز ہے جو اوپر ہو اس لیے عرش کو بھی شامل ہے (تفسیر صاوی، تحت الایۃ، سورہ انعام آیت 1، ج 2)

•وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَؕ- وَ النُّجُوْمُ مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖؕ

ترجمہ : اور سورج اور چاند اور ستارے اس کے حکم کے باندھے ہیں۔

(سورۂ النحل آیت 12)

اور احادیث اس کے بیان میں کثیر ہیں، اب اگر کہو کہ ان میں تو صرف آسمانوں، زمین، ستاروں، برجوں، سورج، چاند کا ذکر ہے، باقی galaxies, black hole کیا ہوئے؟

تو اس کا جواب ہے کہ

لِاَنَّ ذِکْرَالْاَصْلِ یُغْنِیْ عَنْ ذِکْرِالْفَرْعِ

(اصل کا ذکر، ذکر فرع سے بے نیاز کر دیتا ہے )

جب اصول (بہ ظاہر مشاہدہ کی جانے والی اشیا) ذکر کر دی گئیں تو اب ہر ذرے ذرے کے ثبوت کو آیت مانگنا تمھاری جہالت ہے، انھیں خود بھی دیکھا نہ ہو گا، بس مغربی چربہ لیے پھرتے ہو۔

• تم نے صرف کائنات کا ثبوت مانگا جب کہ قرآن کے علوم کی وسعت کیسی ہے، ﷲ پاک ارشاد فرماتا ہے

وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ

ترجمہ : اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے

(سورۂ النحل، آیت 89)

اور فرماتا ہے

’’وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ‘‘

(انعام، آیت 59)

ترجمہ: اور نہ ہی زمین کی تاریکیوں میں کوئی دانہ ہے مگر وہ ان سب کو جانتا ہے۔ اور کوئی تر چیز نہیں اور نہ ہی خشک چیز مگر وہ ایک روشن کتاب میں ہے۔

اور علماے کرام فرما چکے

“اس (قرآن پاک) میں تمام احکام جزئیہ تفصیلیہ ہی نہیں بلکہ ازلاََ ابداََ جمیع کوائن و حوادث بالاستیعاب موجود ہیں.”

(فتاوی رضویہ شریف، ج 22، ص 616)

اب کہو کہ مجھے نظر نہیں آتے، تو اندھے کو اگر سورج نہ دِکھے تو اس میں سورج کا کیا قصور، نقص تو اس کی آنکھ میں ہے۔

❷ … (کائنات 1929 میں دریافت ہوئی)

1929 میں یہ پتا لگا، کہ” کائنات پھیل رہی ہے“، کیا اس سے پہلے کسی کو پتا نہ تھا کہ زمین کے باہر کیا ہے….؟؟

یہ تمھاری جہالت ہے، قدیم فلاسفۂ یونان کی کتابیں اس کی تفصیل سے بھری پڑی ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھو” اسلام اور چاند کا سفر“)

…. (کیا کسی اسلامی تفسیر جو 1929 سے پہلے لکھی گئی کائنات کا ذکر ہے)

بس کرو جہالت کی انتہا ہو گئی اور کیوں نہ ہو ؏

قدم” جنوں“ بیشتر بہتر

اب ہر ہر تفسیر سے حوالہ جات پیش کرنے کا یہ محل نہیں، تفاسیر ان تفاصیل سے بھری پڑی ہیں، تفصیل کے لیے دیکھو” تفسیرِ صاوی، تفسیر خازن، تفسیرِ کبیر، اعلی حضرت امام احمد رضا خان اور علامہ ظفر الدین بہاری رضوی رضی اللہ عنھم کے رسائل….. اسلام اور چاند کا سفر از علامہ شریف الحق مجدی رحمہ ﷲ

پہلے کچھ پڑھ لو پھر اسلام پر اعتراض کرنا

” پلے نہیں دھیلہ تے کرے میلہ میلہ“

❸ …( کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ کائنات کے وجود سے پہلے وقت تھا)

میں پہلے وضاحت کر چکا کہ وقت کچھ نہیں، سیدی اعلی حضرت قدس سرہ فرماتے ہیں

” وقت کس چیز کا نام ہے، وقت ہے ہی نہیں، اصل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ہم کو زمانے اور جہت (یعنی سَمْت)میں گھیر دیا کسی چیز کو بغیر زمانے کے نہیں سمجھ سکتے ۔”

(ملفوظاتِ اعلی حضرت رحمہ اللہ، ص 511)

وقت کا وجود تبھی ہو گیا (ہمارے لیے) ، جب نبی اکرم ﷺ کا نور پیدا فرمایا گیا، اس کے بعد جمیع حوادث ( بہ شمول کائنات) پیدا کی گئے۔

❹…( خدا کا وجود بغیر زمان و مکان کے ممکن ہی نہیں ہے)

جو زمان اور مکان کا” محتاج“ ہو وہ مخلوق ہے، خالق نہیں ہو سکتا،” زمان و مکان“ خود مخلوق ہیں، ﷲ پاک ان کو پیدا کرنے سے بھی پہلے موجود تھا۔

اب کہو مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیسے، تو یہاں عقل کو کیا دخل! جو سمجھ میں آ جائے وہ خدا کیسے ہو، اسی لیے احادیث میں آیا ہے

تفکروا في خلق ﷲ و لا تتفکروا في ﷲ، فإنکم لن تقدروا قدرہ*

ﷲ تعالی کی مخلوق میں غور و فکر کرو اور اُس کی ذات میں غور فکر مت کرو، اس لیے کہ تم اُس کی ذات کی حقیقت کو پانے کی قدرت ہرگز نہیں رکھتے۔

(کشف الخفاء، ٣٥٧٨)

اہم اُصول

اسی لیے فرمایا گیا

کل ما خطر ببالک فاللہ بخلاف ذالک

” یعنی ﷲ تعالی کی ذات سے منسوب ہر وہ خیال جو تیرے دل میں آئے تو جان لے کہ ﷲ تعالی اُس کے بر خلاف ہے۔“

❺… ( اسلامی خدا بھی عرش پر مستوی ہے، ملخصا…. معاذاللہ)

” استوا“ کی تفصیل” علمِ کلام“ کی تقریباََ ہر کتاب میں موجود ہے، اس کی تفصیل کا بھی یہ محل نہیں، اس کے تفصیلی جواب کے لیے پڑھو امام احمد رضا خان رحمہ ﷲ کا رسالہ” قوارع القھار“، یا ثاقب شامی زید علمہ کی کتاب” سبحان الرحمن عن الجسم و الجہۃ والمکان“

[ قرآن چھے دن، آٹھ دن کے متضاد دعوے کرتا ہے]

اب ذرہ ہمت کر کے وہ ساری آیات بھی لکھ دو تاکہ واضح ہو جائے کہ حق کیا ہے، یہ محض تمھاری جہالت ہے، اس کے جواب کے لیے پڑھو

https://ilhaad.com/2019/04/creation-of-heaven-and-earth/

❻… ( کائنات کی تخلیق کے لیے خام مٹیریل کہاں سے آیا)

تم پر تو” جہل“ کی مکمل گردان پڑھ دی جائے تو کم ہے!!

ﷲ پاک فرماتا ہے

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْــٴًـا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۸۲)

اس کا کام تو یہی ہے کہ جب کسی چیز کو چاہے تو اس سے فرمائے ہو جا وہ فوراً ہوجاتی ہے۔

(سورۂ یٰس، آیت 82)

یہ تمھاری عقل کی خطا ہے، کہ ﷲ ﷻ کو مخلوق پر قیاس کر رہے ہو۔

اس کے بعد فضول اعتراضات کیے ہیں کہ ﷲ پاک صرف اشیا کی ماہیت پیدا کر سکتا ہے…. معاذاللہ

دراصل اس کے سر پر سائنس کا یہ جنون سُوار ہے

Energy/Mass can’t be destroyed nor created but it can be changed from one form to another

اب اس کی عقل کو کیا کہیے!!

انرجی یا مادہ تمھاری سائنسی باپوں کے لیے بنانا شاید نا ممکن ہو، ﷲ پاک کے لیے کچھ ناممکن نہیں، چاہے وہ مادہ ہو یا غیر مرئی اشیا، چاہے بڑی ہو یا چھوٹی ﷲ پاک کے لیے سب کی تخلیق ایک جیسی ہے۔

اس کے بعد ایک فضول سوال کیا، اور اس پر غالب کے شعر سے بے محل استدلال کیا، خیر مغرب کے فضلہ خواروں سے ایسی ہی توقع کی جا سکتی ہے، کسی علمی اور عقلی دلیل کی توقع رکھنا تو عبس ہے۔

اب ان کا دعوی تھا، کہ بس یہی سوالات ملحدوں کے خام ذہنوں میں کھٹکتے ہیں، یہ صاف ہوں تو اسلام کی کوئی بات سمجھ میں پڑے!!

لیکن جس کے دل پر بد بختی چھا چکی ہو، اسے نصیحت کیسے سوجھے!!

وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ

اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔ (سورۂ البقرہ، آیت 269)