یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَ اَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَۚۖ(۲۰)

اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو (ف۳۴) اور سن سنا کر اسے نہ پھرو

(ف34)

کیونکہ رسول کی اطاعت اور اللہ کی اطاعت ایک ہی چیز ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ هُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ(۲۱)

اور ان جیسے نہ ہونا جنہوں نے کہا ہم نے سنا اور وہ نہیں سنتے (ف۳۵)

(ف35)

کیونکہ جو سن کر فائدہ نہ اُٹھائے اور نصیحت پذیر نہ ہو اس کا سُننا سُننا ہی نہیں ہے ۔ یہ منافقین و مشرکین کا حال ہے مسلمانوں کو اس سے دور رہنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ(۲۲)

بے شک سب جانوروں میں بدتراللہ کے نزدیک وہ ہیں جو بہرے گونگے ہیں جن کو عقل نہیں(ف۳۶)

(ف36)

نہ وہ حق سنتے ہیں ، نہ حق بولتے ہیں ، نہ حق کو سمجھتے ہیں ۔ کان اور زبان و عقل سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ، جانوروں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ یہ دیدۂ و دانستہ بہرے گونگے بنتے اور عقل سے دشمنی کرتے ہیں ۔

شانِ نُزُول : یہ آیت بنی عبد الدار بن قُصَیْ کے حق میں نازل ہوئی جو کہتے تھے کہ جو کچھ محمّد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے ہم اس سے بہرے گونگے اندھے ہیں ۔ یہ سب لوگ جنگِ اُحد میں مقتول ہوئے اور ان میں سے صرف دو شخص ا یمان لائے معصب بن عمیر اور سویبط بن حرملہ ۔

وَ لَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِیْهِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَهُمْؕ-وَ لَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۲۳)

اور اگر اللہ ان میں کچھ بھلائی (ف۳۷) جانتا تو انہیں سنا دیتا اور اگر(ف۳۸) سنا دیتا جب بھی انجام کار منہ پھیر کر پلٹ جاتے(ف۳۹)

(ف37)

یعنی صدق و رغبت ۔

(ف38)

بحالتِ موجودہ یہ جانتے ہوئے کہ ان میں صدقِ رغبت نہیں ہے ۔

(ف39)

اپنے عِناد اور حق سے دشمنی کے باعث ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ وَ اَنَّهٗۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ(۲۴)

اے ایمان والو اللہ ورسول کے بلانے پر حاضر ہو (ف۴۰) جب رسول تمہیں اس چیز کے لیے بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے گی (ف۴۱) اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دلی ارادوں میں حائل ہوجاتا ہے اور یہ کہ تمہیں اسی کی طرف اٹھنا ہے

(ف40)

کیونکہ رسول کا بلانا اللہ ہی کا بلانا ہے ۔

بخاری شریف میں سعید بن معلی سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں نماز پڑھتا تھا مجھے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکارا میں نے جواب نہ دیا پھر میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالٰی نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو ۔ ایسا ہی دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت ابی بن کعب نماز پڑھتے تھے حضور نے انہیں پکارا ، انہوں نے جلدی نماز تمام کرکے سلام عرض کیا ، حضور نے فرمایا تمہیں جواب دینے سے کیا بات مانِع ہوئی ، عرض کیا حضورمیں نماز میں تھا ۔ حضور نے فرمایا کیا تم نے قرآنِ پاک میں یہ نہیں پایا کہ اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو عرض کیا بے شک آئندہ ایسا نہ ہوگا ۔

(ف41)

اس چیز سے یا ا یمان مراد ہے کیونکہ کافِر مردہ ہوتا ہے ، ا یمان سے اس کو زندگی حاصل ہوتی ہے ۔ قتادہ نے کہا کہ وہ چیز قرآن ہے کیونکہ اس سے دلوں کی زندگی ہے اور اس میں نَجات ہے اور عِصمتِ دارین ہے ۔ محمد بن اسحاق نے کہا کہ وہ چیز جہاد ہے کیونکہ اس کی بدولت اللہ تعالٰی ذلّت کے بعد عزّت عطا فرماتا ہے ۔ بعض مفسِّرین نے فرمایا کہ وہ شہادت ہے اس لئے شہداء اپنے ربّ کے نزدیک زندہ ہیں ۔

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةًۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۵)

اور اس فتنہ سے ڈرتے رہو جو ہر گز تم میں خاص ظالموں ہی کو نہ پہنچے گا (ف۴۲) اور جان لو کہ اللہ کا عذاب سخت ہے

(ف42)

بلکہ اگر تم اس سے نہ ڈرے اور اس کے اسباب یعنی ممنوعات کو ترک نہ کیا اور وہ فتنہ نازِل ہوا تو یہ نہ ہوگا کہ اس میں خاص ظالم اوربدکار ہی مبتلا ہوں بلکہ وہ نیک اور بد سب کو پہنچ جائے گا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے مؤمنین کو حکم فرمایا کہ وہ اپنے درمیان ممنوعات نہ ہونے دیں یعنی اپنے مقدور تک برائیوں کو روکیں اور گناہ کرنے والوں کو گناہ سے منع کریں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو عذاب ان سب کو عام ہوگا ، خطا کار اور غیر خطا کار سب کو پہنچے گا ۔ حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی مخصوص لوگوں کے عمل پر عذاب عام نہیں کرتا جب تک کہ عام طور پر لوگ ایسا نہ کریں کہ ممنوعات کو اپنے درمیان ہوتا دیکھتے رہیں اور اس کے روکنے اور منع کرنے پر قادِر ہوں باوجود اس کے نہ روکیں نہ منع کریں جب ایسا ہوتا ہے تو اللہ تعالٰی عذاب میں عام و خاص سب کو مبتلا کرتا ہے ۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی قوم میں سرگرمِ معاصی ہو اور وہ لوگ باوجود قدرت کے اس کو نہ روکیں تو اللہ تعالٰی مرنے سے پہلے انہیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو قوم نہی عنِ المنکَر ترک کرتی ہے اور لوگوں کو گناہوں سے نہیں روکتی وہ اپنے اس ترکِ فرض کی شامت میں مبتلا ئے عذاب ہوتی ہے ۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۲۶)

اور یاد کرو (ف۴۳) جب تم تھوڑے تھے ملک میں دبے ہوئے (ف۴۴) ڈرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں (ف۴۵) جگہ دی اور اپنی مدد سے زور دیا اور ستھری چیزیں تمہیں روزی دیں (ف۴۶) کہ کہیں تم احسان مانو

(ف43)

اے مؤمنین مہاجرین ابتدائے اسلام میں ہجرت کرنے سے پہلے مکّۂ مکرّمہ میں ۔

(ف44)

قریش تم پر غالب تھے اور تم ۔

(ف45)

مدینہ طیّبہ میں ۔

(ف46)

یعنی اموالِ غنیمت جو تم سے پہلے کسی اُمّت کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)

اے ایمان والو اللہ و رسول سے دغانہ کرو(ف۴۷) اور نہ اپنی امانتوں میں دانستہ خیانت

(ف47)

فرائض کا چھوڑ دینا اللہ تعالٰی سے خیانت کرنا ہے اور سنّت کا ترک کرنا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ۔ شانِ نُزُول : یہ آیت ابو لبابہ ہارون بن عبد المنذر انصاری کے حق میں نازِل ہوئی ۔ واقعہ یہ تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہودِ بنی قُریظہ کا دو ہفتے سے زیادہ عرصہ تک محاصَرہ فرمایا ، وہ اس محاصَرہ سے تنگ آگئے اور ان کے دل خائِف ہوگئے تو ان سے ان کے سردار کعب بن اسد نے یہ کہا کہ اب تین شکلیں ہیں یا تو اس شخص یعنی سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرو اور ان کی بیعت کر لو کیونکہ قسم بخدا وہ نبیٔ مُرسَل ہیں یہ ظاہر ہوچکا اور یہ وہی رسول ہیں جن کا ذکر تمہاری کتاب میں ہے ، ان پر ا یمان لے آئے تو جان مال اہل و اولاد سب محفوظ رہیں گے مگر اس بات کو قوم نے نہ مانا تو کعب نے دوسری شکل پیش کی اور کہا کہ تم اگر اسے نہیں مانتے تو آؤ پہلے ہم اپنے بی بی بچوں کو قتل کر دیں پھر تلواریں کھینچ کر محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب کے مقابل آئیں کہ اگر ہم اس مقابلہ میں ہلاک بھی ہوجائیں تو ہمارے ساتھ اپنے اہل و اولاد کا غم تو نہ رہے ، اس پر قوم نے کہا کہ اہل و اولاد کے بعد جینا ہی کس کام کا تو کعب نے کہا یہ بھی منظور نہیں ہے تو سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کی درخواست کرو شایداس میں کوئی بہتری کی صورت نکلے تو انہوں نے حضور سے صلح کی درخواست کی لیکن حضور نے منظور نہ فرمایا سوائے اس کے کہ اپنے حق میں سعد بن معاذ کے فیصلہ کو منظور کریں ، اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابو لبابہ کو بھیج دیجئے کیونکہ ابو لبابہ سے ان کے تعلقات تھے اور ابو لبابہ کا مال اور ان کی اولاد اور ان کے عیال سب بنی قُریظہ کے پاس تھے ، حضور نے ابو لبابہ کو بھیج دیا ۔ بنی قُریظہ نے ان سے رائے دریافت کی کہ کیا ہم سعد بن معاذ کا فیصلہ منظور کرلیں کہ جو کچھ وہ ہمارے حق میں فیصلہ دیں وہ ہمیں قبول ہو ۔ ابو لبابہ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر اشارہ کیا کہ یہ توگلے کٹوانے کی بات ہے ، ابو لبابہ کہتے ہیں کہ میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹنے نہ پائے تھے کہ میرے دل میں یہ بات جم گئی کہ مجھ سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی خیانت واقع ہوئی ، یہ سوچ کر وہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تو نہ آئے سیدھے مسجد شریف پہنچے اور مسجد شریف کے ایک سُتون سے اپنے آپ کو بندھوا لیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ نہ کچھ کھائیں گے نہ پئیں گے یہاں تک کہ مَرجائیں یا اللہ تعالٰی ان کی توبہ قبول کرے ۔ وقتاً فوقتاً ان کی بی بی آ کر انہیں نمازوں کے لئے اور انسانی حاجتوں کے لئے کھول دیا کرتی تھیں اور پھر باندھ دیئے جاتے تھے ۔ حضور کو جب یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ ابو لبابہ میرے پاس آتے تو میں ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتا لیکن جب انہوں نے یہ کیا ہے تو میں انہیں نہ کھولوں گا جب تک اللہ ان کی توبہ قبول نہ کرے ۔ وہ سات روز بندھے رہے نہ کچھ کھایا نہ پیا یہاں تک کہ بے ہوش ہو کر گر گئے پھر اللہ تعالٰی نے ان کی توبہ قبول کی ، صحابہ نے انہیں توبہ قبول ہونے کی بشارت دی تو انہوں نے کہا میں خدا کی قسم نہ کُھلوں گا جب تک رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے خود نہ کھولیں ۔ حضرت نے انہیں اپنے دستِ مبارک سے کھول دیا ، ابو لبابہ نے کہا میری توبہ اس وقت پوری ہوگی جب میں اپنی قوم کی بستی چھوڑ دوں جس میں مجھ سے یہ خطا سرزد ہوئی اور میں اپنے کُل مال کو اپنے مِلک سے نکال دوں ۔ سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تہائی مال کا صدقہ کرنا کافی ہے ، ان کے حق میں یہ آیت نازِل ہوئی ۔

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌۙ-وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠(۲۸)

اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد سب فتنہ ہے(ف۴۸) اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے (ف۴۹)

(ف48)

کہ آخرت کے کاموں میں سدِ راہ ہوتا ہے ۔

(ف49)

تو عاقل کو چاہئے کہ اسی کا طلب گار رہے اور مال و اولاد کے سبب سے اس سے محروم نہ ہو ۔