ان کا منہ کون بند کرے گا؟

جس طرح شیر کی کھال پہن کر بھیڑیا شیر نہیں ہوجاتا، اسی طرح گیروا لباس پہن کر کوئی یوگی یا سنت، مہنت نہیں ہوجاتا۔ ایسے دعویداروں کو ڈھونگی کہا جاتا ہے۔ اگرانہیں کسی ریاست کی کمان سونپ دی جائے تو اس کا وہی حشر ہوتا ہے جو یوپی کا نظرآرہا ہے۔ ہندو بھائیوں کے نزدیک یوگ / یوگا ، عبادت وریاضت ہے۔ جو تن من کو درست رکھنے اور نفس پر قابو پانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ ایک مہنت کو محبت واخوت اور ہمدردی وغمخواری و شفقت کا نمونہ ہونا چاہئے کیونکہ کوئی مذہب، نفرت، دشمنی اور قتل وغارتگری کی تعلیم نہیں دیتا اسی طرح ایک وزیراعلیٰ کی ذمہ داری اور جوابدہی کسی ایک طبقے کیلئے نہیں، ریاست کے تمام باشندوں کے تئیں ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے یوگی کہلانے والے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ ان تمام صفات سے عاری ہیں۔ وہ جس پاٹھ شالہ سے فارغ ہیں وہاںغیروں کا ذکر تو دور ، اپنوں کے ساتھ بھی مذہب کی بنیادپر امتیازبرتا جاتا ہے۔ صدیوں کے ستائے ہوئے دلتوں اور پسماندہ طبقات کو الیکشن کے موقعوں پر ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہندو ہونے کی سند دی جاتی ہے ورنہ انہیں ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی۔

آدتیہ ناتھ کی شبیہ ایک کٹر ہندوتوا وادی ، مسلم دشمن اور بھڑکاؤ بیانات دینے والے کی ہے جب وہ ایم پی تھے تو ان پر فسادات بھڑکانے کے کئی معاملات درج تھے جنہیں وزیراعلیٰ بننے کے بعد خارج کردیا گیا ۔ مودی کی طرح انہوںنے بھی ڈیولپمنٹ اور سب کا ساتھ کا نعرہ بلند کیا جس کی قلعی جلد ہی کھل گئی۔ حلف برداری کی تقریب میں انہوںنے پہلی ترجیح لااینڈ آرڈر قائم کرنے کو دی اور فرضی انکاؤنٹر کے ذریعے بہت سوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا۔ اس کی زد میں کئی بے گناہ آگئے۔ ان کا دوسرا قدم غیر قانونی مذبح کو بند کرنا تھا۔ اس کی گاج قانونی مذبح پر بھی گری اوراس صنعت سے وابستہ لاکھوں مسلمان بے روزگار ہوگئے۔ ’لوجہاد‘ کے طرز پر انہوںنے رومیواسکواڈ ترتیب دیا اور ’گھر واپسی ‘ مہم شروع کی۔ وزیراعلیٰ بننے کے چھ مہینے بعد انہوںنے دعویٰ کیا کہ ریاست میں قانون کی حکمرانی لوٹ آئی ہے اور ہر جگہ کشل منگل ہے۔ وہ یہ بتانا بھول گئے کہ فرضی انکاؤنٹر میں کتنے مرے؟ کتنے فسادات ہوئے؟ کتنی خواتین جنسی حملوں کا شکار ہوئیں۔ کتنے مسلمانوں اور دلتوں کو لنچنگ کے نام پر مارا پیٹا گیا، کتنے مدرسوں پر پابندیاں عائد کی گئیں اور گورکھپور کے سرکاری اسپتال میں مرنے والے بچوں کی صحیح تعداد کتنی ہے؟

کہنے کی ضرورت نہیں کہ صورتحال میں آج بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور جب سے سی اے اے ، این پی آر اور این آرسی کے خلاف دھرنا اور مظاہرے شروع ہوئے، لگتا ہے کہ یوپی پولیس کو فائرنگ اور توڑ پھوڑ کا لائسنس مل گیا ہے۔ گزشتہ دسمبر کو تشدد میں ۲۳؍ افراد ہلاک ہوئے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ نے تصدیق کی کہ ان میں سے ۲۱؍ افراد کی موت پولیس فائرنگ سے ہوئی۔ پچھلے ہفتے آدتیہ ناتھ نے اسمبلی میں دعویٰ کیاکہ کوئی فسادی پولیس کی گولی سے نہیں مرا، سارے مرنے والے فسادی ایک دوسرے کی گولی سے مرے۔ انہوںنے فرضی انکاؤنٹر کے وجود سے بھی انکار کیا اور تحریری جواب میں یہ انکشاف کیا کہ مرنے والے فسادیوں کے اہل خانہ کو حکومت کسی طرح سے کوئی مالی امداد فراہم نہیں کی جائے گی۔

سیاسی تدبر سے عاری اور لوک شاہی کے بجائے ٹھوک شاہی پر یقین رکھنے والے آئینی منصب پر فائز شخص کی سوچ کتنی گھٹیا ہوسکتی ہے اس کا اندازہ اس کے بیانات سے بآسانی لگایاجاسکتاہے۔ آئین و قانون کی پاسداری کا حلف لینے والوں کی آئین وقانون سے متعلق معلومات کتنی ناقص ہے اس کی بھی مثال ملاحظہ کیجئے۔ سی اے اے کے خلاف جب یوپی میں دھرنوں اور مظاہروں کا آغاز ہوا تو آدتیہ ناتھ نے اعلان کیا کہ دھرنا اور مظاہروں کے نام پر جمع بھیڑ کی طرف سے آزادی کا نعرہ لگانے والوں کے خلاف بغاوت کا معاملہ درج کیاجائے گا اور سخت ترین سزا دی جائے گی۔ ہم نہیں سمجھتے کے آدتیہ ناتھ نے آئین کا مطالعہ کیا ہے ۔ اگر کیا ہوتا توانہیں علم ہوتا کہ آئین ہرشہری کو پرامن طریقے سے اظہار واختلاف رائے کی آزادی عطا کرتا ہے۔ پچھلے دنوں سپریم کورٹ کے دو ججوں نے حکومت اوراس کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنےو الوں کو اینٹی نیشنل قراردینے اوراختلاف رائے کو دبانے کے لئے سرکاری مشنری کے استعمال سے منع کیا اوراسے آئینی وجمہوری اقدار کے خلاف بتایا۔ ۱۹۹۵ء میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں ’’خالصتان زندہ باد ‘‘نعرے کو ملک کے خلاف بغاوت ماننے سے انکارکردیا تھا۔ ۱۵؍ فروری کو بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے بھی اسی طرح کا فیصلہ دیا کہ حکومت کے کسی قانون کے خلاف احتجاج کو ملک مخالف قرارنہیں دیاجاسکتا۔ مودی اینڈ کمپنی کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ آر ایس ایس کے لیڈروں کا آزادی کی جدوجہد میں کوئی حصہ نہ ہونے سے لفظ ’آزادی‘ سے انہیں الرجی ہے اور اس کا نعرہ لگتے ہی ان کے کان بجنے لگتے ہیں چنانچہ جب مظاہرین سی اے اے ، این پی آر اور این آر سی سے آزادی یا آر ایس ایس، مودی ، امیت شاہ سے آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں تو انہیں حکومت ڈولتی نظرآتی ہے کیونکہ نیشنلزم اور دیش بھکتی کے جملہ حقوق ان لوگوں نے اپنے نام کرلئے ہیں ۔ آدتیہ ناتھ کا ایک اور گھٹیا اور احمقانہ بیان شاہین باغ جیسے دھرنوں پر بیٹھی مسلم خواتین کے بارے میں تھا کہ ان کے مردوں نے مار کے ڈر سے اپنی عورتوں کو دھرنے پر بٹھادیا ہے۔ اس شخص نے اگراسلامی تاریخ یا ہندوستان کے اسلامی دور کا ذرا بھی مطالعہ کیا ہوتا تو اس طرح کا بیان نہ دیتا۔ اس کا یہ بیان مسلم خواتین کی توہین ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس کے حکم پر پولیس نے جس طرح مظاہرین پر لاٹھیاں برسائیں، معاملات درج کئے،گرفتاریاں کیں، اسے جوانمردی کے کس خانے میں رکھا جائے گا؟ اس طرح کی بیان بازی اور اشتعال انگیزی ہندوتوا وادیوں کا شیوہ بن گئی ہے۔ ان کا منہ کون بند کرے گا؟ کیا یہ لوگ ملک میں نراجیت پھیلا نا چاہتے ہیں؟ دہلی میں جو کچھ ہوا وہ اس کی ایک جھلک ہے لیکن اس کا ملزم کپل مشرا آج بھی آزاد ہے۔ اسے ہنوز گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

(روزنامہ انقلاب سے خالد شیخ کا آرٹیکل)