دو جامع صفتوں کا ذکر 

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعا روایت ہے فخر موجودات ﷺ نے ارشاد فرمایا خیر نسآئکم العفیفۃ الغلمۃ عفیفۃ فی فرجھا غلمۃ علیٰ زوجھا،تمھاری عورتوں میں بہتر پاکدامن اور محبت کرنے والی ہے،اپنے ناموس کی حفاظت کرنے والی اور اپنے شوہر سے محبت کرنے والی (کنز العمال ج۱۶ص ۱۷۰)

اس حدیث شریف میں صرف دو باتوں کو دہرایا گیا مگر وہ اتنی جامع ہیں کہ ازدواجی زندگی کی تمام تر خوبیاں اس میں سما گیٔ ہیں،جیسے کوجے میں سمندر ،اس لئے کہ پاکدامن زنا اور لواحق زنا سے تاہم تہمت کی جگہوں سے اپنے آپ کو بچانے والی ہوگی،اس پر شبہ کرنے کا شوہر کو موقع نہ ملے گا،اور پاکباز ہونے کی وجہ سے اسکا غیر سے ناجائز تعلق نہ ہوگا،اور ایسی عورت جب جانتی ہے کہ میری زندگی کا جائز ذریعہ یہی ایک ہے،تو وہ اس پر دل و جان سے فدا رہے گی،اور جب وہ دل وجان سے اس پر نثار رہے گی تو پھر وہ شوہر ناراض ہو ایسا کام کبھی نہ کرے گی اور ناجائز مطالبہ بھی نہ کرے گی اور شوہرکی محبت میںایسی وارفتہ کہ اسی کو دیکھ کر زندہ رہے گی،پھر ایسی عورت نیک اور صالح کیوں نہ ہوگی؟اس لئے ہمارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ ایسی عورت بہتر ہے جو پاک دامن اور شوہر سے محبت کرنے والی ہو

شوہر سے بہترتیرا محبوب نہیں کوئی ۔ جواز کا اس سے بہتر سہارا نہیں کوئے

جنت کی بشارت

اسی تعلیم کو دوسری حدیث میں اس طرح ہماری کامیابی کا ضامن بنایا گیا،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا اذا صلت المراٗۃ خمسھا وضصنت فرجھا واطاعت بعلھا دخلت من ای ابواب الجنۃ شائت جب عورت پنجوقتہ نمازکی پابندی کرے،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اور اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہو جائے ( ترغیب ج۳ ص ۳۳ )

ناموس کی حفاظت کا درس حدیث میں جگہ جگہ دیا جا رہا ہے اس لئے کہ عورت کی سماجی زندگی میں رسوا کرنے والا اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں،یہ گناہ سچی توبہ یا اسلامی سزا کے نفاز کے بعد تو معافی میں جاسکتا ہے لیکن سماج میں اس کی معافی کبھی نہیں ہوتی ہے،شادی سے پہلے یہ داغ لگ جائے تو رشتہ ملنا مشکل،اور شادی کے بعد زنا کا بد صورت داغ لگ جائے تو طلاق کے بغیر کوئی چارہ نہیں،اور یہ نہیں کہ اس پر مسئلہ تمام ہو گیا نہیں جب بھی کوئی اسے دیکھے گا وہی بات دوہرائے گا،اور عورتوں کی عادت تو عورتوں کو معلوم ہی ہے کہ وہ پرکا پرندہ بناتی ہیں اس بات کو گھوماتی ہی رہیں گی،اور بدنامی کے زخم کو کبھی مندمل نہ ہونے دے گیں ،الحاصل اس گناہ کے بعد عورت کو اسلام میں پناہ مل سکتی ہے لیکن سماج میں پناہ نہیں مل سکتی اور سماج اسے کبھی معاف نہ کریگا،اور سماج میں رہے بغیر چل بھی نہیں سکتا ہے،لوگ کہتے ہیں کہ بے عزتی کا جینااس سے بہتر عزت کے ساتھ مر جانا ،اس لئے عورت کو اپنی عزت کی حفاظت بہت ضروری ہے،ورنہ یہ کہاوت کبھی دماغ سے نہ جائے گی لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

شہوتوںکا مزہ کبھی خطرۂ انفاکاک ہوتا ہے

لمحوں کا گناہ کبھی صدیوں کا رونا ہوتا ہے