عورت کے حقوق کی پاسداری

اسلام ایک ایسا کامل مذہب ہے کہ جس نے نوع انسان کو حیات جاودانی بخشی ہے ۔ حقوق الناس کی صحیح پہچان اور نشاندہی اسلام ہی نے عالم دنیا کو بتائی ہے۔ اسلام نے دنیا کو معاشرت کا صحیح طریقہ و سلیقہ دکھایا ہے ۔ ظالم کو ظلم سے روکنا اور مظلوم کی حمایت کرنا اسلام کا طریق عمل ہے ۔ خصوصاً عورتوں پر اسلام کا عظیم احسان ہے ۔ ابتدائے اسلام کے دور میں عورت کو اتنا ذلیل سمجھا جاتا تھا کہ اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوتی تھی، تو گویا اس کو سانپ سونگھ گیا ہو ایسا اس کا چہرہ ہوجاتا تھا اور سماج کے رواج کے مطابق لڑکی کو زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ میراث میں عورت کو کچھ بھی اہمیت نہیں دی جاتی تھی ۔ عورت کو صرف دل بہلانے کا کھلونا سمجھ کر اس سے دل لگی کی جاتی تھی ۔ اور جب اس سے جی بھر جاتا، تو اسے دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال پھینکتے تھے ۔ عورت پر زنا اور دیگر عیوب کے الزام لگاکر اس کو رسوا اور ذلیل کردینا کوئی بڑی بات نہیں تھی ۔ کسی بھی با عصمت و پاک دامن خاتون کو ایک آن میں فاحشہ اور بدکردار کے القاب سے نوازنے میں کسی بھی قسم کی جھجک محسوس نہیں کی جاتی تھی، جس کے جی میںجو آیا، وہ منہ سے کہہ دیتا تھا لیکن محبوبۂ محبوب رب العالمین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ کا روئے زمین کی تمام عورتوں پر احسان ہے کہ آپ کے سبب سے قرآن مجید میں عورتوں کی عصمت کی پاسداری اور پاسبانی کی گئی۔ ان کی پاک دامنی کی عظمت کی حفاظت کی گئی اور بات بات میں عورتوں کی پاک دامنی پر تہمت کا کیچڑ اچھالنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے قرآن مجید پارہ ۱۸ سورئہ نور ، آیت نمبر ۴ میں صاف اور صریح حکم فرمایا گیا کہ:’’ اور جو لوگ پارسا عورتوں کو عیب لگائیں ،پھر چار گواہ معائنہ کے نہ لائیں ، تو انہیں اسی ۸۰؎ کوڑے لگائو اور ان کی کوئی گواہی کبھی نہ مانو۔‘‘ ( کنز الایمان )

اس آیت کے نزول سے عورتوں کی پارسائی پر چھوٹی چھوٹی باتوں میں فعل قبیح کی تہمت لگانے والوں کے منہ پر علی گڑھی تالے لگ گئے ۔ صرف منہ پہ تالا ہی نہ لگایا گیا بلکہ تالا کھولنے والوں کو اسی ۸۰؎ کوڑے لگانے کی سزا متعین کی گئی۔ جس کو شرعی اصطلاح میں ’’ حد قذ ف ‘‘ کہا جاتا ہے۔ صرف قذف پر ہی اکتفا نہ کیا گیا بلکہ تہمت لگانے والے کو دائمی طور پر ’’ مردود الشہا دۃ ‘‘ قرار دیا گیا ۔ یعنی ہمیشہ کیلئے اس کی ہر گواہی متروک و غیر معتبر کر دی گئی ۔ مذکورہ آیات کے علاوہ کئی آیات جھوٹی تہمت لگانے والوں کی مذمت میں سورئہ نور میں نازل ہوئی ہیں ۔ جن کا تفصیلی ذکر یہاں نہ کرتے ہوئے صرف اتنا ہی عرض کر دیتا ہوں کہ ایسے تہمت بازوں کو سورئہ نور میں فاسق ، جھوٹا ، اس پر اللہ کی لعنت وغیرہ وعیدوں سے ڈرایا اور خبر دار کیا گیا ہے ۔ اور مردوں کو یہ باور کرایا گیا ہے کہ عورت بھی خدا کی ایک معزز مخلوق ہے ۔ اس کو حقیر اور ذلیل مت جانو، اس کو ہیچ سمجھ کر اس کے کردار پر کیچڑ اچھالنا ترک کر دو ، اس کی عزت و آبرو کی نگہبانی کرو ، اس کے دامن عصمت کو تہمت و الزام سے داغدار کرنے سے باز رہو ۔ ورنہ اسی۸۰؎ کوڑے ، مردود الشہادۃ ، فاسق ، جھوٹے ، اور اللہ کی لعنت کے حقدار جیسی سزائیں بھگتنے کیلئے تیار رہو ۔ یہی اسلامی تہذیب ہے ۔ اس کے دائرے میں رہو اور یہ حکم قیامت تک جاری رہے گا۔

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی برأت حضور اقدس ﷺ اپنی طرف سے فوراً فرمادیتے اور وحی کا انتظار نہ فرماتے تو :-

= کیا سورہ نور کی دولت سے ہم سرفراز ہوتے ؟

= کیا اس میں معاشرے کے نظام کی درستگی کے جو احکامات ہیں وہ ہمیں نصیب ہوتے ؟

= عورتوں کی عزت و آبرو کی پاسداری اور پاسبانی کی تعلیم ہم کو حاصل ہوتی ؟

= عورتوں کی عصمت اور پاکدامنی کی تا قیامت جو حفاطت کی گئی ہے وہ کیا حاصل ہوتی ؟

= تہمت و الزام تراشی جیسے قبیح و مذموم طور و اطوار کے ترک کرنے کا حوصلہ ملتا؟

= کیا یہ اخلاقی محاسن دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچتے ؟

ان تمام احکامات و وجوہات کی بنا پر عالم ما کان و ما یکون، علم غیب جاننے والے، ہر بات سے با خبر، پیارے رسول اللہ ﷺ نے توقف فرماکر سکوت فرمایا ۔ اس حکمت عملی کو سمجھنے سے قاصر و عاجز، کور چشم و کور باطن دور حاضر کے منافقین نے سکوت مصطفی ﷺ سے غلط استدلال حاصل کرکے یہ واویلا مچا رکھا ہے کہ معاذ اللہ آپ ﷺ کو علم غیب نہیں تھا ۔