خواجہ تمہارے بختیارکی دِلّی سونی پڑی ہے!!

غلام مصطفیٰ نعیمی

مدیر اعلیٰ سواد اعظم دہلی

کیا کہیں اور کیسے کہیں… زبان ساتھ دیتی ہے نہ خیالات کا ہجوم…سلطان الہند کا عرس ہے، لوگ عقیدتوں کی سوغات لیکر جارہے ہیں… لیکن دلی کی حالت دیکھ کر بے اختیار دل بھر آتا ہے… جس دلی کو خواجہ نے اپنے چہیتے مرید بختیار کاکی کو سونپا تھا…آج وہی دلی لہو لہو ہے….جلے ہوئے مکان ، اجڑی ہوئی گلیاں ، سنسان راستے بے بسی کی مورت بنے ہوئے ہیں… برسوں پہلے ایک غریب کسان کو انصاف دلانے غریب نواز اجمیر سے دلی تک پیدل چلے آئے تھے، آج اسی دلی میں ہزاروں مظلومین انصاف کی دہائی دے رہے ہیں !!

غریب نواز آؤ! اپنے بختیار کی دلی دیکھو ، کس طرح سسک رہی ہے… پتھرائی ہوئی آنکھیں تم سے کچھ کہنا چاہتی ہیں… دلی کے در ودیوار تمہارے قدموں سے لپٹ جانا چاہتے ہیں… ارض دلی ایک بار پھر تمہارے قدموں کو چومنے کی آرزومند ہے… دلی کی بے زبان آواز تمہیں پکار رہی ہے !!

سلطان الہند آؤ، اپنے بختیار کی دلی کو بچاؤ… اسے اس کی مسکراہٹ واپس دلا دو. اس کی شام غم کو نوید صبح کا مژدہ سنا دو…. مانا کہ ہم تمہاری سلطنت کے نافرمان ہیں…تسلیم ہے کہ تمہارے بتائے راستے سے دور جا نکلے ہیں… ہاں ہمیں اعتراف ہے کہ تمہارے نانا کی سنتوں سے ہم بہت دور ہوگئے ہیں…ہاں ہم شرمندہ ہیں کہ اپنے مہربان رب کے احکام بھلا بیٹھے ہیں اور شاید اسی لئے ذلت ہمارا مقدر ہوگئی !!

مگر اے کریم ابن کریم!

آخر تمہاری رعیت میں ہیں، اپنی پِرجا کو بچانا ہی نیک راجاؤں کی نشانی ہوتی ہے… تم تو راجاؤں کے راجا ہو… مہاراجہ ہو…

للّه! بارگاہ خدا ورسول میں ہماری سفارش فرمائیں… ہماری حالت زار پر رحم فرمائیں… دنیا کے دروازوں پر دستک دے دے کر ہم تھک چکے ہیں…

اے جنتی دروازے کے مکیں !!

اب تیرے دروازے پر چشم تر کے ساتھ کھڑے ہیں… ہم جانتے ہیں کہ ہم کم خطاکار نہیں مگر اے سلطان! کیا تیری عطا صرف فرماں برداروں کے لئے ہے؟

کیا کمزور رعایا تیرے فیض سے محروم رہے گی؟

نہیں نہیں میرے غریب نواز!

اب ہم کتنی جھڑکیاں کھائیں.. کسے آواز دیں:

یہ در چھوڑ کے جائیں تو جائیں کہاں غریب نواز

میرے غریب نواز!

ہم بہت تھک گئے ہیں… ہمتیں جواب دے گئیں… بڑی امیدوں سے تمہیں آواز دی ہے…

للّه! ہمیں مایوس نہ کرنا…

آخر دلی تمہارے بختیار کی نشانی ہے…تمہیں اسی پیارے بختیار کا واسطہ، دلی کو اس کی شادابی لوٹا دو…اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سلطنت کا صدقہ عطا کردو… جھولیاں پھیلائے بھکاری صدا لگاتے ہیں… کنج خمولی سے باہر نکلیں اور مظلووں کی داد رسی فرمائیں:

غریب آئے ہیں در پر تیرے غریب نواز

کرو غریب نوازی میرے غریب نواز

درِ سلطان کا ادنیٰ بھکاری غلام مصطفےٰ نعیمی

6 رجب المرجب 1441

2 مارچ 2020 بروز پیر