أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَوَلَمۡ يَتَفَكَّرُوۡا‌ ۗ مَا بِصَاحِبِهِمۡ مِّنۡ جِنَّةٍ‌ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ۞

ترجمہ:

کیا انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ ان کے صاحب پر مطلقاً جنون نہیں ہے ! وہ تو صرف کھلم کھلا ڈرانے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” کیا انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ ان کے صاحب پر مطلقاً جنون نہیں ہے ! وہ تو صرف کھلم کھلا ڈرانے والے ہیں “

تفکر کا معنی 

اولم یتفکروا : فکر وہ قوت ہے جو علم کو معلوم کا راستہ دکھاتی ہے، بہ اعتبار نظر عقل کے اس قوت کی جو لانی کو تفکر کہتے ہیں، یہ قوت صرف انسان میں ہوتی ہے حیوان میں نہیں ہوتی۔ اور اسی چیز کا تفکر کرنے کے لیے کہا جاتا ہے جس کی صورت عقل میں حاصل ہوسکے، اس لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں تفکر کرو اور اللہ تعالیٰ کی ذات میں تفکر نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے منزہ ہے کہ اس کی صورت عقل میں حاسل ہو۔ اس لیے فرمایا : ” اولم یتفکروا فی انفسہم ما خلق اللہ السموات والارض ومابینہما الا بالحق : کیا انہوں نے اپنے دلوں میں کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے صرف حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ” (الروم :8)

اسی طرح اس آیت میں بھی فرمایا ہے کیا انہوں نے اس پر غور نہیں کیا (الایہ) غرض ہر جگہ حقائق کائنات میں تفکر کے لیے فرمایا کہیں یہ نہیں فرمایا کہ انہوں نے اللہ میں تفکر نہیں کیا۔ (المفردات ج 2، ص 496 ۔ 497، مطبوعہ مکہ مکرمہ)

امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : عقل سے کسی چیز کے معنی کی تلاش اور طلب کو تفکر کہتے ہیں اور کسی شے میں غور و فکر اور تدبر کرنے کو تفکر کہتے ہیں۔ جیسے جب ہم بصر (آنکھ) سے دیکھتے ہیں تو انکشاف اور جلاء کی حالت مخصوصہ حاصل ہوتی ہے اور اس کا مقدمہ یہ ہے کہ ہم آنکھ کی پتلی کو مرئی (دکھائی دینے والی چیز) کی طرف متوجہ کریں تاکہ ہمیں آنکھ سے یہ رویت حاصل ہو۔ اسی طرح بصیرت کی رویت ہے جس کو علم اور یقین کہتے ہیں اور یہ بھی انکشاف اور جلاء کی حالت مخصوصہ ہے اور اس کا مقدمہ یہ ہے کہ ہم انکشاف اور تجلی کو حاصل کرنے کے لیے عقل کی آنکھ کو مطلوب کی جانب متوجہ کریں اور اس فعل کو نظر عقل کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا انہوں نے تفکر نہیں کیا۔ اس میں انہیں تامل اور تدبر کرنے اور اشیاء کی معرفت کے لیے غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ اگر وہ غور و فکر کرتے تو ان کو معلوم ہوجاتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنون نہیں ہے۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 419 ۔ 420، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

جاہل کفار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیوں مجنون کہتے تھے اور اس کا جواب 

مکہ میں بعض جہال نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دو وجہوں سے جنون کی طرف منسوب کرتے تھے :

پہلی وجہ یہ تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال ان کے افعال کے مخالف تھے، کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے منہ موڑ کر آخرت کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور اللہ عزوجل کی یاد اور اس سے دعا کرنے میں مشغول رہتے تھے، اس وجہ سے آپ کا عمل ان کے طریقہ کے مخالف تھا۔ لہذا انہوں نے اعتقاد کیا کہ آپ مجنون ہیں۔ حسن بصری اور قتادہ نے بیان کیا کہ آپ رات کو صفا پہار پر کھڑے ہو کر قریش کو قبیلہ بہ قبیلہ پکارتے اور فرماتے اے بنو فلاں ! اے بنو فلاں ! اور ان کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے تو کوئی کہنے والا کہتا کہ تمہارا یہ صاحب تو مجنون ہے، رات سے لے کر صبح تک چلاتا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” کیا انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ ان کے صاحب پر مطلقاً جنون نہیں ہے ” (جامع البیان جز 9، ص 182) اور اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معمولات پر غور کرنے کی دعوت دی تاکہ انہیں معلوم ہو کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو عذاب الٰہی سے ڈرانے کے لیے رات بھر پکارتے ہیں العیاذ باللہ کسی جنون کی وجہ سے نہیں۔ 

دوسری وجہ یہ تھی کہ نزول وحی کی وقت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عجیب و غریب حالت طاری ہوتی تھی آپ کا چہرہ متعیر ہوجاتا اور رنگ زرد پڑجاتا اور لگتا تھا کہ آپ پر غشی طاری ہو رہی ہے۔ پس جہال یہ کہتے کہ آپ پر جنون ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا کہ آپ پر کسی قسم کا جنون نہیں ہے کیونکہ آپ ان کو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور اپنے فصیح الفاظ کے ساتھ قطعی دلائل اور قوی براہین پیش کرتے ہیں جس کی فصاحت کا معارضہ کرنے سے تمام دنیائے عرب عاجز تھی۔ آپ کے بہت عمدہ اخلاق تھے اور آپ کی معاشرت نہایت پاکیزہ تھی، آپ کی عادات اور خصلات انتہائی نیک تھیں، آپ ہمیشہ اچھے کام کرتے تھے اور اسی وجہ سے آپ تمام صاحبان عقل کے مقتدا اور پیشوا تھے اور یہ بالکل بدیہی بات ہے کہ جو انسان عمدہ اور پاکیزہ شخصیت کا حامل ہو اس کو مجنون قرار دینا کسی طور پر جائز اور درست نہیں ہے اور اس سے واضح ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس لیے بھیجا ہے کہ آپ کافروں کو عذاب سے ڈرائیں اور مومنوں کو ثواب کی طرف راغب کریں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 184