برأت عائشہ میں تاخیر کی حکمت

دور حاضر کے منافقین ایک شور یہ بھی مچاتے ہیں کہ برأت حضرت عائشہ صدیقہ کے معاملے میں حضور نے عجلت کیوںنہ فرمائی ۔ اور اتنی تاخیر کیوں کی ؟ اب اسی سوال کو ہم دور حاضر کے منافقین کی جانب لوٹاتے ہیں کہ برأت حضرت عائشہ کے تعلق سے اللہ تعالی نے قرآنی آیات کے نزول میں تاخیر کیوں فرمائی ؟ ہے کوئی آپ کے پاس اس کا جواب ؟ لیکن بحمدہ تعالی اہل سنت و جماعت کے پاس اس کا شافی و وافی و کافی جواب ہے ۔نزول آیات قرآن کی تاخیر میں بھی کئی حکمتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ اگر کوئی معاملہ پیش آئے اور فوراً اس کا تدارک کر دیا جائے تو اس معاملہ کی اتنی اہمیت نہیں رہتی۔ فی الفور رفع دفع ہوجانے والا معاملہ صرف کچھ دنوں تک عوام الناس میں زیر بحث اور موضوع سخن رہتا ہے ۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ اسے فراموش کردیتے ہیں ۔ اور اس کے اثرات تادیر قائم نہیں رہتے اور نہ ہی اس واقعہ کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے ۔ دوسری حکمت یہ ہے کہ فی الفور حل شدہ معاملے میں لوگوں کے نظریات و تخیلات بھی کامل طور سے رونما نہیں ہوتے ۔ بہت سے لوگوں کے تفکرات اندر ہی اندر دب کر رہ جاتے ہیں ۔ ان کو اظہار کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا ۔ ایسی صورت میں لوگوں کے ذاتی رویئے کا پتہ نہیں لگتا کہ جناب عالی کس جانب ہیں؟ موافقین میں سے ہیں یا مخالفین کی گروہ میں شامل ہیں تاکہ تمیز ہو سکے کہ یہ اپنا ہے یا پرایا ؟

حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کا معاملہ کوئی معمولی حادثہ نہ تھا ۔ اللہ تعالی کے محبوب اعظم ﷺ کی زوجہ محترمہ کی عصمت کا معاملہ تھا۔ اور در پردہ قیامت تک آنے والی تمام خواتین کی عزت وآبرو کا معاملہ تھا۔ تہمت کا تعلق کردار سے تھا ، پاک دامنی سے تھا ، ایک عورت کے لئے اپنی عصمت سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہیں ہوتی۔ ایک عورت اپنی عصمت کے تحفظ کیلئے دنیا کا سارا عیش وآرام قربان کرنے کیلئے ہمہ وقت مستعد ہوتی ہے ۔ اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کا معاملہ حضور اقدس ﷺ فوراً رفع دفع فرمادیتے، تو اس سے معاملہ کی اہمیت اور سنگینی کا احساس نہ ہوتا۔ آئے دن ایسے اتہامات کا اعادہ اور سلسلہ جاری رہتا۔ صرف حضرت عائشہ صدیقہ ہی نہیں بلکہ اور بھی پاک دامن خواتین کے دامن عصمت جھوٹی تہمتوں سے داغدار ہوتے رہتے ۔ اور اس کا دائمی طور پر کوئی تدارک نہ ہوتا ۔ حضوراقدس ﷺ نے معاشرے سے اس قسم کے رذیل افعال کو نیست و نابود فرمانے میں جو کردار ادا فرمایا ہے، وہ پوری دنیا کے لئے ضرب المثل ہے۔ آپ یہ چاہتے تھے کہ الزام تراشی کی عادت قبیحہ کو اس طرح ختم کیا جائے اور ایسے اقدام کئے جائیں کہ کوئی بھی شخص کسی پاک دامن عورت کی عصمت پر تہمت لگانے سے پہلے اس کے انجام سے با خبر اور خوفزدہ ہوکر اس کے ارتکاب سے تھر تھر کانپے ۔

آج تو میری زوجہ محترمہ کی عصمت کو نشانہ بنایا گیا ہے، کل کسی اور پاک دامن خاتون کی ردائے عصمت کو خنجر تہمت سے پاش پاش کیا جائے گا ۔ لہذا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سبب بنا کر عصمت النسا کے تحفظ کے دائمی اور مستقل اقدام اٹھائے جائیں۔ اسی لئے اس معاملہ کو اتنی زیادہ اہمیت دی گئی اور اہمیت دینے کیلئے ہی اس معاملہ کو اتنا طول دیا گیا ۔ طول دینے سے اہم امر یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ سماج کے سب لوگ اس سے واقف ہوجاتے ہیں اور سب لوگوں کی آراء و نظریات معلوم ہو جاتے ہیں تاکہ کل اٹھ کر کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے اس معاملہ کی اطلاع ہی نہ ہوئی ، ورنہ میں اپنی رائے اس طرح پیش کرتا ۔ تو جب سماج کے سب لوگ اس سے واقف ہوجاتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس معاملے کا حل اور فیصلہ ہوتا ہے تو پھر کسی کو غیر مطمئن ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اور ا ن سب امور کے حصول کے لئے معاملے کو طول دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ کوئی بھی شخص بعد میں اپنی لا علمی کا اظہار و بہانہ نہ کر سکے ۔ لہذا اسی غرض و حکمت کی بنا پر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی جھوٹی تہمت کے معاملے کو ایک ماہ سے زیادہ مدت تک طول دیا گیا ۔

کسی معاملے کو طول دینے سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کون اپنا ہے اور کون پرایا ۔ اپنی وفا داری اور جانثاری کا دم بھرنے والے کا امتحان ہوتا ہے کہ عین وقت پر کون ثابت قدم رہتا ہے اور کس کے پائے استقلال میں تزلزل آجاتا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہوتا ہے کہ کون مخلص ہے اور کون غیر مخلص ؟ بہت سے لوگ کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ تذبذب کے شکار رہتے ہیں ۔ان کے عزم و ارادے ، فیصلے اور رائے میں اپنا کوئی نظریہ کار گر نہیں ہوتا ۔ بلکہ وہ دوسروں پر منحصر ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ماحول کے پیش نظر جہاں جھکائوں ہوتا ہے اسی طرف جھکتے ہیں ۔ ناقص الرائے اور ناقص العقل ہونے کی وجہ سے وہ لوگ دوسروں کے فعل و ارتکاب کا اتباع کرتے ہیں ۔ ذاتی طور پر کچھ فیصلہ کرنے سے وہ لوگ عاجز و قاصر رہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں میں خود اعتمادی اور خود ارادیت Self Determinationکا فقدان ہوتا ہے ۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے ارادوں اور فیصلوں کے محتاج اور مرہون منت ہوتے ہیں ۔ اور یہ خصلت اور عادت مذموم و ناپسندیدہ ہے ۔ کیونکہ اس میں خوف وا ندیشہ ہوتا ہے کہ آدمی حق وباطل کا فیصلہ کئے بغیر کسی کی دیکھا دیکھی میں غلط راہ اختیار کرکے گمراہ ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کا عام حالت میں پتہ نہیں لگتا بلکہ جب کبھی کوئی سنگین معاملہ ہوتا ہے، تب ان کی ذہنی بے مائیگی کا پتہ چلتا ہے ۔ ایسے لوگ ماحول سے متأثر ہوکر ہمیشہ چلتی گاڑی میں چڑھ جانے کی طامع ذہنیت رکھتے ہیں ۔ بلکہ اپنے نفع اور لالچ کے حصول کی خو کی بناء پر اتنے خود غرض ہوتے ہیں کہ ان کو آنکھوں کی شرم بھی نہیں ہوتی، دوستی اور وفاداری کے تمام عہد و پیمان وہ لوگ فراموش کر جاتے ہیں ۔ بتقاضۂ دوستی و محبت مصیبت کے وقت مدد کرنا وہ بھول جاتے ہیں ، مدد کرنا تو درکنار، الٹے وہ مخالفت کرنے والوں کے زمرے میں اپنی جائے نشست اختیار کر لیتے ہیں ۔ ایسے جھوٹے مدعی ٔدوستی اور سچے وفادروں کا امتیاز مصیبت کے معاملے کے وقت ہی صحیح طور پر ہوتا ہے ۔ عام حالات میں زبانی اقرار محبت وفاداری تو سب کرتے ہیں لیکن جب موقع آتا ہے تب عاشق صادق سایہ کی طرح ساتھ رہتا ہے اور دھوکے باز اڑ کر سامنے والے کنارے چلا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے ظاہری رویئے سے پتہ نہیں چلتا کہ جناب عالی کس فریق سے تعلق رکھتے ہیں ؟لیکن جب موقع آتا ہے تو ایسے لوگ اپنی محبت و عداوت کا اطہار کرنے میں ذرہ برابر کی بھی کاہلی نہیں کرتے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ ان کو تو ہم کیا سمجھتے تھے اور یہ کیا نکلے ۔ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی جھوٹی تہمت کے معاملے کو اتنی لمبی مدت تک طول دینے کے پس پردہ حکمت ایزدی یہی تھی کہ لوگوں کا امتحان اور آزمائش ہوجائے اور اس امتحان کے ذریعہ لوگوں کا امتیاز بھی ہوجائے ۔ قارئین کو حیرت ہوگی کہ منافقین کی باتوں کے جال میں سادہ لوح اور بھولے بھالے مسلمان بھی پھنس گئے تھے اور ان کا شمار بھی اہل افک یعنی تہمت لگانے والوں میں ہوتا ہے ۔ بڑاہی سنگین معاملہ تھا ۔ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے امتحان و آزمائش کا وقت تھا ۔ اللہ تبارک و تعالی اپنے بندوں کا ایسے موقع پر امتحان لیتا ہے ۔ جب پہلے بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تھا،تب بھی اللہ تعالی نے لوگوں کا امتحان لیا تھا ۔ جس کی تفصیل اس آیت میں ہے ۔

وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا إلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰی عَقِبَیْہِ ۔ ( پارہ ۲۔ سورہ بقرہ آیت ۱۴۳)

ترجمہ : اور اے محبوب تم پہلے جس قبلہ پر تھے ، ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پائوں پھر جاتا ہے ۔

(کنزالایمان )

اللہ تبارک و تعالی اپنے بندوں کو آزماتا ہے اور امتحان لیتا ہے اور جو امتحان میں ناکام ہوتے ہیں ان پر سزا و عتاب فرماتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی تہمت کے معاملے میں اچھوں اچھوں کا امتحان ہوگیا ۔جو سادہ لوح اور بھولے بھالے مسلمان منافقین کے دام فریب میں آکر اہل افک میں شامل ہوگئے تھے، ان کو حد قذف کی سزا یعنی کہ اسی۸۰؎ کوڑے لگوائے گئے ۔

اس واقعہ کی وجہ سے قرآن مجید میں آیت تیمم نازل ہوئی جو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے راحت اور آسائش ہے ۔

ایک کہاوت ہے کہ ’’ خدا جب دین لیتا ہے تو عقلیں بھی چھین لیتا ہے‘‘ زمانۂ اقدس ﷺ کے منافقین نے حضرت عائشہ صدیقہ پر جھوٹی تہمت لگاکر شہرت اور غلط پروپیگنڈوں کا بازار تو گرم کر دیا لیکن ان کی عقلوں پر بے وقوفی کے پردے پڑگئے تھے۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ جس شخص کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نام جوڑ رہے تھے، وہ شخص یعنی حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ سے ایسی حرکت کے صدور کا امکان ہی نہ تھا۔ کیونکہ حضرت صفوان ’’ نامرد ‘‘ تھے ۔ امام قسطلانی شارح صحیح بخاری فرماتے ہیں کہ ’’ یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ گئی ہے کہ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نامرد تھے ۔ اور ان کا آلۂ تناسل ناکارہ تھا ۔ خود حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے اپنی نا مردگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ۔ میں نے کسی عورت کا پردہ نہیں اٹھایا ۔ مطلب یہ کہ میں نے کسی بھی عورت کے ساتھ جماع نہیں کیا ۔

(حوالہ: مدارج النبوۃ، شیخ عبد الحق محدث دہلوی اردو ترجمہ ، جلد ۲۔ ص ۲۸۴)

اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ زمانہ اقدس کے منافقین نے جو تہمت لگائی تھی اس میں کتنا دم تھا ، زمانہ اقدس کے منافقین کی اتباع میں دور حاضر کے منافقین بھی ایسی بے وقوفی سے لبریز باتیں کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے برأت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنی طرف سے نہ ظاہر کی بلکہ وحی آنے کے بعد اعلان برأت کیا۔ ان عقل کے اعمیٰ کو کیا نہیں معلوم کہ حضور اقدس جو کچھ فرماتے ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالی کے بتانے پر ، وحی و الہام ہونے پر ہی آپ کلام فرماتے تھے ۔ کبھی آپ کی زبان اقدس سے نکلا ہوا کلام بصورت قرآن ہوتا تھا اور کبھی بصورت حدیث ۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے کہ

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی إنْ ھُوَ إلاَّ وَحْیٌ یُوْحٰی

( پارہ ۲۷ ، سورہ النجم ، آیت ۳ )

ترجمہ ’’ اور کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے۔ وہ تو نہیں مگر جو وحی ان کو کی جاتی ہے ‘‘ ( کنز الایمان )

دور حاضر کے منافقین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر لگائی گئی جھوٹی تہمت کے واقعہ کو آڑ بناکر حضور اکرم ﷺ کے علم غیب کی نفی کی راہ نکالنے کی مضحکہ خیز باتیں کرکے خود مضحکہ خیز بنتے ہیں ۔ عداوت و بغض نبی میں اپنے ذہنی اختراع کی بے تکی اور بے جا باتیں اپنی ناپاک زبان سے کہہ کر اپنی بے راہ روی کا ثبوت دیتے ہیں ۔ حالانکہ حضور اقدس ﷺ کے علم غیب کے اثبات میں آیات قرآن ، دفاتر احادیث اور اقوال ائمۂ دین اتنی کثیر و وافر تعداد میں شاہد و عادل ہیں کہ کئی ضخیم کتب مرتب ہوسکتی ہیں ۔

امام اہل سنت ،مجدد دین و ملت ،امام احمد رضا محقق بریلوی اس پورے واقعے کی عکاسی اپنے اس شعر میں یوں کرتے ہیں ۔

یعنی ہے سورئہ نور جن کی گواہ

ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام

یعنی امام اہل سنت ام المومنین حضرت عائشہ کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں کہ وہ ایسی پاک دامن اور عصمت و عفت مآب تھیں کہ ان محاسن کی وجہ سے ان کی صورت نورانی تھی ’’ ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام ‘‘ اور یہ حقیقت ہے کہ پاک دامن اور نیک کردار کے چہرے پر ہی نور ہوتا ہے ۔بدعقیدہ اور بد عمل کے چہرے پر نور نہیں ہوتا بلکہ سیاہی اور کالک ہوتی ہے ۔ ان کا چہرہ دیکھنے میں بھی مکروہ محسوس ہوتا ہے ۔

اللہ تعالی اپنے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدقے میں ہر سنی مسلمان کو انبیائے کرام علی نبینا و علیہم الصلوٰۃ و السلام کی سچی عظمت و محبت عطا فرمائے اور انبیائے کرام کی مقدس ازواج کی تعظیم و تکریم کا جذبہ عطا فرمائے ۔ اور ان کی جناب میں نا زیبا و ناشائستہ الفاظ بولنے سے محفوظ و مامون رکھے ۔

آمین ۔ یا رب العالمین ۔

و صلی اللہ تعالی علی خیر خلقہ و نور عرشہ سیدناو مولانا محمد و آلہ و أزواجہ و أصحابہ و أہل بیتہ أجمعین ۔ آمین ۔

ء…ء…ء…ء…ء