عورتوں کی زندگی بڑی نازک

سماج میں عورتوں کی زندگی اتنی نازک ہوتی ہے کہ نہ پوچھو بات،جیسے بازار میں بیچے جانا والا کپڑا،اسے ایک مرتبہ پہن لیا جائے تو کتنا اچھا ہونے کے باوجوداسے پرانا اور بوسیدہ کہا جائے گا،نئے داموں میں اسے فروخت نہیں کیا جاسکتا،وہ بازار کے قابل نہیں اتواری میں سستے داموںفروخت کے لائق ہو جاتا ہے،بس یہی مثال ایک عورت کی سماجی زندگی کی ہے، اس لئے عورت کو چاہیئے کہ اپنے ناموس کی حفاظت کرے اور اس معاملہ میں اپنے دامن کو داغدار نہ ہونے دے ،زنا موت کے مرادف ہے ،اس لئے رحمت عالم ﷺ کی طرف سے آپکو بارہا نصیحت کی جارہی ہے کہ عورت کو پاکدامن رہنا چاہیئے اور اپنے شوہر سے والہانہ محبت کرنی چاہیئے کہ غیرکا خیال بھی دماغ میں نہ آ سکے،اور والدین کو بھی چاہیئے کہ لڑکیوں کو بٹھائے نہ رکھیں،جلدی سے انہیں بیاہ کر شوہر کے یہاں الوداع کر دینا چاہیئے،اسی میں ان کی بھی بھلائی ہے اور تمہاری بھی بھلائی ہے،دوسرے کی امانت کی حفاظت کرنا دور حاضر میں بڑا مشکل کام ہے،خیر اسی میں ہے کہ جس کی امانت ہے اسی کو سونپ دیا جائے

لڑکی امانت ہے غیر کی کب تک سنبھالو گے

خیر اسی میں ہے کہ شوہر کو سونپ دوگے