:: معراج : نظریہ اضافت کی روشنی میں ::

عن قتادہ عن انس بن مالک بن صعصہ ان النبی ﷺ حدثھم عن لیلۃاسری بہ ۔۔۔ ثم اتیت بد آبتہ دون البغل فوق الحمار ابیض یقال لہ البراق یضع خطوہ عند اقصی طرفہ۔۔۔۔۔(مشکوۃ شریف صفحہ 527 )

حضور ﷺ نے شب اسری کے متعلق فرمایا ۔۔۔ ’’ پھر ایک سواری لائی گئی ، خچر سے چھوٹی گدھے سے بڑی رنگ سفید ۔نام براق جدھر نظر کی انتہا ہوتی وہاں وہ پائوں رکھتی ۔

معراج اور سائنس

معراج کے متعلق قرآن مجید میں پندرھویں پارے کے آغاز میں فرمایا ’’ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی رات کے تھوڑے سے حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصی تک ‘‘

آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوگیا کہ معراج ’’لیلا ‘‘ رات کو ہوئی اور ساری رات نہیں ہوئی رات کے کچھ حصہ میں ہوئی ، قرآن مجید نے پندرھویں پارے میں فرشی معراج کا ذکر کیا اور سورہ نجم میں عرشی معراج کا ذکر کیا ، مشکوۃ شریف کے صفحہ 529 کی لائن 21 پہ عبد اللہ ابن مسعود راضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ::

جب حضو ر ﷺ کو سیر کرائی گئی تو سدرۃ المنتھی تک گئے اور یہ چھٹے آسمان پہ ہے ، اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جاسکتا کہ حضور ﷺ آگے گئے ہی نہیں ، یہ اس سفر کی انتہا کا ذکر کیا جارہا ہے جو براق پہ ہوا ، کوئی دنیاوی شے آگے نہیں جاسکتی ، اس لئے اسے منتہی کہتے ہیں ، آپ اگر واقعہ معراج کو تفصیل سے پڑھیں تو معلوم ہو جائے گا حضور ﷺ کہاں کہا ں تشریف لے گئے ، کیونکہ واپسی پر جیسا جیسا آدمی تھا اسکو ویسی ویسی یہ بات بتائی ، آپ اگر لندن جائیں جب واپس آئیں تو کیا ہر ملنے والے کو تمام روائیداد سنائیں گے ؟ ہرگز نہیں ، عام آدمی ملے گا تو پوچھے گا کدھر گئے تھے آپ اتنا ہی کہوگے ’’ یار لندن گیا تھا ‘‘ اب جوں جوں زیادہ تعلق والا ملے گا توتفصیل بڑھتی جائے گی باپ پوچھے گا کچھ بتائو گے ، بھائی پوچھے گا سفر کی کوئی بات بتائو گے ، بیوی پوچھے گی اسے اور طرح سے بتائوگے ، اس لئے سفر معراج کی روئیداد آپ کو مختلف ملتی ہیں میں نے واقعہ معراج نہیں سنانا ، چند سائنسی توجیہات کی طرف توجہ مبذول کروانی ہے ۔

سفر سے پہلے شق صدر کا مطلب ؟

فشق مابین ھذہ الی ہذہ یعنی من ثغرۃ نحرہ الی شعرتہ فا ستخرج قلبی ثم اتیت بطشت من ذھب مملو ایمانا فغسل قلبی ثم خشی ثم اعید ۔۔۔ ثم ملئی ایماننا وحکمتہ ۔۔۔الخ

حضور ﷺ کا سینہ مبارک جبرئیل علیہ السلام نے چاک کیا ۔دل نکالاسونے کے طشت ایمان سے بھرا ہوا لایا گیا دل دھویا گیا پھر لوٹایا گیا پھر ایمان و حکمت سے بھرا گیا ۔

جب بچپن میں شق صدر ہو چکا تھا اب پھر کیوں ضرورت پڑی ؟ کیا عین ایمان میں بھی ایمان بھرنا ہے ؟ حقیقت میں حضور ﷺ نے یہ فرمایا معراج سے پہلے میرا سینہ چاک کیا گیا دل نکالا گیا ۔ ایمان اور حکمت سے بھرا ۔ یہ ایک سائنسی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔

انیسویں صدی میں امریکہ اور روس چاند پر گئے ، زمین کے مدار سے نکل کر چاند پر گئے ، لیکن کمال مصطفی ﷺ ملاحظہ ہو آپ ﷺ مکاں سے لامکاں تک گئے لیکن خلا نوردوں کے لئے دو سو پونڈ وزنی لباس بنوایا گیا ، ہزاروں ٹن وزنی خلائی شٹل میں بیٹھایا گیا اور رفتار بیس ہزار میل فی گھنٹہ اس بات کی آپ کو خبر ہے جب اپالو واپس آیا تو زمین کے مدار میں داخل ہوتے ہی اُس کی رفتار انتالیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگئی تھی تو راکٹ کے باہر کی باڈی کا درجہ حرارت چھ ہزار ڈگری فارن ھائیٹ ہوگیا تھا جبکہ سو ڈگری پہ پانی ابلتا ہے ۔ اس لئے مخصوص لباس پہنائے جاتے ہیں جسے ملٹی لیئر کہا جاتا ہے ۔اور بند گاڑی میں بیٹھاتے ہیں کہ وہ ایئر فریکشن سے محفوظ ہوجائیں ، ہمارے نبی ﷺ جب کائنا ت کی سیر کے لئے نکلے تو بند گاڑی نہ تھی اور نہ کوئی مخصوص لباس تھا اور گاڑی کی رفتار 186000 کلومیٹر فی سیکنڈ تھی ۔ بتائے اس رفتار سے چلنے والا کوئی لوہا محفوظ ہوگا ؟ جب لوہا پگھل جاتا ہے تو گوشت کا کیا عالم ہوگا ؟ حضور ﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا اور دل دھویا اور نور ایمان سے بھرا اس کا مطلب ہی یہی ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کو بہت تیزی سے سفر کرنا ہے ایئر فریکشن کا خطرہ ہے ہم دل میں ایمان اور حکمت بھر رہے ہیں ۔ جب سواری چلے تو خود کو ایک دم لباس نور میں بدل لینا ۔

براق

حضور ﷺ کی سواری کا نام براق تھا ،سدرۃ المنتہیٰ تک آپ اسی سواری پر رہے ، لوگ اعتراض کرتے ہیں رات کو تھوڑے حصے میں ساری دنیا کائنات کا سفر ممکن نہیں ہے ۔

آئن اسٹائن کے نظریہ اضافت نے بھی ثابت کردیا کہ اگر بجلی کی رفتار سے سفر کیا جائے تو آدمی بہت جلد واپس آسکتا ہے ۔ حضور ﷺ نے خود سواری کی ہیت بھی بتادی ، رفتار بھی بتادی اور نام بھی بتادیا ۔

بتایا اس کا رنگ سفید ، نام براق ، براق برق سے نکلا ہے ، برق Electricity کو کہتے ہیں اور بجلی کی رفتار 186000 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے ، آپ کی سواری کی یہی رفتار تھی، کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا جدھر نظر اُدھر قدم ۔ یہ بجلی ہی کی رفتار ہے ۔ سدر ۃالمنتہیٰ بجلی کی رفتار سے گئے ۔اور سدرہ سے آگے اس سے بھی تیز رفتار سواریاں ملتی ہیں۔نظریہ اضافیت یہ ہے کہ کسی مادی شے کی رفتار رروشنی کی رفتار کے برابر نہیں ہوسکتی۔لیکن قربان جائیں اللہ تعالیٰ نے ایک جانور جنتی جانور کو بجلی کی رفتار عطا کردی ۔اس رفتار سے چاند پر جاتے ہوئے ایک منٹ اور 29 سیکنڈ نظریہ اضافت کے مطابق ممکن ہے کہ ایک سسٹم کا قلیل وقت کسی دوسرے سسٹم کے طویل وقت کے برابر ہو توٹھیک ہے

زنجیر بھی ہلتی رہی بستر بھی رہا گرم

اک پل میں سر عرش گئے آئے محمد ﷺ

دنیا کا قلیل وقت اوپر کے طویل وقت کے برابر ہوگیا ۔ یہاں رات کے حصے گزرے وہاں 18 سال گزرگئے ۔

اسے فزکس کے قائدے مطابق یوں ثابت کرتے ہیں۔

وقت حالت سکون میں :: to =

وقت حالت حرکت میں :: T=

ولاسٹی :: V=

روشنی کی رفتار :: C=

اس مساوات میں c روشنی کی رفتار ہے اب اگر آدمی کی رفتار ’’v ‘‘ روشنی کی

رفتار ’’C ‘‘ کے برابر ہوجائے یا قریب ہوجائے یہاں تک کہ

والا جز بہت ہی چھوٹا ہوجائے تو ’’To‘‘ یعنی زمین پر وقت کی حالت سکون کی چھوٹی سی مقدار کے مقابلے میں ’’T‘‘ یعنی معراج کے دوران وقت کی مقدار بہت زیادہ ہوجاتی ہے اور یہ ہی حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہم سیر کرکے آگئے اور ابھی صبح ہونے میں چار گھنٹے باقی تھے۔

اس کو حل کرکے اگر لکھنا چاہیں تو کچھ اس طرح ہوگا۔

اگر V اور C کو برابر کردیں ۔ تب بھی جواب Infinity ہوگا اور اگر ایک ہزار کا Difference کردیں تب بھی جواب یہی ہوگا۔

ــ:: افادات : محمد مختار شاہ صاحب قبلہ ::