أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِىَ لَهٗ ‌ؕ وَ يَذَرُهُمۡ فِىۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

جس کو اللہ گمراہی پر رکھے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور اللہ ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” جس کو اللہ گمراہی پر رکھے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور اللہ ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے “

کافروں کو گمراہی پر پیدا کرنے کا معنی 

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ کافروں کو اللہ نے گمراہ کیا ہے ورنہ وہ قیامت کے دن یہ حجت پیش کریں گے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ہم کو گمراہ کردیا تھا تو ہماری گمراہی میں کیا قصور ہے ؟ اور ہمیں اس گمراہی پر سزا دینا کس طرح عدل و انصاف پر مبنی ہوگا، بلکہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب مسلسل کفریہ عقائد پر جمے رہنے کی وجہ سے کافروں کے دلوں میں گمراہی راسخ ہوگئی اور وہ اپنی سرکشی میں حد سے بڑھ گئے اور انہوں نے اپنے اختیار سے اس چیز کو ضائع کردیا جو انہیں ہدایت اور ایمان کی دعوت دیتی تو پھر ان کے دلوں اور دماغوں میں دعوت حق کو قبول کرنے کی استعداد جاتی رہی اور وہ اس طرح ہوگئے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گمراہی پر پیدا کیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 186