أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَنَسۡتَدۡرِجُهُمۡ مِّنۡ حَيۡثُ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج تباہی کی طرف اس طرح لے جائیں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں چلے گا

تفسیر:

172 ۔ 173:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج تباہی کی طرف اس طرح لے جائیں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں چلے گا۔ اور میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے “۔

مشکل الفاظ کے معنی 

سنستدرجہم : یہ لفظ استدراج سے بنا ہے اس کا مادہ درجہ ہے۔ درجہ اس کپڑے کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز لپیٹ کر کسی جگہ رکھ دی اجائے۔ اور استدارج کا معنی ہے کسی چیز کو درجہ بہ درجہ اوپر چڑھانا یا درجہ بہ درجہ اس کو نیچے اتارنا، اور اس کا معنی ہے کسی چیز کو بتدریج لپیٹنا۔ علامہ طاہر پٹنی متوفی 986 ھ نے لکھا ہے استدراج کا معنی ہے کسی شئے کو تدبیر سے پکڑنا۔ (مجمع بحار الانوار ج 2، ص 168)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم ان کی ہلاکت کو قریب کردیں گے اور ان کے عذاب کو اس طرح دگنا کردیں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں چل سکے گا، کیونکہ یہ لوگ جب بھی کسی جرم کا ارتکاب کرتے ہیں یا کوئی گناہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر نعمت اور خیر کے دروازے کھول دیتا ہے، اس سے یہ بہت خوش ہوتے ہیں اور سرکش اور گمراہی میں اور زیادہ منہمک اور مستغرق ہوجاتے ہیں اور جوں جوں ان پر نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں یہ توں توں زیادہ گناہ کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اچانک ان کو عین غفلت میں اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس کسری کے خزانے لائے گئے تو انہوں نے کہا اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں مستدرج ہوں کیونکہ تو نے فرمایا ہے ہم ان کو بہ تدریج تباہی کی طرف اس طرح لے جائیں گے کہ ان کو پتا بھی نہیں چلے گا۔

املی لہم : اس کا معنی ہے میں ان کو مہلت دیتا ہوں۔ الاملاء کا معنی ہے مدت طویلہ۔ قرآن مجید میں ہے آزر نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا واھجرنی ملیا (مریم :46) تو لمبی مدت کے لیے مجھ سے دور ہوجا، اور ملوان کے معنی ہیں دن اور رات۔ (المفردات ج 2، ص 612 ۔ 613، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

” ان کیدی متین ” کید کے معنی ہیں خفیہ تدبیر اور متین کے معنی ہیں مضبوط۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ میں دنیا میں ان کو ان کے کفر پر اصرار کے باوجود باقی رکھتا ہوں اور ان کو جلدی سزا نہیں دیتا، اس لیے کہ یہ مجھ سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے، اور نہ مجھے سزا دینے سے روک سکتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا کید یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب دے گا اور اس کو کید اس لیے فرمایا کہ کفار پر وہ عذاب اچانک آئے گا جس کا انہیں پہلے سے بالکل اندازہ نہیں ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 182