أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِمَّنۡ خَلَقۡنَاۤ اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایک ایسا گروہ (بھی) ہے جو حق کی ہدایت دیتا ہے اور اسی کے ساتھ عدل کرتا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایک ایسا گروہ (بھی) ہے جو حق کی ہدایت دیتا ہے اور اسی کے ساتھ عدل کرتا ہے “

اس امت میں بھی حق کی ہدایت دینے والے اور حق کے ساتھ عدل کرنے والے ہیں 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : ہم نے بہت سے جن اور انسانوں کو جہنم کے لیے پیدا فرمایا ہے (الاعراف :179) اور اس آیت میں فرمایا اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایک گروہ ایسا (بھی) ہے جو حق کی ہدایت دیتا ہے اور اسی کے ساتھ عدل کرتا ہے۔ (الاعراف :181) اس میں یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے لیے بھی بہت مخلوق کو پیدا فرمایا ہے۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ میں فرمایا تھا اور موسیٰ کی قوم سے ایک گروہ ہے جو حق کی ہدایت دیتا ہے اور اسی کے ساتھ عمل کرتا ہے۔ (الاعراف :159) اور جب اس کلام کو دوبارہ ذکر فرمایا تو اکثر مفسرین کے مطابق اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ہے اور حسب ذیل روایات اس کی تاید کرتی ہیں۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن جریج نے کہا ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ میری امت ہے یہ حق کے ساتھ لیتے ہیں، دیتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں۔ 

قتادہ نے کہا ہم کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس آیت کی قراءت کرتے تو فرماتے یہ تمہارے لیے ہے اور تم سے پہلے ایک قوم کو بھی اس کی مثل دی گئی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھتے ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون۔ (الاعراف :159) ۔ (جامع البیان جز 9، ص 180 ۔ 181 ۔ تفسیر ابن ابی حات ج 5، ص 1623، تفسیر امام عبد الرزاق ج 1، رقم الحدیث : 962 ۔ زاد المسیر ج 3، ص 294 ۔ معالم التنزیل ج 2، ص 183 ۔ الدر المنثور ج 3، ص 616)

اجماع کے حجت ہونے پر احادیث 

اس آیت میں اس کی صریح دلیل ہے کہ اجماع امت حجت ہے اور کی تائید میں حسب ذیل احادیث ہیں :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت معاویہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ اللہ کے امر (دین) پر قائم رہے گا جو شخص ان کو ناکام کرنا چاہے یا ان کی مخالفت کرنا چاہے وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ ان کے پاس اللہ کا امر (موت) آجائے گا اور وہ اسی (طریقہ، دین) پر ہوں گے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3641 ۔ صحیح مسلم رقم الحدیث 1923 ۔ مسند احمد ج 4، ص 101 ۔ سنن دارمی رقم الحدیث :230 ۔ جامع الاصول ج 1، رقم الحدیث : 6777)

امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی 261 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کی خاطر لڑتا رہے گا اور قیامت تک غالب رہے گا۔ (صحیح مسلم الامارۃ، 173، (1923) 4871)

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں : معاویہ بن قرۃ اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اہل شام فاسد ہوجائیں تو اس میں تمہارے لیے کوئی خیر نہیں ہے اور میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ کامیاب رہے گا جو ان کو ناکام کرنا چاہے گا وہ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا حتی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2199، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 6، مسند احمد ج 7، رقم الحدیث : 20383، طبع جدید، مسند احمد ج 3، ص 436، ج 5، ص 35، طبع قدیم، صحیح ابن حبان ج 16، رقم الحدیث : 7302 ۔ المعجم الکبیر ج 19، ص 56، جامع الاصول ج 9، رقم الحدیث : 6778)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ میری امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا اور اللہ کا جماعت پر ہاتھ ہے، اور جو جماعت سے الگ ہو اور وہ دوزخ میں الگ ہوگا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2173 ۔ جامع الاصول ج 9، رقم الحدیث : 6761 ۔ کتاب الاسماء والصفات ص 322، کتاب السنہ ج 1، رقم الحدیث : 80، المستدرک ج 1، ص 115)

امام ابو داود سلیمان بن اشعث روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو مالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ نے تم کو تین چیزوں سے پناہ دی ہے۔ تمہارے خلاف تمہارا نبی دعاء ضرر نہیں کرے گا جس سے تم سب ہلاک ہوجاؤ۔ اور اہل باطل اہل حق پر غالب نہیں ہوں گے اور تم کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگے۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 4253 ۔ جامع الاصول ج 9، رقم الحدیث : 6760 ۔ اس کی سند ضعیف ہے)

امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی 273 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک میری امت گمراہی پر مجتمع نہیں ہوگی اور جب تم اختلاف دیکھو تو سواد اعظم کے ساتھ رہو۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3950)

امام احمد بن حنبل متوفی 241 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو بصر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اپنے رب عزوجل سے تین چیزوں کا سوال کیا اللہ تعالیٰ نے دو چیزیں مجھے عطا فرما دیں اور ایک دعا سے مجھے منع فرما دیا، میں نے اللہ عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت گمراہی پر جمع نہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عطا کردیا، اور میں نے اللہ عزوجل سے سوال کیا کہ میری امت قحط سے ہلاک نہ ہو جیسا کہ پہلی امتیں ہلاک ہوگئی تھیں تو اللہ عزوجل نے مجھے یہ عطا کردیا، اور میں نے اللہ عزوجل سے یہ سوال کیا کہ ان کو مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کرے جس کے نتیجہ میں بعض، بعض سے لڑیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دعا سے منع کردیا۔ (مسند احمد بن حنبل ج 6، ص 396، طبع قدیم، دار الفکر، بیروت۔ مسند احمد بن حنبل ج 18، رقم الحدیث : 27101، دار الحدیث قاہرہ)

امام عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی السمرقندی المتوفی 255 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمرو بن قیس انصاری (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرایا بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے وقت مرحوم پر پہنچایا اور میرے لیے مختصر مدت رکھی، ہم (بعثت میں) آخر ہیں اور قیامت کے دن سابق ہوں گے، اور میں یہ بات بغیر فخر کے کہتا ہوں کہ ابراہیم اللہ کے خلیل ہیں اور موسیٰ اللہ کے برگزیدہ ہیں اور میں اللہ کا حبیب ہوں، قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ساتھ ہوگا، اور بیشک اللہ عزوجل نے میری امت کے متعلق مجھ سے وعدہ کیا ہے اور ان کو تین چیزوں سے محفوظ رکھے گا۔ ان کو عام قحط سے ہلاک نہیں فرمائے گا اور نہ ان کو کوئی دشمن نیست و نابود کرے گا اور نہ ان کو گمراہی پر جمع کرے گا۔ (سنن دارمی رقم الحدیث : 54، مطبوعہ دار الکتاب العربی، 1407 ھ)

حافظ ابوبکر عمرو بن عاصم الضحاک بن مخلد الشیبانی المتوفی 287 ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت کعب بن عاصم الاشعری (رض) کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس بات سے محفوظ رکھا ہے کہ وہ مگر اہی پر مجتمع ہو۔ (یہ حدیث حسن ہے) ۔ (کتاب السنہ ج 1، رقم الحدیث : 82، مطبوعہ المکتب الاسلامی، 1400 ھ)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کو اس سے محفوظ رکھا ہے کہ وہ گمراہی پر مجتمع ہوں۔ (یہ حدیث حسن ہے) (کتاب السنہ ج 1، رقم الحدیث : 83)

حضرت ابومسعود (رض) نے فرمایا تم جماعت کے ساتھ لازم رہو، کیونکہ اللہ عزوجل سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو گمراہی پر جمع نہیں کرے گا۔ (اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے راوی، صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے راوی ہیں) ۔ (کتاب السنہ ج 1، رقم الحدیث : 85 ۔ المعجم الکبیر للطبرانی ج 17، ص 240، مجمع الزوائد ج 5، ص 219)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 181