أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡئَـــلُوۡنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرۡسٰٮهَا ‌ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ رَبِّىۡ‌ ۚ لَا يُجَلِّيۡهَا لِوَقۡتِهَاۤ اِلَّا هُوَۘ ‌ؕ ثَقُلَتۡ فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ لَا تَاۡتِيۡكُمۡ اِلَّا بَغۡتَةً ‌ ؕ يَسۡــئَلُوۡنَكَ كَاَنَّكَ حَفِىٌّ عَنۡهَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِ وَلٰـكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ آپ کہیے کہ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے، اس کے وقت پر صرف وہی اس کو ظہور میں لائے گا، آسمانوں اور زمینوں پر قیامت بہت بھاری ہے وہ تمہارے پاس اچانک ہی آئے گی، وہ آپ سے اس کے متعلق اس طرح سوال کرتے ہیں گویا آپ اس کی جستجو میں ہیں، آپ کہیے اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی ؟ آپ کہیے کہ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے، اس کے وقت پر صرف وہی اس کو ظہور میں لائے گا، آسمانوں اور زمینوں پر قیامت بہت بھاری ہے وہ تمہارے پاس اچانک ہی آئے گی، وہ آپ سے اس کے متعلق اس طرح سوال کرتے ہیں گویا آپ اس کی جستجو میں ہیں، آپ کہیے اس کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے “

آیات سابقہ سے ارتباط 

قرآن مجید کے بنیادی مضمون چار ہیں توحید، رسالت، تقدیر اور قیامت، اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید، رسالت اور قضاء و قدر کے متعلق آیات نازل فرمائی تھیں تو اب قیامت کے متعلق آیت نازل فرمائی، دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے فرمایا : شاید ان کا مقررہ وقت قریب آچکا ہے (الاعراف :185) تاکہ انہیں توبہ اور اصلاح پر برانگیختہ کیا جاسکے۔ اس کے بعد فرمایا یہ لوگ قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں، تاکہ ان کے دلوں میں یہ بات جاگزیں ہو کہ قیامت کا وقت لوگوں سے مخفی رکھا گیا ہے اور اس سے مسلمانوں کو توبہ اور اداء واجبات میں جلدی کرنے پر برانگیختہ کیا جائے۔

مشکل الفاظ کے معانی 

الساعۃ : ساعۃ کا لغوی معنی ہے زمانہ کا قلیل جز جو غیر معین ہو، اور عرفی معنی ہے دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ، اور اس کا شرعی معنی ہے قیامت، یہ وہ وقت ہے جس میں تمام جہان ختم ہوجائے گا، حضرت اسرافیل (علیہ السلام) پہلا صور پھونکیں گے اور کائنات کی ہر چیز فنا ہوجائے گی۔

ایان مرساھا : ایان کا معنی ہے کب، مرسی کا لفظ ارساء سے بنا ہے، ارساء السفینہ کا معنی ہے سمندر میں لنگر ڈال کر جہاز کو ٹھہرانا، اور یہاں مراد یہ ہے کہ قیامت کے وقوع اور حصول کا وقت کب ہے۔ 

لایجلیھا : اس کا معنی ہے اس کو منکشف نہیں کرے گا، یا ظاہر نہیں کرے گا۔ 

بغتۃ : البغت کا معنی ہے کسی چیز کا اچانک بغیر توقع اور وہم و گمان کے واقع ہوجانا، قتادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے تھے کہ قیامت لوگوں پر ٹوٹ پڑے گی، در آنحالیکہ کوئی شخص اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہوگا اور کوئی شخص اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہا ہوگا اور کوئی شخص بازار میں سودا بیچ رہا ہوگا اور کوئی شخص اپنے ترازو کو اوپر نیچے کر رہا ہوگا۔ (جامع البیان ج 9، ص 186 ۔ 187، الدر المنثور، ج 3، ص 619)

حفی عنہا : الحفی کا معنی ہے کسی چیز کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی بہت کوشش کرنا، جو شخص کسی چیز کے متعلق سوال کرنے میں بہت مبالغہ کرے اس کو حفی کہا جاتا ہے۔ امام بخاری حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں : سئلوا النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی احفوہ بالمسئلۃ۔ صحابہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات کیے حتی کہ سوالات میں بہت مبالغہ کیا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 7089، صحیح مسلم مفضائل 137 (2359) 600 ۔ مسند احمد ج 3، ص 177، طبع قدیم)

وقت وقوع قیامت کو مخفی رکھنے کی حکمت 

امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :

یعنی جس وقت قیامت واقع ہوگی اس وقت کو اللہ سبحانہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس کی نظیر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات ہیں : 

ان اللہ عندہ علم الساعۃ : بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے (لقمان :34)

ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا : بلاشبہ قیامت آنے والی ہے میں اس کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں (طہ :15)

ویقولون متی ھذا الوعدہ ان کنتم صدقین۔ قل انما العلم عنداللہ وانما انا نذیر مبین : اور وہ کہتے ہیں کہ قیامت کا یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اگر تم سچے ہو۔ آپ کہیے کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو صرف اللہ کے عذاب سے علی الاعلان ڈرانے والا ہوں۔ (الملک : 25 ۔ 26)

اور جب حضرت جبرئیل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ بندوں سے قیامت کے وقوع کے وقت کو مخفی رکھنے کا سبب یہ ہے کہ جب انہیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ قیامت کب آئے گی تو وہ اس سے بہت زیادہ ڈریں گے اور ہر وقت گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گناہوں میں مشغول ہوں اور قیامت آجائے، اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہر وقت کوشاں رہیں گے۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 423، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

علم قیامت کے متعلق لوگوں کے سوالات اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جوابات 

امام ابن اسحق، امام ابن جریر اور امام ابو الشیخ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حمل بن ابی قشیر اور سمویل بن زید نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا اگر آپ برحق نبی ہیں تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب آئے گی ؟ کیونکہ ہمیں معلوم ہے وہ کیا چیز ہے، تب یہ آیت نازل ہوئی : یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں وہ کب آئے گی ! آپ کہئے کہ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے۔ الایۃ۔

امام عبد بن حمید اور ابوالشیخ نے شعبی سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی حضرت جبرئیل سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا السلام علیک یا روح اللہ ! انہوں نے جواب دیا وعلیک یا روح اللہ ! حضرت عیسیٰ نے کہا اے جبرئیل قیامت کب ہوگی ؟ تو جبرئیل نے اپنے پر جھاڑے پھر کہا جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا وہ آسمانوں اور زمینوں پر بھاری ہے اور وہ اچانک ہی آئے گی۔ (الدر المنثور ج 3، ص 619 ۔ 620، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی 256 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ آپ نے فرمایا تم پر افسوس ہے ! تم نے قیامت کے لیے کیا تیار کی ہے ؟ اس نے کہا میں نے قیامت کے لیے اس کے سوا اور کوئی تیاری نہیں کی کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا تم اس کے ساتھ رہوگے جس سے محبت کرتے ہو، ہم نے پوچھا : ہم بھی اسی طرح ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! تو ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے۔ امام مسلم کی روایت 6589 میں ہے حضرت انس (رض) نے کہا، میں اللہ اور اس کے رسول اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے محبت کرتا ہوں۔ ہرچند کہ میرے عمل ان کے اعمال کی طرح نہیں ہیں، امام مسلم کی روایت 6591 میں ہے اس اعرابی نے کہا یارسول اللہ ! میں نے قیامت کے لیے بہت بھاری نمازوں، روزوں اور صدقات کی تیاری تو نہیں کی لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3688، 6167، 7153 ۔ صحیح مسلم فضائل الصحابہ : 164، 163، 161 (2639) 6586، 689، 6591)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں مسلمانوں سے گفتگو فرما رہے تھے اسی اثناء میں ایک اعرابی آیا اور اس نے پوچھا قیامت کب ہوگی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سلسلہ کلام جاری رکھا، بعض مسلمانوں نے کہا آپ نے اس کا سوال سن لیا تھا اور اس کو پسند نہیں فرمایا اور بعض نے کہا آپ نے سنا نہیں، جب آپ نے اپنی گفتگو مکمل فرما لی تو آپ نے پوچھا وہ شخص کہاں ہے جس نے قیامت کے متعلق سوال کیا تھا، اس نے کہا میں حاضر ہوں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا، اس نے پوچھا امانت کیسے ضائع ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب منصب نااہل کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرنا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 59، 6496 ۔ مسند احمد ج 2، ص 361 ۔ جامع الاصول ج 10، رقم الحدیث : 7904)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

قرآن مجید کی ظاہر آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وقوع قیامت کے وقت کا علم نہیں تھا، ہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرب قیامت کو اجمالی طور پر جانتے تھے اور آپ نے اس کی خبر بھی دی ہے۔ (روح المعانی ج 9، ص 134، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

میں کہتا ہوں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تفصیلی طور پر قیامت کے وقوع اور اس کے احوال کا علم تھا اور اس سلسلہ میں آپ سے بہت احادیث مروی ہیں جن کو ہم باحوالہ جات بیان کررہے ہیں۔ فنقول وباللہ التوفیق۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علامات قیامت کی خبر دینا 

1 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ ارض حجاز سے ایسی آگ نمودار نہ ہو جس سے بصری کے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں (صحیح البخاری رقم الحدیث : 7118، صحیح مسلم الفتن 42 (2902) 7156 ۔ جامع الاصول ج 10، رقم الحدیث : 7887)

2 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ تیس کذابوں کا خروج نہ ہو ان میں سے ہر ایک یہ زعم کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔ (صحیح مسلم الفتن 184 (2923) 7209 ۔ سنن ابوداود رقم الحدیث : 4334 ۔ سنن ترمذی رقم الحدیث : 2225 ۔ مسند احمد ج 2، ص 450، 527، جامع الاصول، ج 10، رقم الحدیث :7895)

3 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو، پس جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے اور جو لوگ اس سے پہلے ایمان نہ لائے ہوں ان کا اس دن ایمان لانا مفید نہ ہوگا یا جن لوگوں نے اس سے پہلے ایمان لے آئیں گے اور جو لوگ اس سے پہلے ایمان نہ لائے ہوں ان کا اس دن ایمان لانا مفید نہ ہوگا یا جن لوگوں نے اس سے پہلے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی نہ کی ہو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6506 ۔ صحیح مسلم الایمان 248 (157) 389 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 4002 ۔ سنن ترمذی رقم الحدیث : 2191، 3235 ۔ مسند احمد، ج 5، ص 145، 165 ۔ جامع الاصول ج 10، رقم الحدیث : 7897)

4 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ درندے انسانوں سے باتیں نہ کریں اور انسان سے اس کے کوڑے کا پھندا بات نہ کرے اور اس سے اس کی جوتی کا تسمہ بات نہ کرے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2188، جامع الاصول ج 10، رقم الحدیث : 7899)

5 ۔ حضرت سلامہ بنت حر (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ اہل مسجد امامت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے کہیں گے اور انہیں نماز پڑھنے کے لیے کوئی امام نہیں ملے گا۔ (سنن ابوداود رقم الحدیث : 581، جامع الاصول ج 10، رقم الحدیث : 7908)

6 ۔ قیس بن ابی حازم حضرت مرداس اسلمی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیک لوگ ایک ایک کرکے چلے جائیں گے اور تلچھٹ (بھوسی) باقی رہ جائیں گے جیسے جو کی بھوسی یا ردی کھجوریں باقی رہ جاتی ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6434 ۔ مسند احمد ج 4، ص 193 ۔ سنن الدارمی رقم الحدیث : 2722 ۔ جامع الاصول ج 10، رقم الحدیث : 7909)

7 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے قیامت اس وقت تک نہیں قائم ہوگی حتی کہ ایک آدمی کسی آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا کاش اس کی جگہ میں ہوتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 7115 ۔ صحیح مسلم الفتن 53 (2907) 7168 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4037 ۔ الموطا رقم الحدیث : 165 ۔ مسند احمد ج 2، ص 36 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 7911)

8 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ زمانہ متقارب ہوجائے سال ایک ماہ کی طرح گزرے گا اور مہینہ ہفتہ کی طرح گزرے گا، اور ہفتہ ایک دن کی طرح اور ایک دن ایک گھنٹہ کی طرح گزرے گا اور ایک گھنٹہ آگ کی چنگاری کی طرح گزر جائے گا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3929 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 7913)

9 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ قیامت صرف اشرار (بد ترین لوگوں) پر قائم ہوگی۔ (صحیح مسلم الفتن 131، (2949) 7268 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 7916)

10 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ دو عظیم جماعتوں میں جنگ نہ ہو ان میں بہت بڑی جنگ ہوگی اور ان کا دعوی ایک ہوگا، اور حتی کہ تیس دجالوں کذابوں کا ظہور ہوگا ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے، اور حتی کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلے بکثرت ہوں گے اور زمانہ متقارب ہوگا اور فتنوں کا ظہور ہوگا اور بکثرت قتل ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3609، صحیح مسلم الفتن 17 (28880) 7123 ۔ مسند احمد ج 2، ص 313، جامع الاصول ج 10، رقم الحدیث : 7920)

11:۔ حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے دین کے لیے قتال کرتی رہے گی اور اپنے دشمنوں پر غالب رہے گی اور کسی کی مخالفت سے ان کو ضرر نہیں ہوگا حتی کہ ان پر قیامت آجائے گی اور وہ اسی حال پر ہوں گے، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) نے کہا ہاں اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جس کی خشبو مشک کی طرح ہوگی اور اس کا مس ریشم کی طرح ہوگا اور جس شخص کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ اس کی روح قبض کرلے گی پھر اشرار (بدترین لوگ) باقی رہ جائیں گے اور ان پر قیامت قائم ہوگی۔ (صحیح مسلم الامارۃ 176 (1924) 4874 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 7917)

12:۔ حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم آپس میں بحث کر رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے آپ نے فرمایا تم کسی چیز کا ذکر کر رہے ہو ؟ ہم نے کہا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا قیامت ہرگز اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو، پھر آپ نے دھوئیں کا، دجال کا، دابۃ الارض کا، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا، حضرت عیسیٰ بن مریم کے نزول کا، یاجوج ماجوج کا اور تین مرتبہ زمین کے دھنسنے کا ذکر فرمایا، ایک مرتبہ مشرق میں، ایک مرتبہ مغرب میں ایک مرتبہ جزیرہ عرب میں اور سب کے آخر میں ایک آگ ظاہر ہوگی جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔ (صحیح مسلم الفتن 39 (2901) 7152 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 4311 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 2183 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4041 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 7921)

13:۔ حضرت انس بن مالک (رض) نے کہا کیا میں تم کو وہ حدیث نہ سناؤں جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا اور میرے بعد کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کو سنا ہو، آپ نے فرمایا قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھایا جائے گا، اور جہل کا ظہور ہوگا، اور زنا عام ہوگا، اور شراب پی جائے گی اور مرد چلے جائیں گے اور عورتیں باقی رہ جائیں گی، حتی کہ پچاس عورتوں کا کفیل ایک مرد ہوگا۔ (صحیح مسلم العلم 9 (2671) 6660 ۔ صحیح البخاری، رقم الحدیث : 81 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 2212 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 4045 ۔ مسند احمد ج 3، ص 120 ۔ جامع الاصول، رقم الحدیث : 7922)

14:۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ زمانہ متقارب ہوجائے گا اور علم کم ہوجائے گا اور فتنوں کا ظہور ہوگا، اور قتل بہت زیادہ ہوگا۔ (صحیح مسلم العلم 10، (2672) 6662 ۔ صحیح البخاری، رقم الحدیث : 7062، 6064 ۔ سنن الترمذی : 2207 ۔ سنن ابوداود، رقم الحدیث : 4255، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 4050، 4051 ۔ مسند احمد ج 2، ص 525 ۔ جامع الاصول، رقم الحدیث : 7924)

15:۔ حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب میرے امت پندرہ کاموں کو کرے گی تو اس پر مصائب کا آنا حلال ہوجائے گا، عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کیا کام ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب مال غنیمت کو ذاتی دولت بنا لیا جائے گا، اور امانت کو مال غنیمت بنا لیا جائے گا اور زکوۃ کو جرمانہ سمجھ لیا جائے گا، جب لوگ اپنی بیوی کی اطاعت کریں گے اور اپنی ماں کی نافرمانی کریں گے، اور جب دوست کے ساتھ نیکی کریں گے اور باپ کے ساتھ برائی کریں گے، اور جب مسجدوں میں آوازیں بلند کی جائیں گی، اور ذلیل ترین شخص کو قوم کا سردار بنادیا جائے گا اور جب کسی شخص کے شر کے ڈر سے اس کی عزت کی جائے گی، شراب پی جائے گی اور ریشم پہنا جائے گا اور گانے والیاں اور ساز رکھے جائیں گے، اور اس امت کے آخری لوگ پہلو کو برا کہیں گے اس وقت تم سرخ آندھیوں، زمین کے دھنسنے اور مسخ کا انتظار کرنا۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2217 ۔ جامع الاصول، رقم الحدیث : 7925)

16:۔ حضرت ابومالک اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ میری امت میں ضرور ایسے لوگ ہوں گے جو ریشم کو شراب کو اور گانے بجانے کے آلات کو حلال کہیں گے اور ضرور کچھ لوگ پہاڑ کے دامن میں رہیں گے جب شام کو وہ اپنے جانوروں کا ریوڑ لے کر لوٹیں گے اور ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت لے کر آئے گا تو وہ کہیں گے کہ کل آنا، اللہ تعالیٰ پہاڑ گرا کر ان کو ہلاک کردے گا اور دوسرے لوگوں کو (جو ریشم، شراب اور باجوں کو حلال کہیں گے) مسخ کرکے قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر بنا دے گا۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5590 ۔ سنن ابو داود، رقم الحدیث : 4039، جامع الاصول، رقم الحدیث : 4937)

17:۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ عرب کا حاکم وہ شخص نہیں ہوگا جو میرے اہل بیت سے ہے اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا (یعنی محمد) اور دوسری روایت میں ہے اگر ایام دنیا میں سے صرف ایک دن باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اتنا لمبا کردے گا حتی کہ اس دن میں ایک شخص کو میرے اہل بیت سے مبعوث کرے گا جس کا نام میرے نام کے موافق اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہوگا وہ زمین کو اس طرح عدل اور انصاف سے بھردے گا جس طرح وہ پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی۔ (سنن ابوداود رقم الحدیث : 4282 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 2237)

18:۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مال بہت زیادہ نہ ہوجائے اور حتی کہ ایک آدمی اپنے مال کی زکوۃ لے کر نکلے تو اس کو کوئی شخص نہ ملے جو اس کو قبول کرے۔ (صحیح مسلم الزکوۃ 60 (1012) 2302) ۔ المشکوۃ رقم الحدیث : 5440)

19 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے، وہ حاکم عادل ہوں گے، وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے اور مال کو بہائیں گے حتی کہ اس کو کوئی قبول نہیں کرے گا، حتی کہ ایک سجدہ کرنا دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 2222 ۔ صحیح مسلم الاسیمان 242 (155) 1382 ۔ المشکوۃ رقم الحدیث : 5505)

20:۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت تمہاری کیا شان ہوگی جب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور امام تم میں سے ہوں گے (صحیح البخاری رقم الحدیث : 3449 ۔ صحیح مسلم الایمان 244 (155) 385 ۔ المشکوۃ رقم الحدیث : 5506)

21:۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عیسیٰ ابن مریم زمین کی طرف نازل ہوں گے اور ان کی اولاد ہوگی، اور وہ زمین میں پینتالیس سال رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور میرے ساتھ قبر میں دفن کیے جائیں گے، پس میں اور عیسیٰ بن مریم ایک قبر سے ابوبکر اور عمر کے درمیان سے کھڑے ہوں گے۔ (الوفا لابن الجوزی ص 814 ۔ المشکوۃ رقم الحدیث : 5508)

22:۔ حضرت زینب بنت جحش (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیند سے بیدار ہوئے در آنحالیکہ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ اور اس کو آپ نے تین مرتبہ دہرایا، آپ نے فرمایا عرب کے لیے اس شر سے ہلاکت ہو جو قریب آپہنچا ہے یا جوج ماجوج کی بندش آج کے دن کھل گئی، اس کی طرح پھر آپ نے دس کا عقد کیا، حضرت زینب نے کہا یا رسول اللہ ! کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہیں ! آپ نے فرمایا ہاں ! جب خباثت زیادہ ہوجائے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2194 ۔ صحیح البخاری رقم الحدیث : 3346 ۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : 2880 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 3953 ۔ صحیح ابن حبان ج 2، رقم الحدیث : 327 ۔ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : 20749 ۔ مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث : 19061 ۔ مسند الحمیدی رقم الحدیث : 308 ۔ السنن الکبری للبیہقی ج 10، ص 93، مسند احمد ج 10، رقم الحدیث : 27486)

23:۔ مجمع بن جاریہ الانصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن مریم، دجال کو باب لد پر قتل کریں گے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 2258 ۔ صحیح ابن حبان ج 15، رقم الحدیث 6811 ۔ المعجم الکبیر ج 19، رقم الحدیث : 1077 ۔ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : 20835)

24:۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دابۃ الارض نکلے گا اس کے پاس حضرت سلیمان بن داود کی انگوٹھی ہوگی اور حضرت موسیٰ بن عمران (علیہم السلام) کا عصا ہوگا، وہ مومن کے چہرے کو عصا سے روشن کرے گا اور کافر کی ناک پر انگوٹھی سے نشان لگائے گا حتی کہ قبیلہ کے لوگ جمع ہوجائیں گے اور وہ کہے گا یا مومن یا کافر۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : 3187 ۔ مسند احمد ج 3، رقم الحدیث : 7942)

25:۔ امام ابوبکر احمد بن حسنین بیہقی نے حضرت ابن عباس (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک طویل ارشاد روایت کیا ہے جس کے آخر میں آپ نے فرمایا یوم القیامۃ یوم عاشوراء ہے۔ (یعنی محرم کے مہینہ کی دس تاریخ) ۔ (فضائل الاوقات رقم الحدیث : 237، ص 441، مکتبہ المنارۃ مکہ مکرمہ، 1410 ھ)

26:۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے جس میں حضرت آدم پیدا کیے گئے اور اسی دن جنت سے باہر لائے گئے اور قیامت بھی صرف جمعہ کے دن قائم ہوگی۔ (صحیح مسلم الجمعہ 18، 854، 1944 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 1084 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 1373)

27:۔ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور دو دنوں میں اس کی روزی پیدا کی، پھر استواء فرمایا پھر دو دونوں میں آسمانوں کو پیدا فرمایا، زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا کی اور دو دنوں میں اس کی روزی پیدا کی، اور آسمانوں کو جمعرات اور جمعہ کے دن پیدا کیا اور جمعہ کی آخری ساعت میں عجلت سے حضرت آدم کو پیدا کیا اور اسی ساعت میں قیامت قائم ہوگی۔ (یہ حدیث حکماً مرفوع ہے) ۔ (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی، ص 383، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیامت واقع ہونے سے پہلے اس کی تمام نشانیاں بیان فرمائیں اور موخر الذکر تین حدیثوں میں یہ بھی بتادیا کہ محرم کے مہینہ کی دس تاریخ کو جمعہ کے دن، دن کی آخری ساعت میں قیامت واقع ہوگی، مہینہ، تاریخ، دن اور خاص وقت سب بتادیا صرف سن نہیں بتایا، کیونکہ اگر سن بھی بتا دیتے تو ہم آج جان لیتے کہ قیامت آنے میں اب اتنے سال باقی رہ گئے ہیں اور ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ پہلے لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اب ایک گھنٹہ بعد قیامت آئے گی اور قیامت کا آنا اچانک نہ رہتا اور قرآن جھوٹا ہوجاتا کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے : ” لا تاتیکم الا بغتۃ : قیامت تمہارے پاس اچانک ہی آئے گی ” (الاعراف :187) ۔ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید کے مکذب نہیں مصدق تھے اس لیے آپ نے قرآن مجید کے صدق کو قائم رکھنے کے لیے سن نہیں بتایا اور اپنا علم ظاہر فرمانے کے لیے باقی سب کچھ بتادیا۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علوم خمسہ اور علم روح وغیرہ دیے جانے کے متعلق علماء اسلام کے نظریات 

قیامت کب واقع ہوگی، بارش کب ہوگی، ماں کے پیٹ میں کیا ہے، انسان کل کیا کرے گا اور کون شخص کس جگہ مرے گا، یہ وہ امور خمسہ ہیں جن کا ذاتی علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، بحث اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو ان پانچ چیزوں کا علم عطا فرمایا ہے یا نہیں۔ بعض علماء سلف نے نیک نیتی کے ساتھ یہ کہا کہ یہ علوم اللہ تعالیی کے ساتھ خاص ہیں اور اس نے مخلوق میں سے کسی کو ان پانچ چیزوں پر مطلع نہیں فرمایا، اور اکثر اہل اسلام نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کو عموماً اور حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وآلہ وسلم کو خصوصاً ان پانچ چیزوں کے علوم میں سے بھی حظِ وافر عطا فرمایا ہے۔

اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340 ھ لکھتے ہیں : 

ان تمام اجماعات کے بعد ہمارے علماء میں یہ اختلاف ہوا کہ بیشمار علوم غیب جو مولی عزوجل نے اپنے محبوب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمائے، آیا وہ روز اول سے یوم آخر تک تمام کائنات کو شامل ہیں جیسا کہ عموم آیات و احادیث کا مفاد ہے یا ان میں تخصیص ہے۔ 

بہت اہل ظاہر جانب خصوص گئے ہیں کسی نے کہا متشابہات کا، کسی نے خمس کا، کثیر نے کہا ساعت کا اور عام علماء باطن اور ان کے اتباع سے بکثر علماء ظاہر نے آیات و احادیث کو ان کے عموم پر رکھا۔ (خالص الاعتقاد ص 27، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، کراچی)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علوم خمسہ و علم روح وغیرہ دیے جانے کے متعلق جمہور علماء اسلام کی تصریحات 

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم المالکی القرطبی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں : ” فمن ادعی علم شیء منہا غیر مسند الی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کان کاذبا فی دعواہ : جو شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت کے بغیر ان پانچ چیزوں کے جاننے کا دعوی کرے وہ اس دعوی میں جھوٹا ہے ” (المفہم، ج 1، ص 156، مطبوعہ دار ابن کثیر بیروت، 1417 ھ)

علامہ بدر الدین عینی حنفی، علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ احمد قسطلانی، ملا علی قاری اور شیخ عثمانی نے بھی اپنی شروح میں علامہ قرطبی کی اس عبارت کو ذکر کیا ہے : (عمدۃ القاری ج 1، ص 290، فتح الباری ج 1، ص 124، ارشاد الساری ج 1، ص 138، مرقات ج 1، ص 65، فتح الملہم ج 1، ص 172)

علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی لکھتے ہیں : ” قال بعضہم لیس فی الایۃ دلیل علی ان اللہ لم یطلع نبیہ علی حقیقۃ الروح بل یحتمل ان یکون اطلعہ ولم یامرہ انہ یطلعہم وقد قالوا فی علم الساعۃ نحو ھذا واللہ اعلم : بعض علماء نے کہا ہے کہ ( سورة بنی اسرائیل کی) آیت میں یہ دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کی حقیقت پر مطلع نہیں کیا، بلکہ احتمال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو روح کی حقیقت پر مطلع کیا ہو اور آپ کو اس کی اطلاع دینے کا حکم نہ دیا ہو، قیامت کے علم کے متعلق بھی علماء نے اسی طرح کہا ہے۔ واللہ اعلم ” (فتح الباری ج 8، ص 403)

علامہ احمد قسطلانی الشافعی نے بھی یہ عبارت نقل کی ہے۔ ارشاد الساری ج 7، ص 203)

علامہ زرقانی ” المواہب ” کی شرح میں لکھتے ہیں : ” (وقد قالوا فی علم الساعۃ) و باقی الخمس المذکورۃ فی ایۃ ان اللہ عندہ علم الساعۃ (نحو ھذا) یعنی انہ علمھا ثم امر بکتمہا : علم قیامت اور باقی ان پانچ چیزوں کے متعلق جن کا سورة لقمان کی آخری آیت میں ذکر ہے علماء نے یہی کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پانچ چیزوں کا علم عطا فرمایا اور آپ کو انہیں مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا ” (شرح المواہب اللدنیہ ج 1، ص 265)

علامہ جلال الدین سیوطی الشافعی لکھتے ہیں : ” ذھب بعضہم الی انہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اوتی علم الخمس ایضا و علم وقت الساعۃ والروح وانہ امر بکتم ذالک : اور بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امور خمسہ کا علم دیا گیا ہے اور وقوع قیامت کا اور روح کا بھی علم دیا گیا ہے اور آپ کو ان کے مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ” (شرح الصدور ص 319، مطبوعہ بیروت، الخصائص الکبری ج 2، ص 335، بیروت، 1405 ھ)

علامہ صاوی مالکی لکھتے ہیں :

قال العلماء الحق انہ لم یخرج نبینا من الدنیا حتی اطلعہ اللہ علی تلک الخمس ولکنہ امرہ بکتمہا : علماء کرام نے فرمایا کہ حق بات یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا سے اس وقت تک وفات نہیں پائی، جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان پانچ چیزوں کے علوم پر مطلع نہیں فرما دیا، لیکن آپ کو ان علوم کے مخفی رکھنے کا حکم فرمایا (تفسیر صاوی ج 3، ص 215)

اور علامہ آلوسی حنفی فرماتے ہیں : لم یقبض رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی علم کل شیئ یمکن العلم بہ۔ رسول اللہ اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس وقت تک وفات نہیں پائی جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہر اس چیز کا علم نہیں دے دیا جس کا علم دینا ممکن تھا۔ (روح المعانی ج 15، ص 154)

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں : ویجوز ان یکون اللہ تعالیٰ قد اطلع حبیبہ (علیہ الصلوۃ والسلام) علی وقت قیامہا علی وجہ کامل لکن لا علی وجہ یحا کی علمہ تعالیٰ بہ الا انہ سبحانہ اوجب علیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کتمہ لحکمۃ ویکون ذلک من خواصہ (علیہ الصلوۃ والسلام) ولیس عندی ما یفید الحزم بذلک : اور یہ بات جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب (علیہ الصلوۃ والسلام) کو وقوع وقت قیامت پر مکمل اطلاع دی ہو مگر اس طریقہ پر نہیں کہ اس سے علم الٰہی کا اشتباہ ہو الا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کا اخفاء واجب کردیا ہو اور یہ علم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواص میں سے ہو، لیکن مجھے اس پر کوئی قطعی دلیل حاصل نہیں ہوئی۔ (روح المعانی ج 21، ص 113)

امام رازی لکھتے ہیں : عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ المخصوص وھو قیام القیامۃ احدا ثم قال بعدہ لکن من ارتضی من رسول : اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ اپنے مخصوص غیب یعنی قیامت قائم ہونے کے وقت پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا، البتہ ان کو مطلع فرماتا ہے جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں۔ (تفسیر کبیر ج 10، ص 678)

علامہ علاؤ الدین خازن نے بھی یہی تفسیر کی ہے۔ (تفسیر خازن ج 4، ص 319)

علامہ تفتازانی لکھتے ہیں : والجواب ان الغیب ھھنا لیس للعموم بل مطلق او معین ھو وقت وقوع القیمۃ بقرینۃ السیاق ولا یبعد ان یطلع علیہ بعض الرسل من الملئکۃ او البشر : اور جواب یہ ہے کہ یہاں غیب عموم کے لیے نہیں ہے بلکہ مطلق ہے یا اس سے غیب خاص مراد ہے یعنی وقت وقوع قیامت، اور آیت کے سلسلہ ربط سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے اور یہ بات مستبعد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض رسولوں کو وقت وقوع قیامت پر مطلع فرمائے خواہ وہ رسل ملائکہ ہوں یا رسل بشر۔ (شرح المقاصد ج 5، ص 6، طبع ایران)

شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں : 

و حق آنست کہ در آیت دلیلے نیست بر آنکہ حق تعالیٰ مطلع نگر دانیدہ است حبیب خود را (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بر ماہیت روح بلکہ احتمال دارد کہ مطلع گرداییدہ باشد وامر نکرد اور کہ مطلع گرداند ایں قوم را و بعضی از علماء در علم ساعت نیز ایں معنی گفتہ اند الی ان قال ولے گوید ھندہ مسکین خصہ اللہ بنور العلم والیقین و چگونہ جرات کند مومن عارف کہ نفی علم بہ حقیقت روح سید المرسلین و امام العارفین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کند و دادہ است اور احق سبحانہ علم ذات وصفات خود و فتح کردہ بروے فتح مبین از علوم اولین و آخرین روح انسانی چہ باشد کہ در جنب حقیقت جامعہ وے قطرہ ایست از دریائے ذرہ از بیضائے فافہم وبا اللہ التوفیق۔ حق یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روح کی حقیت پر مطلع نہیں کیا بلکہ جائز ہے کہ مطلع کیا ہو اور لوگوں کو بتلانے کا حکم آپ کو نہ دیا ہو۔ اور بعض علماء نے علم قیامت کے بارے میں بھی یہی قول کیا ہے اور بندہ مسکین ـ(اللہ اس کو نور علم اور یقین کے ساتھ خاص فرمائے) یہ کہتا ہے کہ کوئی مومن عارف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روح کے علم کی کیسے نفی کرسکتا ہے وہ جو سید مرسلین اور امام العارفین ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات اور صفات کا علم عطا فرمایا ہے اور تمام اولین اور آخرین کے علوم آپ کو عطا کیے ہیں، ان کے سامنے روح کے علم کی کیا حیثیت ہے۔ آپ کے علم کے سمندر کے سامنے روح کے علم کی ایک قطرہ سے زیادہ کیا حقیقت ہے۔ (مدارج النبوہ ج 2، ص 40)

سید عبدالعزیز دباغ عارف کامل فرماتے ہیں : وکیف یخفی امر الخمس علیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والواحد من اھل التصرف من امتہ الشریفۃ لایمکنہ التصرف الا بمعرفۃ ھذہ الخمس : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان پانچ چیزوں کا علم کیسے مخفی ہوگا، حالانکہ آپ کی امت شریفہ میں سے کوئی شخص اس وقت تک صاحب تصرف نہیں ہوسکتا جب تک اس کو ان پانچ چیزوں کی معرفت نہ ہو۔ (الابریز ص 483)

علامہ احمد قسطلانی شافعی متوفی 911 ھ تحریر فرماتے ہیں : لایعلم متی تقوم الساعۃ الا اللہ الا من ارتضی من رسول فانہ یطلعہ علی من یشاء من غیبہ والولی تابع لہ یاخذ عنہ : کوئی غیر خدا نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی سوا اس کے پسندیدہ رسولوں کے کہ انہیں اپنے جس غیب پر چاہے اطلاع دے دیتا ہے۔ (یعنی وقت قیامت کا علم بھی ان پر بند نہیں) رہے اولیاء وہ رسولوں کے تابع ہیں ان سے علم حاصل کرتے ہیں۔ (ارشاد الساری ج 7، ص 178)

اعلی حضرت احمد رضا فاضل بریلوی کے تفحص اور تتبع سے حسب ذیل حوالہ جات ہیں : 

علامہ بیجوری شرح بردہ شریف میں فرماتے ہیں : لم یخرج (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من الدنیا الا بعد ان اعلمہ اللہ تعالیٰ بہذہ المور ای الخمسۃ : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے تشریف نہ لے گئے مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور کو ان پانچوں غیبوں کا علم دے دیا۔

علامہ شنوانی نے جمع النہایہ میں اسے بطور حدیث بیان کیا ہے کہ : قد ورد ان اللہ تعالیٰ لم یخرج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی اطلعہ علی کل شیئ : بیشک وارد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا سے نہ لے گیا جب تک کہ حضور کو تمام اشیاء کا علم عطا نہ فرمایا 

حافظ الحدیث سیدی احمد مالکی غوث الزماں سید شریف عبدالعزیز مسعود حسنی (رض) سے راوی : 

ھو (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لا یخجی علیہ شیء من الخمس المذکورۃ فی الایۃ الشریفۃ وکیف یخفی علیک ذالک والاقطاب السبعۃ من امتہ الشریفۃ یعلمونہا وھم دون الغوث فکیف بالغوث فکیف بسید الاولین والاخرین الذی ھو سبب کل شیئ ومنہ کل شیء : یعنی قیامت کب آئے گی، مینہ کب اور کہاں اور کتنا برسے گا۔ مادہ کے پیٹ میں کیا ہے، کل کیا ہوگا۔ فلاں کہاں مرے گا۔ یہ پانچوں غیب جو آیہ کریمہ میں مذکور ہیں ان میں سے کوئی چیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مخفی نہیں اور کیونکر یہ چیزیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوشیدہ ہیں حالانکہ حضور کی امت سے ساتوں قطب ان کو جانتے ہیں اور ان کا مرتبہ غوث کے نیچے ہے۔ غوث کا کیا کہنا پھر ان کا کیا پوچھنا جو سب اگلوں پچھلوں سارے جہان کے سردار اور ہر چیز کے سبب ہیں اور ہر شے انہیں سے ہے۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ (خالص الاعتقاد ص 43، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، کراچی)

اللہ تعالیٰ کی ذات میں علوم خمسہ کے انحصار کی خصوصیت کا باعث 

سورة لقمان کی آخری آیت میں فرمایا گیا ہے : ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث و یعلم ما فی الارحام وما تدری نفس ما ذا تکسب غدا وما تدری نفس بای ارض تموت ان اللہ علیم خبیر : بیشک اللہ ہی کے پاس ہے قیامت کا علم، اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے جو رحموں میں ہے، اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا، اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا، بیشک اللہ ہی جاننے والا، (جسے چاہے) خبر دینے والا ہے۔

اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان پانچ چیزوں کا ذاتی علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ ہر چیز کا ذاتی علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، پھر ان پانچ چیزوں کی تخصیص کی کیا وجہ ہے ؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ مشرکین ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے تھے اس لیے بتایا گیا کہ ان چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے، دوسرا جواب یہ ہے کہ مشرکین کا اعتقاد یہ تھا کہ ان کے کاہنوں اور نجومیوں کو ان کا علم ہے اس لیے بتایا گیا کہ ان کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔

علامہ اسماعیل حقی لکھتے ہیں : 

اس آیت میں ان پانچ چیزوں کا شمار کیا گیا ہے، حالانکہ تمام مغیبات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے تھے، روایت ہے کہ دیہاتیوں میں سے حارث بن عمر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ سے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا اور یہ کہ ہماری زمین خشک ہے میں نے اس میں بیج ڈالنے ہیں، بارش کب ہوگی ؟ اور میری عورت حاملہ ہے اس کے پیٹ میں مذکر ہے یا مونث، اور مجھے گزشتہ کل کا تو علم ہے لیکن آئندہ کل میں کیا کروں گا ؟ اور مجھے یہ علم تو ہے کہ میں کس جگہ پیدا ہوا ہوں لیکن میں کہاں مروں گا ؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ 

نیز اہل جاہلیت نجومیوں کے پاس جا کر سوال کرتے تھے اور ان کا یہ زعم تھا کہ نجومیوں کو ان چیزوں کا علم ہوتا ہے، اور اگر کاہن غیب کی کوئی خبر دے اور کوئی شخص اس کی تصدیق کرے تو یہ کفر ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل شدہ دین کا کفر کیا۔ 

اور یہ جو بعض روایات میں ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کرام غیب کی خبریں دیتے ہیں تو ان کا یہ خبر دینا، وحی، الہام اور کشف کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم دینے سے ہوتا ہے، لہذا ان پانچ چیزوں کے علم کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہونا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ ان غیوب پر انبیاء، اولیاء اور ملائکہ کے سوا اور کوئی مطلع نہیں ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ” عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا۔ الا من اترضی من رسول : (اللہ) غیب جاننے والا ہے تو اپنے غیب پر کسی کو (کامل) اطلاع نہیں دیتا مگر جن کو اس نے پسند فرما لیا، جو اس کے (سب) رسول ہیں “۔ (جن : 26 ۔ 27)

اور بعض غیوب وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی آت کے ساتھ خاص کرلیا، جن کی اطلاع کسی مقرب فرشتے کو ہے اور نہ کسی نبی مرسل کو، جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے : ” و عندہ مفاتح الغیب لا یعلمہا الا ھو : اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، اس کے سوا (بذات خود) انہیں کوئی جانتا ” (الانعام :59)

قیام کا علم بھی انہی امور میں سے ہے، اللہ تعالیٰ نے وقوع قیامت کے علم کو مخفی رکھا، لیکن صاحب شرعی کی زبان سے اس کی علامتوں کو ظاہر فرما دیا، مثلاً خروج دجال، نزول عیسیٰ اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، اسی طرح بعض اولیاء نے بھی الہام صحیح سے بارش ہونے کی خبر دی اور یہ بھی بتایا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے، اسی طرح ابو العزم اصفہانی شیراز میں بیماری ہوگئے انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے طرطوس میں موت کی دعا کی ہے اگر بالفرض شیراز میں مرگیا تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کردینا۔ (یعنی ان کو یقین تھا کہ ان کی موت طرطوس میں آئے گی) وہ تندرست ہوگئے اور بعد میں طرطوس میں ان کی وفات ہوئی۔ اور میرے شیخ نے بیس سال پہلے اپنی موت کا وقت بتادیا تھا اور وہ اپنے بتائے ہوئے وقت پر ہی فوت ہوئے تھے (روح البیان ج 7، ص 103 ۔ 105 ۔ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ، کوئٹہ)

اللہ تعالیٰ اور انبیاء (علیہم السلام) کے علم میں فرق کے متعلق اعلی حضرت کا نظریہ 

1 ۔ بلاشبہ غیر خدا کے لیے ایک ذرہ کا علم ذاتی نہیں، اس قدر خود ضرورت دین سے اور منکر کافر۔ 

2 ۔ بلاشبہ غیر خدا کا علم معلومات الٰہیہ کو حاوی نہیں ہوسکتا، مساوی درکنار تمام اولین و آخرین و انبیاء ومرسلین و ملائکہ مقربین سب کے علوم مل کر علوم الہیہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ، دونوں متناہی ہیں اور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہے۔ بخلاف علوم الٰہیہ کے غیر متناہی در غیر متناہی ہیں، اور مخلوق کے علوم اگرچہ عرش و فرش، شرق و غرب و جملہ کائنات از روز اول تا روز آخر کو محیط ہوجائیں آخر متناہی ہیں کہ عرش و فرش دو حدیں ہیں، شرق و غرب روز اول و روز آخر دو حدیں ہیں اور جو کچھ دو حدوں کے اندر ہو سب متناہی ہے۔ 

بالفعل غیر متناہی کا علم تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا، تو جملہ علوم خلق کو علم الٰہی سے اصلاً نسبت ہونی ہی محال قطعی ہے نہ کہ معاذ اللہ تو ہم مساوات۔

3 ۔ یوں ہی اس پر اجماع ہے کہ اللہ عزوجل کے دیے سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے یہ بھی ضروریات دین سے ہے، جو ان کا منکر ہو وہ کافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔ 

4 ۔ اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حصہ تمام انبیاء تمام جہان سے اتم و اعظم ہے۔ اللہ عز وجل کی عطا سے حبیب اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اللہ عزوجل ہی جانتا ہے۔ مسلمانوں کا یہاں تک اجماع تھا۔ (خالص الاعتقاد ص 23 ۔ 24، ملخصاً ، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، کراچی)

علم کی ذاتی اور عطائی کی تقسیم کے متعلق علماء اسلام کی تصریحات 

اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی لکھتے ہیں : 

علم یقیناً ان صفات میں ہے کہ غیر خدا کو بہ عطائے خدا مل سکتا ہے تو ذاتی و عطائی کی طرف اس کا انقسام یقینی، یوں ہی محیط و غیر محیط کی تقسیم بدیہی، ان میں اللہ عزوجل کے ساتھ خاص ہونے کے قابل صرف ہر تقسیم کی قسم اول ہے۔ یعنی علم ذاتی و علم محیط حقیقی۔

تو آیات و احادیث و اقوال علماء جن میں دوسرے کے لیے اثبات علم غیب سے انکار ہے، ان میں قطعاً یہی دو قسمیں مراد ہیں۔ فقہاء کہ حکم تکفیر کرتے ہیں انہیں قسموں پر حکم لگاتے ہیں کہ آخر مبنائے تکفیر یہی تو ہے کہ خدا کی صفت خاصہ دوسرے کے لیے ثابت کی۔ اب یہ دیکھ لیجئے کہ خدا کے لیے علم ذاتی خاص ہے یا عطائی۔ حاشا للہ علم عطائی خدا کے ساتھ خاص ہونا دردکانر خدا کے لیے محال قطعی ہے۔ کہ دوسرے کے دیے سے اسے علم حاصل ہو پھر خدا کے لیے علم محیط حقیقی خاص ہے یا غیر محیط۔ حاش اللہ علم غیر محیط خدا کے لیے محال قطعی ہے، جس میں بعض معلومات مجہول رہیں تو علم عطائی غیر محیط حقیقی، غیر خدا کے لیے ثابت کرنا، خدا کی صفت خاصہ ثابت کرنا کیوں کر ہوا۔

تکفیر فقہاء اگر اس طرف ناظر ہو تو معنی یہ ٹھہریں گے کہ دیکھو تم غیر خدا کے لیے وہ صرف ثابت کرتے ہو جو زنہار خدا کی صفت نہیں ہوسکتی لہذا کافر ہوا۔ یعنی وہ صفت غیر کے لیے ثابت کرنی چاہیے تھی جو خاص خدا کی صفت ہے۔ کیا کوئی احمق اس احمق ایسا اخبث جنون گوارا کرسکتا ہے۔ (خالص الاعتقاد ص 18، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی، کراچی)

علامہ ابن حجر مکی متوفی 911 ھ تحریر فرماتے ہیں : وما ذکرناہ فی الایۃ صرح بہ النووی (رح) تعالیٰ فتاواہ فقال معناھا لایعلم ذالک استقلالا وعلم احاطۃ بکل المعلومات للہ تعالیٰ : یعنی ہم نے جو آیات کی تفسیر کی، امام نووی (رح) تعالیٰ نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح کی فرماتے ہیں آیت کا معنی یہ ہے کہ غیب کا ایسا علم صرف خدا کو ہے جو بذات خود اور جمیع معلومات الہیہ کو محیط ہو۔ (فتاوی حدیثیہ ص 268، مطبوعہ مطبعہ مصطفیٰ البابی واولادہ بمصر، 1356 ھ)

علامہ ابن حجر مکی نے علامہ نووی کی جس عبارت کا حوالہ دیا ہے وہ حسب ذیل ہے : 

معناہ لا یعلم ذالک استقلالا وعلم احاطۃ بکل المعلومات الا اللہ واما المعجزات والکرامات فحصلت باعلام اللہ تعالیٰ للانبیاء والاولیاء لا استقلالا : جن آیات میں اللہ تعالیٰ کے غیر سے علم غیب کی نفی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی استقلالاً علم غیب کو نہیں جانتا یا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی کل معلومات کا احاطہ نہیں کرسکتا اور معجزات اور کرامات میں اللہ کے خبر دینے سے علم حاصل ہوتا ہے استقلالًا نہیں ہوتا۔ (فتاوی الامام النووی ص 173، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

امام فخر الدین رازی متوفی 606 البقرہ 34 کی تفسیر میں الانعام 50 کے متعلق لکھتے ہیں : 

یدل علی اعترافہ بانہ غیر عالم بکل المعلومات : یہ آیت آپ کے اس اعتراف پر دلالت کرتی ہے کہ آپ کل معلومات کو نہیں جانتے تھے (تفسیر کبیر ج 1، ص 436، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1415 ھ)

نیز امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ (الانام :50) کی تفسیر میں لکھتے ہیں : المراد من قولہ لا اقول لکم عندی خزائن اللہ انی لا ادعی کونی موصوفا بالقدرۃ اللائقۃ بالالہ تعالیٰ ومن قولہ ولا اعلم الغیب انی لا ادعی کونی موصوفا بعلم اللہ تعالیٰ وحصل بمجموع الکلامین انہ لا یدعی الاہیۃ : میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ میں اس قدرت کا دعوی نہیں کرتا جو اللہ کی شان کے لائق ہے۔ اور میں غیب نہیں جانتا اس سے مراد یہ ہے کہ میں اللہ کے علم سے موصوف ہونے کا دعوی نہیں کرتا اور ان دونوں باتوں کا حاصل یہ ہے کہ میں الوہیت کا دعوی نہیں کرتا۔ (تفسیر کبیر ج 4، ص 538 ۔ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1415 ھ)

علامہ محی الدین محمد بن مصطفیٰ قوجوی متوفی 951 ھ علامہ احمد شہاب الدین خفاجی متوفی 1069 ھ اور علامہ سید محمود آلوسی متوفی 1270 متوفی 1270 ھ نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی لکھا ہے : (حاشیۃ الشیخ زادہ علی الجلالین ج 2، ص 167، عنایت القاضی ج 4، ص 65، روح المعانی ج 7، ص 155)

علامہ احمد شہاب خفاجی متوفی 1069 ھ شفا کی عبارت کے ساتھ مزج کرکے لکھتے ہیں۔

(ھذہ المعجزۃ) فی اطلاعہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تعالیٰ علیہ وسلم علی الغیب (معلومۃ علی القطع) بحیث لا یمکن انکارھا اوالتردد فیہا لاحد من العقلاء (لکثرہ رواتھا واتفاق معانیہا علی الاطلاع علی الغیب) وھذا لا ینافی الایات الدالۃ علی انہ لا یعلم الغیب الا اللہ وقولہ ول کنت اعلم الغیب لاستثکرت من الخیر فان المنفی علمہ من غیر واسطۃ واما اطلاعہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علیہ باعلام اللہ تعالیٰ فلہ فامر متحقق لقولہ تعالیٰ فلا یظھر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معجزہ علم غیب یقیناً ثابت ہے جس میں کسی عاقل کو انکار یا تردد کی نگجائش نہیں کہ اس میں احادیث بکثرت آئیں اور ان سب سے بالاتفاق حضور کا علم غیب ثابت ہے اور یہ ان آیتوں کے کچھ منافی نہیں جو بتاتی ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اور یہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہنے کا حکم ہوا کہ میں غیب جانتا تو اپنے لیے بہت خیر جمع کرلیتا۔ اس لیے کہ آیتوں میں نفی اس علم کی ہے جو بغیر خدا کے بتائے ہو اور اللہ تعالیٰ کے بتائے سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم غیب ملنا تو قرآن عظیم سے ثابت ہے کہ اللہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا سوا اپنے پسندیدہ رسول کے (نسیم الریاض ج 3، س 150، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

علامہ نظام الدین حسین بن محمد نیشا پوری متوفی 728 ھ لا اعلم الغیب (الانعام :50) کی تفسیر میں لکھتے ہیں : لا اعلم الغیب فیہ دلالۃ علی ان الغیب بالاستقلال لا یعلمہ الا لللہ : آیت کے معنی ہیں کہ علم غیب جو بذات خود ہو وہ خدا کے ساتھ خاص ہے۔ (تفسیر نیشا پوری علی ھامش جامع البیان ج 8، ص 148، مطبوعہ دار المعرفت بیروت، 1409 ھ)

علامہ سید ابن عابدین شامی صاحب جامع الفصولین سے نقل فرماتے ہیں : یجاب بانہ یمکن التوفیق بان المنفی ھو العلم بالاستقلال لا العلم بالعلام او المنفی ھو المجزوم بہ لا لمظنون ویویدہ قولہ تعالیٰ اتجعل فیہا من یفسد فیہا الایۃ لانہ غیب اخبرہ بہ الملائکۃ ظنا منہم او باعلام الحق فینبغی ان یکفر لو ادعاہ مستقلا لا لو اخبر بہ باعلام فی نومہ او یقطتہ بنوع من الکشف اذ لا منافاۃ بینہ و بین الیۃ لما مر من التوفیق : (یعنی فقہاء نے دعویٰ علم غیب پر حکم کفر کیا اور حدیثوں اور ائمہ ثقات کی کتابوں میں بہت غیب کی خبریں موجود ہیں جن کا انکار نہیں ہوسکتا) اس کا جواب یہ ہے کہ ان میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ فقہاء نے اس کی نفی کی ہے کہ کسی کے لیے بذات خود علم غیب مانا جائے، خدا کے بتائے سے علم غیب کی نفی نہ کی یا نفی قطعی کی ہے نہ کہ ظنی کی، اور اس کی تائید یہ آیت کریمہ کرتی ہے فرشتوں نے عرض کیا تو زمین میں ایسوں کو خلیفہ کرے گا جو اس میں سفاد و خون ریزی کریں گے، ملائکہ غیب کی خبر نہی بولے مگر ظنا یا خدا کے بتائے سے، تو تکفیر اس پر چاہیے کہ کوئی بغیر خدا کے بتائے علم غیب کا دعوی کرے نہ یوں کہ براہ کشف جاگتے یا سوتے میں خدا کے بتائے سے، ایسا علم غیب آیت کے کچھ منافی نہیں۔ (رسائل ابن عابدین، ج 2، ص 311، مطبوعہ سہیل اکیڈمی، لاہور، 1396 ھ)

علامہ شامی فرماتے ہیں کہ متعدد کتب حنفیہ میں مذکور ہے : لو ادعی علم الغیب بنفسہ یکفر، اگر بذات خود علم غیب حاصل کرلینے کا دعوی کرے تو کافر ہے۔ (رسائل ابن عابدین، ج 2، ص 311)

نیز علامہ شامی تحریر فرماتے ہیں : قال فی التتار خانیۃ وفی الحجۃ ذکر فی الملتقط انہ لایکفر لان الشیاء تعرض علی روح النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وان الرسل یعرفون بعض الغیب قال اللہ تعالیٰ عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول اھ قلت بل ذکروا فی کتب العقائد ان من جملہ کرامات الاولیاء الاطلاع علی بعض المغیبات و ردوا علی المعتزلۃ المستدلین بہذہ الایۃ علی نفیہا : تاتار خانیہ اور فتاوی حجہ میں ہے ملتقط میں فرمایا کہ جس نے اللہ و رسول کو گواہ کرکے نکاح کیا کافر نہیں ہوگا۔ اس لیے کہ اشیاء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عرض کی جاتی ہیں۔ اور بیشک رسولوں کو بعض علم غیب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللہ غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں کرتا مگر اپنے پسندیدہ رسولوں کو۔ علامہ شامی نے فرمایا کہ بلکہ ائمہ اہلسنت نے کتب عقائد میں ذکر فرمایا کہ بعض غیبوں کا علم ہونا اولیاء کی کرامت سے ہے اور معتزلہ نے اس آیت کو اولیاء کرام سے اس کی نفی پر دلیل قرار دیا۔ ہمارے ائمہ نے اس کا رد کیا یعنی ثابت فرمایا کہ اس آیہ کریمہ نے اولیاء سے بھی مطلقاً علم غیب کی نفی نہیں فرمائی۔ (رد المحتار، ج 2، ص 76، مطبوعہ دار احیاء التراث لاعربی بیروت، 1407 ھ)

علامہ علی بن محمد خازن متوفی 725 ھ اور علامہ سلیمان جمل متوفی 1204 ھ الاعراف : 188 کی تفسیر میں لکھتے ہیں : والمعنی لا اعلم الغیب الا ان یطلعنی اللہ علیہ ویقدر لی : لا اعلم الغی کا معنی یہ ہے کہ میں اللہ کے مطلع اور قادر کیے بغیر غیب کو نہیں جانتا (لباب التاویل للخازن، ج 2، ص 167، مطبوعہ پشاور، حاشیۃ الجمل علی الجلالین ج 2، ص 217، مطبوعہ کراچی)

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی 686 ھ الانعام :50 کی تفسیر میں لکھتے ہیں : لا اعلم الغی ما لم یوحی الی ولم ینصب علیہ دلیل : آیت کے یہ معنی ہیں کہ جب تک وحی یا کوئی دلیل قائم نہ ہو، مجھے بذات خود غیب کا علم نہیں ہوتا۔ (انوار التنزیل علی ھامش عنایہ القاضی ج 4، ص 64، مطبوعہ دار صادر، بیروت)

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی متوفی 1069 ھ لکھتے ہیں : وعندہ مفاتح الغیب وجہ اختصاصہا بہ تعالیٰ انہ لا یعلمہا کماھی ابتداء الا ھو : یہ جو آیت میں فرمایا کہ غیب کی کنجیاں اللہ ہی کے پاس ہیں، اس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا۔ اس خصوصیت کے معنی یہ ہیں کہ ابتداً بغیر بتائے ان کی حقیقت دوسرے پر نہیں کھلتی۔ (عنایہ القاضی ج 4، ص 73، مطبوعہ دار صادر، بیروت)

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی متوفی 1069 ھ الجن : 25 ۔ 27 کی تفسیر میں لکھتے ہیں : کا نہ قیل ما ادری قرب ذالک الموعد وبعدہ الا ان یطلعنی اللہ علیہ لان علم الغیب مختص بہ وقد یطلع علیہ بعض خلقہ : گویا کہ یہ کہا گیا ہے کہ میں ازخود نہیں جانتا کہ قیامت کا وعدہ قریب ہے یا بعید ہے سوا اس کے کہ اللہ مجھے اس پر مطلع فرما دے۔ کیونکہ علم غیب اللہ کے ساتھ خاص ہے اور وہ اپنی بعض مخلوق کو اس پر مطلع فرماتا ہے۔

اور اس کے دو تین سطر بعد لکھتے ہیں : واختصاصہ بہ تعالیٰ لانہ لا یعلم بالذات ولکنہ علما حقیقیا یقینیا بغیر سبب کا طلاع الغیر الا اللہ وعلم غیرہ لبعضہ لیس علما للغیب الا بحسب الظاہر و بالنسبۃ لبعض البشر (الی قولہ) ولا یقدح فی ھذا الاختصاص کونہ معلوما للغیر باعلامہ تعالیٰ اذا الاختصاص اضافی بالنسبۃ الی من عدا المستثنی : غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس لیے خاص ہے کہ غیب کا بالذات، حقیقی اور یقینی بلا بب علم (مثلا غیر کو مطلع کردینا) اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے علاوہ بعض مخلوق کو غیب کا علم جو عطا فرماتا ہے وہ حقیقت میں غیب نہیں وہ صرف ظاہر کے اعتبار سے غیب ہے، یا جن بعض لوگوں سے وہ پوشیدہ ہے ان کے اعتبار سے غیب ہے۔ اور اس اختصاص کے یہ منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خبر دینے سے یہ غیب لوگوں کو معلوم ہے کیونکہ یہ اختصاص مستثنی کے ماسوا کے اعتبار سے ہے اور اضافی ہے (یعنی رسولوں کے سوا اور کسی کو یقینی علم غیب نہیں ہوتا) (عنایۃ القاضی ج 8، ص 261، طبع دار صادر، بیروت)

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی 1364 ھ الانعام : 50، میں لا اعلم الغیب کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

اور نہ میں (یہ کہتا ہوں کہ میں) تمام غیبوں کو (جو کہ معلومات الٰہیہ ہیں) جانتا ہوں۔ 

شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی 1369 ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : یعنی کوئی شخص جو مدعی نبوت ہو اس کا دعوی یہ نہیں ہوتا کہ تمام مقدورات الٰہیہ کے خزانے اس کے قبضہ میں ہیں کہ جب اس سے کسی امر کی فرمائش کی جائے وہ ضرور ہی کر دکھلائے یا تمام معلومات غیبیہ و شہادیہ پر خواہ ان کا تعلق فرائض رسالت سے ہو یا نہ ہو اس کو مطلع کردیا گیا ہے۔ 

نیز شیخ عثمانی ” قل لا یعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ ” (النمل : 65) کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

کل مغیبات کا علم بجز خدا کے کسی کو حاصل نہیں (اللہ کا علم حصولی نہیں، حضور ہے، سعیدی غفرلہ) نہ کسی ایک غیب کا علم کسی شخص کو بالذات بدون عطائے الٰہی کے ہوسکتا ہے اور نہ مفاتیح غیب اللہ نے کسی مخلوق کو دی ہیں ہاں بعض بندوں کو بعض غیوب پر باختیار خود مطلع کردیتا ہے، جس کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو حق تعالیٰ نے غیب پر مطلع فرما دیا یا غیب کی خبر دے دی۔ 

ان عبارات میں علماء دیوبند نے بھی علم غیب کی ذاتی اور عطائی کی طرف تقسیم کا اعتراف کرلیا ہے اور دیگر کثیر علماء اسلام کی عبارت سے بھی ہم نے اس بحث میں علم غیب کی ذاتی اور عطائی کی طرف تقسیم کو واضح تر کردیا ہے۔ 

قرآن اور سنت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کے عموم اور علم ماکان ومایکون کی تصریحات 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وانزل اللہ علیک الکتاب والحکمۃ وعلمک ما لم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما : اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی اور ان تمام چیزوں کا علم دے دیا جن کو آپ پہلے نہیں جانتے تھے اور اللہ کا آپ پر فضل عظیم ہے۔ (النساء :113)

اس آیت سے علم کلی کے استدلال پر ہم نے اپنی کتاب مقام ولایت و نبوت میں بہت تفصیل سے بحث کی ہے اور اس استدلال کی تائید میں بکثرت حوالہ جات نقل کیے ہیں اور اس استدلال پر وارد ہونے والے اعتراضات کا مکمل ازالہ کردیا ہے۔ جو لوگ اس بحث و تفصیل اور تحقیق سے جاننا چاہتے ہوں ان کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہیے۔ 

امام بخاری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

1 ۔ عن عمر و قال قام فینا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقاما فاخبرنا نبدء الخلق حتی دخل اھل الجنۃ منازلہم واھل النار منازلہم حفظ ذالک من حفظہ و نسیہ من نسیہ۔

حضرت عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان ایک مجلس میں کھڑے ہوئے پھر آپ نے ابتداء خلق سے خبریں بیان کرنا شروع کیں، حتی کہ جنتیوں کے اپنے ٹھکانوں تک جانے اور جہنمیوں کو اپنے ٹھکانوں تک جانے کی خبریں بیان کیں، جس شخص نے اس کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے اس کو بھلا دیا اس نے اس کو بھلا دیا۔ (صحیح بخاری ج 1، ص 453، مطبوعہ کراچی)

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

2 ۔ عن حذیفۃ قال لقد خطبنا النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبۃ ما ترک فیہا شیئا الی قیام الساعۃ الا ذکرہ علمہ من علمہ وجھہلہ من جھہلہ الحدیث۔

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم میں ایک تقریر فرمائی اور اس میں قیامت تک ہونے والے تمام امور بیان فرمادیے جس شخص نے اسے جان لیا اس نے جان لیا اور جس نے نہ جانا اس نے نہ جانا۔ (صحیح بخاری ج 2، ص 977، مطبوعہ کراچی)

امام مسلم روایت کرتے ہیں : 

3 ۔ عن ابی زید قال صلی بنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الفجر و صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت الظھر فنزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت العصر ثم نزل فصلی ثم صعد المنبر فخبنا حتی غربت الشمس فاخبرنا بما کان وماھو کائن فاعلمنا احفظنا۔ 

حضرت ابو زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ ظہر کا وقت آگیا پھر منبر سے اترے اور ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر منبر پر رونق افروز ہوئے اور ہمیں خطبہ دیا حتی کہ عصر کا وقت آگیا پھر آپ منبر سے اترے اور عصر کی نماز پڑھائی پھر آپ نے منبر پر چرھ کر ہمیں خطبہ دیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا پھر آپ نے ہمیں تمام ما کان ومایکون کی خبریں دیں سو جو ہم میں زیادہ حافظہ والا تھا اس کو ان کا زیادہ علم تھا۔ (صحیح مسلم ج 2، ص 390، مطبوعہ کراچی)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں : 

4 ۔ عن ابی سعید الخدری قال صلی بنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یوما صلوۃ العصر بنہار ثم قام خطیبا فلم یدع شیئا یکون الی قیام الساعۃ الا اخبرنا بہ حفظہ من حفظہ ونسیہ من نسیہ۔

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی۔ پھر آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور آپ نے قیامت تک ہونے والے ہر واقعہ اور ہر چیز کی ہمیں خبر دے دی، جس نے اس کو یاد رکھا اس نے یاد رکھا اور جس نے اس کو بھلا دیا اس نے بھلا دیا۔ (سنن الترمذی، ص 319، مطبوعہ کراچی)

5 ۔ عن ثوبان قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اللہ زوی لی الارض فرایت مشارقہا و مغاربہا : حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا اور میں نے اس کے تمام مشارق و مغارب کو دیکھ لیا۔ (صحیح مسلم ج 4، ص 390، کراچی)

اس حدیث کو امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔ نیز امام ابو داود اور امام احمد نے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ (دلائل النبوۃ ج 6، ص 527، سنن ابو داود ج 2، ص 328، مسند احمد ج 5، ص 278)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں : 

6 ۔ عن معاذ بن جبل قال احتبس عنا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ذات غداۃ من صلوۃ الصبح حتی کدنا نترا ای عین الشمس فخرج سریعا فثوب بالصلوۃ فصلی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و تحوز فی صلوتہ فلما سلم دعا بصوتہ فقال لنا علی مصافکم کما ائتم ثم انفتل الینا فقال اما انی ساحدثکم ما حبسنی عنکم الغداۃ انی قمت من اللیل فتوضات فصلیت ما قدر لی فنعست فی صلوتی فاستثقلت فاذا بربی تبارک و تعالیٰ فی احسن صورۃ فقال یا محمد قلت رب لبیک قال فیم یختصم الملاء الاعلی قلت لا ادری رب قالہا ثلاثا قال فرایتہ وضع کفہ بین کتفی قد وجدت برد اناملہ بین ثدی فتجلانی کل شیء وعرفت۔ الحدیث الی ان قال، قال ابو عیسیٰ ھذا حدیث حسن صحیح سالت محمد ابن اسماعیل عن ھذا الحدیث فقال ھذا صحیح۔

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز میں آنے کے لیے دیر کی، حتی کہ قریب تھا کہ ہم سورج کو دیکھ لیتے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلدی سے آئے اور نماز کی اقامت کہی گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختصر نماز پڑھائی، پھر آپ نے سلام پھیر کر بآواز بلند ہم سے فرمایا جس طرح اپنی صفوں میں بیٹھے ہو بیٹھے رہو، پھر ہماری طرف مڑے اور فرمایا میں اب تم کو یہ بیان کروں گا کہ مجھے صبح کی نماز میں آنے سے کیوں دیر ہوگئی۔ میں رات کو اٹھا اور وضو کرکے میں نے اتنی رکعات نماز پڑھی جتنی میرے لیے مقدر کی گئی تھی پھر مجھے نماز میں اونگھ آئی، پھر مجھے گہری نیند آگئی۔ اچانک میں نے اچھی صورت میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو دیکھا، اس نے فرمایا اے محمد ! میں نے کہا اے میرے رب میں حاضر ہوں، فرمایا ملاء اعلی کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے کہا میں نہیں جانتا۔ آپ نے کہا میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا اور اس کے پوروں کی ٹھنڈک میں اپنے سینے میں محسو کی پھر ہر چیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے اس کو جان لیا۔ (الحدیث) (سنن الترمذی ص 466، کراچی)

امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے، میں نے امام بخاری سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ 

7 ۔ نیز امام ترمذی روایت کرتے ہیں : 

عن ابن عباس ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال اتانی ربی فی احسن صورۃ فقال یا محمد فقلت لبیک ربی وسعدیک قال فیم یختصم الملاء الاعلی قلت ربی لا ادری فوضع یدہ بین کتفی حتی وجدت بردھا بین ثدیی فعلمت مابین المشرق و المغرب۔

حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے (خواب میں) انے رب کو حسین صورت میں دیکھا، میرے رب نے کہا اے محمد ! میں نے کہا حاضر ہوں یا رب ! فرمایا ملاء اعلی کس چیز میں بحث کر رہے ہیں، میں نے کہا اے میرے رب ! میں نہیں جانتا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا، جس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی، پھر میں نے جان لیا جو کچھ مشرق اور مغرب کے درمیان ہے۔ (الحدیث سنن الترمذی ص 466، کراچی)

8 ۔ امام احمد بن حنبل اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 

عن ابن عباس ان النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال اتانی ربی عزوجل اللیلۃ فی احسن صورۃ احسبہ یعنی فی النوم فقال یا محمد تدری فیم یختصم الملاء الاعلی قال قلت لا قال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوضع یدہ بین کتفی حتی وجدت بردہا بین ثدیی او قال نحری فعلمت ما فی السموات والارض۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آج رات کو نیند میں میرا رب عز وجل حسین صورت میں میرے پاس آیا اور فرمایا اے محمد ! کیا تم جانتے ہو کہ ملاء اعلی کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ حضرت ابن عباس کہتے ہیں آپ نے فرمایا نہیں ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو کندھوں کے درمیان رکھا حتی کہ میں نے اپنے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی اور میں نے ان تمام چیزوں کو جان لیا جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں۔ (مسند احمد ج 1، ص 368)

9 ۔ امام احمد بن حنبل نے ایک اور سند سے بھی یہ حدیث روایت کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : فوضع کفیہ بین کتفی فوجدت بردھا بین ثدیی حتی تجلی لی ما فی السموات والارض۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میں نے اس کی ٹھنڈک کو اپنے سینہ میں محسوس کیا حتی کہ میرے لیے وہ تمام چیزیں منکشف ہوگئیں جو آسمانوں میں ہیں، اور جو زمینوں میں ہیں۔ (مسند احمد ج 4 ص 366)

حافظ الہیثمی ذکر کرتے ہیں :

10 ۔ عن عمر قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اللہ عز وجل قد رفع لی الدنیا فانا انظر الیہا والی ما ھو کائن فیہا الی یوم القیامۃ کا نما انظر الی کفی ھذا۔ رواہ الطبرانی ورجالہ و ثقوا علی ضعف کثیر۔

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل نے میرے دنیا اٹھا کر رکھ دی اور میں دنیا کو اور جو کچھ قیامت تک دنیا میں ہونے والا ہے اس کو دیکھ رہا ہوں جیسا کہ میں اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں، اس حدیث کو طبرانی روایت کیا ہے، ہرچند کہ اس حدیث کے راوی ضعیف ہیں لیکن ان کی توثیق کی گئی ہے۔ (مجمع الزوائد ج 8، ص 277، بیروت)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کے عموم اور علم ما کان و ما یکون کے متعلق علماء اسلام کی تصریحات 

حضرت سواد بن قارب (رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اجازت سے آپ کی شان میں چند اشعار سنائے، جن میں سے ایک شعر یہ ہے۔ 

فاشہد ان اللہ لا رب غیرہ 

و انک مامون علی کل غائب 

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رب نہیں اور آپ اللہ تعالیٰ کے ہر غیب پر امین ہیں۔ 

حضرت سواد بن قارب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اشعار سن کر مجھ سے بہت خوش ہوئے، آپ کے چہرہ اقدس سے خوشی کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔ فرمایا افلحت یا سواد اے سواد ! تم کامیاب ہوگئے۔ اس حدیث کو بکثرت علماء اسلام نے اپنی تصنیفات میں ذکر کیا ہے۔ بعض علماء کے اسماء یہ ہیں، امام ابو نعیم، امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، علامہ ابن عبدالبر، علامہ سہیلی، علامہ ابن الجوزی، حافظ ابن کثیر، علامہ بدر الدین عینی، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ حلبی، شیخ عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب نجدی، علامہ محمد بن یوسف الصالی الشامی۔ (دلائل النبوت لابی نعیم ج 1، ص 114 ۔ دلائل النبوت للبیہقی ج 2، ص 251 ۔ استیعاب علی ھامش الاصابہ ج 2، ص 124، الروض الانف ج 1، ص 140 ۔ الوفا ج 1، ص 153 ۔ السیرۃ النبویہ لابن کثیر ج 1، ص 346 ۔ عمدۃ القاری ج 17، ص 8 ۔ الخصائص الکبری ج 1، ص 171، بیروت، انسان العیون ج 1، ص 324 ۔ مختصر سیرت الرسول ص 69 ۔ سبل الہدی والرشاد ج 2، ص 209)

علامہ ابن جریر طبری لکھتے ہیں : وعلمک مالم تکن تعلم من خبر الاولین والاخرین و ما کان وما ھو کائن 

اولین اور آخرین کی خبروں اور ماکان و ما یکون میں سے جو کچھ آپ نہیں جانتے تھے وہ سب اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتلا دیا۔ (جامع البیان جز 5، ص 373، بیروت)

قاضی عیاض لکھتے ہیں : واما تعلق عقدہ من ملکوت السموت والارض وخلق اللہ و تعیین اسماء الحسنی وایاتہ الکبری و امور الاخرۃ واشراط الساعۃ واحوال سعداء والاشقیاء وعلم ما کان ومایکون مما لم یعلمہ الا یوحی۔ 

آسمانوں اور زمینوں کی نشانیاں، اللہ تعالیٰ کی مخلوق، اللہ تعالیٰ کے اسماء کی تعیین، آیات کبری، امور آخرت، علامت قیامت، اچھے اور برے لوگوں کے احوال اور ماکان ومایکون کا علم اس قبیل سے ہے جس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر وحی کے نہیں جانا۔ (الشفاء ج 2، ص 100، ملتان)

ملا علی قاری لکھتے ہیں : ان علمہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) محیط بالکلیات و الجزئیات۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم کلیات اور جزئیات کو محیط ہے (المرقات ج 10، ص 151)

نیز ملا علی قاری فرماتے ہیں : 

کون علمہا من علومہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان علومہ تتنوع الی الکلیات والجزئیات و حقائق و دقائق وعوارف و معارف تتعلق بالذات و الصفات و عملہا انما یکون سطرا من سطور علمہ و نھرا من بحور علمہ ثم مع ھذا ھو من برکۃ وجودہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ 

لوح و قلم، علوم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک ٹکڑا اس لیے ہے کہ حضور کے علم انواع انواع ہیں، کلیات، جزئیات، حقائق، دقائق، عوارف اور معارف کہ ذات وصفات الٰہی سے متعلق ہیں اور لوح و قلم کا علم تو حضور کے مکتوب علم سے ایک سطر اور اس کے سمندروں میں سے ایک نہر ہے۔ پھر بایں ہمہ وہ حضور ہی کی برکت سے تو ہے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ (الزبدۃ شرح قصیدہ بردہ، ص 116، مطبوعہ پیر جو گھوٹھ سندھ، 1406 ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں : 

الثانیۃ والاربعون اطلاع علی ما سیکون الثالثۃ والربعون الاطلاع علی ما کان مما لم ینقلہ احد قبلہ 

نبوت کی بیالیسویں صفت یہ ہے کہ ان کو ما سیکون (امور مستقبلہ) کا علم ہو اور تینتالیسویں صفت یہ ہے کہ ان کو ماکان (امور ماضیہ) کا علم ہو، جن کو ان سے پہلے کسی نے نہ بیان کیا ہو۔ (فتح الباری ج 12، ص 367)

علامہ سید محمود آلوسی لکھتے ہیں : 

(انزلہ بعلمہ) ای متلبسا بعلمہ المحیط الذی لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ فی السموات والارض و من ھنا علم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ما کان وما ھو کائن۔ 

اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت علم کے ساتھ تجلی کرکے حضور پر قرآن نازل کیا، جس صفت علم سے آسمانوں اور زمین کا کوئی ذرہ غائب نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ماکان ومایکون کو جان لیا۔ (روح المعانی ج 6، ص 22)

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں : فلم یقبض النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حتی علم کل شیء یمکن العلم بہ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس وقت تک وصال نہیں ہوا جب تک کہ آپ نے ہر اس چیز کو نہیں جان لیا جس کا علم ممکن ہے (روح المعانی ج 15، ص 154)

شیخ اشرف علی تھانوی کے خلیفہ مجاز شیخ مرتضی حسین چاند پوری لکھتے ہیں : 

حاصل یہ ہے کہ سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم مغیبات اس قدر دیا گیا تھا کہ دنیا کے تمام علوم بھی اگر ملائے جائیں تو آپ کے ایک علم کے برابر نہ ہوں۔ (توضیح البیان فی حفظ الایمان، ص 12)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 187