یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۲۹)

اے ایمان والو اگر اللہ سے ڈرو گے (ف۵۰) تو تمہیں وہ دے گا جس سے حق کو باطل سے جدا کرلو اور تمہاری برائیاں اتار دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑے فضل والا ہے

(ف50)

اس طرح کہ گناہ ترک کرو اور طاعت بجالاؤ ۔

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَؕ-وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ(۳۰)

اور اے محبوب یاد کرو جب کافر تمہارے ساتھ مکر کرتے تھے کہ تمہیں بند (قید)کرلیں یا شہید کردیں یا نکال (جلا وطن کر)دیں (ف۵۱) اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرماتا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر

(ف51)

اس میں اس واقعہ کا بیان ہے جو حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے ذکر فرمایا کہ کُفّارِ قریش دارالندوہ (کمیٹی گھر) میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت مشورہ کرنے کے لئے جمع ہوئے اور ابلیسِ لعین ایک بُڈھے کی صورت میں آیا اور کہنے لگا کہ میں شیخِ نجد ہوں ، مجھے تمہارے اس اجتماع کی اطلاع ہوئی تو میں آیا مجھ سے تم کچھ نہ چھپانا ، میں تمہارا رفیق ہوں اور اس معاملہ میں بہتر رائے سے تمہاری مدد کروں گا ، انہوں نے اس کو شامل کرلیا اور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق رائے زنی شروع ہوئی ، ابوالبختری نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکڑ کر ایک مکان میں قید کردو اور مضبوط بندشوں سے باندھ دو ، دروازہ بند کر دو ، صرف ایک سوراخ چھوڑ دو جس سے کبھی کبھی کھانا پانی دیا جائے اور وہیں وہ ہلاک ہو کر رہ جائیں ۔ اس پر شیطانِ لعین جو شیخِ نجدی بنا ہوا تھا بہت ناخوش ہوا اور کہا نہایت ناقص رائے ہے ، یہ خبر مشہور ہوگی اور ان کے اصحاب آئیں گے اور تم سے مقابلہ کریں گے اور ان کو تمہارے ہاتھ سے چُھڑا لیں گے ۔ لوگوں نے کہا شیخِ نجدی ٹھیک کہتا ہے پھر ہشام بن عمرو کھڑا ہوا اس نے کہا میری رائے یہ ہے کہ ان کو (یعنی محمّد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو) اونٹ پر سوار کرکے اپنے شہر سے نکال دو پھر وہ جوکچھ بھی کریں اس سے تمہیں کچھ ضَرر نہیں ۔ ابلیس نے اس رائے کو بھی ناپسند کیا اور کہا جس شخص نے تمہارے ہوش اُڑا دیئے اور تمہارے دانشمندوں کو حیران بنادیا اس کو تم دوسروں کی طر ف بھیجتے ہو ، تم نے اس کی شیریں کلامی ، سیف زبانی ، دل کشی نہیں دیکھی ہے اگر تم نے ایسا کیا تو وہ دوسری قوم کے قلوب تسخیر کرکے ان لوگوں کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے ۔ اہلِ مجمع نے کہا شیخِ نجدی کی رائے ٹھیک ہے اس پر ابوجہل کھڑا ہوا اور اس نے یہ رائے دی کہ قریش کے ہر ہر خاندان سے ایک ایک عالی نسب جوان منتخب کیا جائے اور ان کو تیز تلوار یں دی جائیں ، وہ سب یکبارگی حضرت پر حملہ آور ہو کر قتل کردیں تو بنی ہاشم قریش کے تمام قبائل سے نہ لڑ سکیں گے ۔ غایت یہ ہے کہ خون کا معاوضہ دینا پڑے وہ دے دیا جائے گا ۔ ابلیسِ لعین نے اس تجویز کوپسند کیا اور ابوجہل کی بہت تعریف کی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا ۔ حضرتِ جبریل علیہ السلام نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ گزارش کیا اور عرض کیا کہ حضور اپنی خواب گاہ میں شب کو نہ رہیں ، اللہ تعالٰی نے اِذن دیا ہے مدینہ طیبہ کا عزم فرمائیں ۔ حضور نے علی مرتضٰی کو شب میں اپنی خواب گاہ میں رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ہماری چادر شریف اوڑھو تمہیں کوئی ناگواربات پیش نہ آئے گی اور حضور دولت سرائے اقدس سے باہر تشریف لائے اور ایک مشتِ خاک دستِ مبارک میں لی اور آیت” اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلٰلاً ” پڑھ کر محاصَرہ کرنے والوں پر ماری ، سب کی آنکھوں اور سروں پر پہنچی ، سب اندھے ہوگئے اور حضور کو نہ دیکھ سکے اور حضور مع ابوبکر صدیق کے غارِ ثور میں تشریف لے گئے اور حضرت علی مرتضٰی کو لوگوں کو امانتیں پہنچانے کے لئے مکّۂ مکرّمہ میں چھوڑا ۔ مشرکین رات بھر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دولت سرائے کا پہرہ دیتے رہے ، صبح کو جب قتل کے ارادہ سے حملہ آور ہوئے تو دیکھا کہ حضرت علی ہیں ، ان سے حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دریافت کیا گیا کہ کہاں ہیں انہوں نے فرمایا کہ ہمیں معلوم نہیں تو تلاش کے لئے نکلے جب غار پر پہنچے تو مکڑی کے جالے دیکھ کر کہنے لگے کہ اگر اس میں داخل ہوتے تو یہ جالے باقی نہ رہتے ۔ حضور اس غار میں تین روز ٹھہرے پھر مدینہ طیبہ روانہ ہوئے ۔

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤۙ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۳۱)

اور جب ان پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں توکہتے ہیں ہاں ہم نے سنا ہم چاہتے تو ایسی ہم بھی کہہ دیتے یہ تو نہیں مگر اگلوں کے قصے(ف۵۲)

(ف52)

شانِ نُزول : یہ آیت نضر بن حارث کے حق میں نازِل ہوئی جس نے سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قرآنِ پاک سُن کر کہا تھا کہ ہم چاہتے تو ہم بھی ایسی ہی کتاب کہہ لیتے ۔ اللہ تعالٰی نے ان کا یہ مقولہ نقل کیا کہ اس میں ان کی کمال بے شرمی و بے حیائی ہے کہ قرآنِ پاک کی تَحدّی فرمانے اور فُصَحائے عرب کو قرآنِ کریم کے مثل ایک سورۃ بنا لانے کی دعوتیں دینے اور ان سب کے عاجز و درماندہ رہ جانے کے بعد یہ کلمہ کہنا اور ایسا اِدّعائے باطل کرنا نہایت ذلیل حرکت ہے ۔

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۳۲)

اور جب بولے (ف۵۳) کہ اے اللہ اگر یہی (قرآن) تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لا

(ف53)

کُفَّار اور ان میں یہ کہنے والا یا نضر بن حارث تھا یا ابوجہل جیسا کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے ۔

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْؕ-وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ(۳۳)

اور اللہ کا کام نہیں کہ انہیں عذاب کرے جب تک اے محبوب تم ان میں تشریف فرما ہو (ف۵۴) اور اللہ انہیں عذاب کرنے والا نہیں جب تک وہ بخشش مانگ رہے ہیں(ف۵۵)

(ف54)

کیونکہ رحمۃ لِلعالمین بنا کر بھیجے گئے ہو اور سنّتِ الٰہیہ یہ ہے کہ جب تک کسی قوم میں اس کے نبی موجود ہوں ان پر عام بربادی کا عذاب نہیں بھیجتا جس سے سب کے سب ہلاک ہوجائیں اور کوئی نہ بچے ۔ ایک جماعت مفسِّرین کا قول ہے کہ یہ آیت سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس وقت نازِل ہوئی جب آپ مکّۂ مکرّمہ میں مقیم تھے پھر جب آپ نے ہجرت فرمائی اور کچھ مسلمان رہ گئے جو استغِفار کیا کرتے تھے تو ” وَمَاکَانَ اللّٰہُ مُعَذِّبَھُمْ” نازِل ہوا جس میں بتایا گیا کہ جب تک استغِفار کرنے والے ایماندار موجود ہیں اس وقت تک بھی عذاب نہ آئے گا پھر جب وہ حضرات بھی مدینہ طیّبہ کو روانہ ہو گئے تو اللہ تعالٰی نے فتحِ مکّہ کا اِذن دیا اور یہ عذابِ مَوعود آگیا جس کی نسبت اس آیت میں فرمایا ” وَمَالَھُمْ اَلَّا یُعَذِّبَھُمُ اللّٰہُ ” محمد بن اسحاق نے کہا کہ ” مَاکَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ ” بھی کُفَّار کا مقولہ ہے جو ان سے حکایۃً نقل کیا گیا ، اللہ عزوجل نے ان کی جہالت کا ذکر فرمایا کہ اس قدر احمق ہیں ، آپ ہی تو یہ کہتے ہیں کہ یاربّ اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر نازِل کر اور آپ ہی یہ کہتے ہیں کہ یا محمّد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )جب تک آپ ہیں عذاب نازِل نہ ہوگا کیونکہ کوئی اُمّت اپنے نبی کی موجودگی میں ہلاک نہیں کی جاتی ، کس قدر مُعارِض اقوال ہیں ۔

(ف55)

اس آیت سے ثابت ہوا کہ استغِفار عذاب سے امن میں رہنے کا ذریعہ ہے ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے میری اُمّت کے لئے دو امانیں اتاریں ۔ ایک میرا ان میں تشریف فرماہونا ، ایک ان کا استغِفار کرنا ۔

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗؕ-اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۳۴)

اور انہیں کیا ہے کہ اللہ انہیں عذاب نہ کرے وہ تو مسجد حرام سے روک رہے ہیں (ف۵۶) اور وہ اس کے اہل نہیں (ف۵۷) اس کے اولیاء تو پرہیزگار ہی ہیں مگر ان میں اکثر کو علم نہیں

(ف56)

اور مؤمنین کو طوافِ کعبہ کے لئے نہیں آنے دیتے جیسا کہ واقعۂ حُدیبیہ کے سال سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو روکا ۔

(ف67)

ایمان لانے سے ۔

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةًؕ-فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ(۳۵)

اور کعبہ کے پاس ان کی نماز نہیں مگر سیٹی اور تالی (ف۵۸) تو اب عذاب چکھو (ف۵۹) بدلہ اپنے کفر کا

(ف58)

یعنی نماز کی جگہ سیٹی اور تالی بجاتے ہیں ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ قریش ننگے ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے اور یہ فعل ان کا یا تو اس اعتقادِ باطل سے تھا کہ سیٹی اور تالی بجانا عبادت ہے اور یا اس شرارت سے کہ ان کے اس شور سے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نماز میں پریشانی ہو ۔

(ف59)

قتل و قید کا بدر میں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ۬ؕ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ(۳۶)

بے شک کافر اپنے مال خرچ کرتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے روکیں(ف۶۰) تو اب انہیں خرچ کریں گے پھر وہ ان پر پچھتاوا ہوں گے (ف۶۱) پھر مغلوب کردئیے جائیں گے اور کافروں کا حشر جہنم کی طرف ہوگا

(ف60)

یعنی لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے مانع ہوں ۔

شانِ نُزول : یہ آیت کُفّار میں سے ان بارہ قریشیوں کے حق میں نازِل ہوئی جنہوں نے لشکرِ کُفّار کا کھانا اپنے ذمّہ لیا تھا اور ہر ایک ان میں سے لشکر کوکھانا دیتا تھا ہر روز دس اونٹ ۔

(ف61)

کہ مال بھی گیا اور کام بھی نہ بنا ۔

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۳۷)

اس لیے کہ اللہ گندے کو ستھرے سے جدا فرمادے (ف۶۲) اورنجاستوں کو تلے اوپررکھ کر سب ایک ڈھیر بنا کر جہنم میں ڈال دے وہی نقصان پانے والے ہیں (ف۶۳)

(ف62)

یعنی گر وہِ کُفّار کو گروہِ مؤمنین سے ممتاز کر دے ۔

(ف63)

کہ دنیا و آخرت کے ٹوٹے میں رہے اور اپنے مال خرچ کرکے عذابِ آخرت مول لیا ۔