حدیث نمبر 33

روایت ہے حضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎ فرماتے ہیں ایک شخص آیا مسجد میں نماز پڑھی ۲؎ پھر حاضر خدمت ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سلام عرض کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنی نماز لوٹاؤ۳؎تم نے نماز نہیں پڑھی وہ بولا یارسول اﷲ مجھے سکھا دوکہ نماز کیسے پڑھوں فرمایا جب تم قبلہ کو منہ کرو تو تکبیر کہو ۴؎ پھر سورۂ فاتحہ اور جو پڑھنا اﷲ چاہے وہ پڑھ لو۵؎ پھر جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنے رکوع کو مضبوطی سے کرو ۶؎ اور اپنی پشت درازکرو جب اپنے سر کو اٹھاؤ تو اپنی پیٹھ سیدھی کرو حتی کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں تک لوٹ جائیں ۷؎ پھر جب سجدہ کرو تو سجدہ مضبوطی سے کرو۸؎ جب اٹھو تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو ۹؎ پھر رکوع اور سجدہ میں یونہی کرو حتی کہ مطمئن ہوجاؤ یہ مصابیح کے لفظ ہیں اور ابو داؤد نے تھوڑے فرق سے روایت کیا اور ترمذی و نسائی نے اس کے معنی روایت کیے۔ترمذی کی روایت میں ہے کہ جب تم نماز کے لیے اٹھو تو یونہی وضو کرو جیسے تمہیں اﷲ نے اس کا حکم دیا پھر کلمۂ شہادت پڑھو ۱۰؎ پھرتکبیر کہو پھر اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھ لوورنہ اﷲ کی حمداس کی تکبیر اس کی تہلیل کرو ۱۱؎پھر رکوع کرو۔

شرح

۱؎ آپ انصاری خذرجی ہیں،آپ کی کنیت ابو معاذ ہے،خود بدری ہیں اور آپ کے والد ان نقیبوں میں سے تھے جو ہجرت سے پہلے مدینہ منورہ میں مبلغ مقرر ہوئے۔مالک ابن رافع اور خلاد ابن رافع کے بھائی ہیں،قبیلہ خزرج میں سب سے پہلے آپ اسلام لائے،آپ جنگ جمل وصفین میں حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ تھے۔(اشعہ)

۲؎ یہ آنے والے حضرت رفاعہ کے بھائی خلاد ابن رافع تھے،انہوں نے ناقص یا فاسد نماز پڑھی تھی ان کا واقعہ ابھی تھوڑے فرق کے ساتھ گزر گیا۔

۳؎ کیونکہ بالکل نہیں پڑھی یا کامل نہیں پڑھی۔خیال رہے کہ فرض رہ جانے سے نماز قطعًا نہیں ہوتی اس کا لوٹانا فرض ہے اور واجب رہ جانے سے نمازسخت ناقص ہوتی ہے اس کا لوٹانا واجب ہے،یہ فرمان شریف دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہے۔

۴؎ اس سےمعلوم ہوا کہ نماز میں قبلہ رو ہونا شرط ہے اورتکبیرتحریمہ رکن،اگر کوئی تکبیر پہلے کہہ دے اور قبلہ رخ بعد میں تو نماز نہیں ہوگی۔

۵؎ یعنی سورۃ فاتحہ کے سوا قرآن کی کوئی اور سورت بھی پڑھ لو،یہ حدیث حنفیوں کی قوی دلیل ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ بھی واجب ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور سورت یا ایک بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں بھی واجب۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں سورۃ فاتحہ فرض اور دوسری سورت ملانا سنت۔یہ حدیث ان کے خلاف ہے کیونکہ ان دونوں چیزوں کے لیے ایک”اِقْرَاۡء” ارشاد ہوا۔خیال رہے کہ اور سورت کا پڑھنا واجب مگر اس کے مقرر کرنے میں کہ کون سی پڑھے نمازی کو اختیار ہے،سورۃ فاتحہ میں نماز ی کو کوئی اختیار نہیں اس لیے مَاشَاءَاﷲ فرمایا گیا۔شوافع اس مَاشَاءَاﷲ سے سورۃ کا سنت ہونا ثابت نہیں کرسکتے،حنفیوں نے ” اِقْرَاۡء” کا بھی لحاظ رکھا ہے اور مَاشَاءَاﷲ کا بھی،مطلقًا سورت کو واجب جانا اور تعین میں اختیار دیا۔

۶؎ یعنی اطمینان کے ساتھ رکوع کرو۔خیال رہے کہ رکوع میں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھنا سنت ہے اور اطمینان واجب۔

۷؎ یعنی پورے کھڑے ہوجاؤ،چونکہ صرف کام بتائے ہیں اس لیے پڑھنے کے کلمات ارشاد نہ فرمائے۔

۸؎یعنی اطمینان سے ادا کرو کہ تین تسبیح بقدر ٹھہرو،سجدے میں ہاتھوں کا ز مین پر لگناہمارے ہاں سنت ہے،شوافع کے ہاں فرض۔اس عبارت سے ان کا مذہب ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ تسکین سے مراد اطمینان ہے۔

۹؎ یعنی نماز میں جب بیٹھو تو بائیں ران پر اس طرح کہ داہنا قدم کھڑا ہو۔معلوم ہوا ہے کہ نماز کے دونوں قعدوں کی نشست یکساں ہے یعنی بائیں ران پر بیٹھنا یہ ہی حنفی کہتے ہیں۔

۱۰؎یعنی وضو کے بعد کلمہ پڑھنا سنت ہے،بعض روایات میں آتا ہے کہ “اِنَّا اَنْزَلْنَا”پڑھے،بہتر ہے کہ دونوں پڑھ لے۔

۱۱؎ یعنی اگر قرآن شریف بالکل یاد نہ ہو تو اس کی بجائے یہ پڑھ لو “سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّااﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ”۔فقہاء فرماتے ہیں کہ وہ نو مسلم جو ابھی قرآن یاد نہ کرسکا ہو وہ نماز میں بجائے قرآن یہی پڑھے۔ہمارے ہاں صرف ایک دفعہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں سات دفعہ۔غالبًایہ صاحب اس وقت نو مسلم تھے اس لیے یہ اجازت دی گئی ورنہ تلاوت نماز میں فرض ہے۔