أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هُوَ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ مِّنۡ نَّـفۡسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنۡهَا زَوۡجَهَا لِيَسۡكُنَ اِلَيۡهَا‌ ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰٮهَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِيۡفًا فَمَرَّتۡ بِهٖ‌ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنۡ اٰتَيۡتَـنَا صَالِحًا لَّـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ (اللہ ہی) ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے، پھر مرد نے جب اسے ڈھانپ لیا تو اسے خفیف سا حمل ہوگیا، وہ اس کے ساتھ چل پھر رہی تھی، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا کی جو ان کا پروردگار ہے کہ اگر تو نے ہمیں صحیح وسالم بیٹا دیا تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے

تفسیر:

(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ) ۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بالخصوص قیامت کے احوال کی جو خبریں دی ہیں، ان کے متعلق ہم نے متعدد کتب حدیث کے حوالہ جات سے پچیس احادیث بیان کی ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم ماکان ومایکون کے متعلق ہم نے متعدد کتب حدیث کے حوالہ جان سے دس احادیث بیان کی ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منجملہ غیب کی جو خبریں دی ہیں اس کے متعلق ہم نے متعدد کتب حدیث سے اکیاون احادیث بیان کی ہیں، سو آپ کے علم غیب کے متعلق یہ کل چھیاسی احادیث ہیں اور ہر ہر حدیث متعدد کتب حدیث کے حوالوں سے مزین ہے۔ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب سے متعلق تمام احادیث کا احاطہ اور احصاء نہیں کیا اور طوالت کی وجہ سے بیشمار احادیث کو ترک کردیا، اس سے قارئین کو یہ اندازہ ہوجائے گا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے جو علم غیب عطا فرمایا تھا، وہ علم کا ایسا عظیم سمندر ہے جس کا تصور بھی ہم لوگ نہیں کرسکتے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہلوانے کی توجیہ کہ اگر میں غیب کو جانتا تو خیر کثیر جمع کرلیتا 

علامہ علی بن محمد خازن متوفی 725 ھ لکھتے ہیں : 

اگر تم یہ اعتراض کرو کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بکثرت واقعات کی خبر دی ہے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عظیم معجزوں میں سے ہے تو ان احادیث اور آیت کریمہ ” لو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر ” (الاعراف : 188) میں کیسے تطبیق ہوگی، تو میں کہوں گا کہ ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بطور تواضع اور ادب یہ کلمات کہلوائے ہوں اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے مطلع اور قادر کیے بغیر میں غیب کو نہیں جانتا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب پر مطلع کرنے سے پہلے یہ کلمات کہلوائے ہوں، پھر جب اللہ نے آپ کو مطلع کردیا تو آپ نے غیب کی خبریں دیں، جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہے : عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول۔ (الجن : 26 ۔ 27)

یا اس آیت میں کفار کے سوال کا جواب ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سارے مغیبات پر مطلع فرمایا تو آپ نے ان کی خبریں دی اور یہ آپ کا معجزہ ہوگیا اور آپ کی نبوت کی صحت پر دلیل۔ (لباب التاویل للخازن ج 2، ص 167، مطبوعہ پشاور)

علامہ سلیمان جمل متوفی 1204 ھ اور علامہ آلوسی متوفی 1270 ھ نے بھی ان جوابات کو ذکر کیا ہے۔ علامہ سلیمان نے ان جوابات کو اختیار کیا ہے اور علامہ آلوسی نے ان جوابات میں تامل کی دعوت دی ہے۔ (حاشیۃ الجمل علی الجلالین ج 2، ص 217، روح المعانی ج 9، ص 137)

علامہ آلوسی کا مختار جواب یہ ہے کہ اس آیت میں علم غیب کے استمرار کی نفی ہے یعنی اگر میں ہمیشہ غیب کو جانتا ہوتا تو خیر کثیر کو جمع کرلیتا۔ (روح المعانی ج 9، ص 137، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

علامہ خفاجی متوفی 1069 ھ نے یہ جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے بغیر علم کی نفی کرائی گئی ہے اور جن احادیث میں علم کا ثبوت ہے وہ اللہ کے بتانے سے ہے۔ (نسیم الریاض ج 3، ص 150، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی 1367 ھ لکھتے ہیں : 

یہ کلام براہ ادب و تواضع ہے، معنی یہ ہیں کہ میں اپنی ذات سے غیب نہیں جانتا جو جانتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کی اطلاع سے (خازن) حضرت مترجم (اعلی حضرت) قدس سرہ نے فرمایا بھلائی جمع کرنا اور برائی نہ پہنچنا اسی کے اختیار میں ہوسکتا ہے، جو ذاتی قدرت رکھے اور ذاتی قدرت وہی درکھے گا جس کا علم بھی ذاتی ہو، کیونکہ جس کی ایک صفت ذاتی ہے تو اس کے تمام صفات ذات، تو معنی یہ ہوئے کہ اگر مجھے غیب کا علم ذاتی ہوتا، تو قدرت بھی ذاتی ہوتی اور میں بھلائی جمع کرلیتا اور برائی نہ پہنچنے دیتا، بھلائی سے مراد راحتیں اور کامیابیاں اور دشمنوں پر غلبہ ہے اور برائیوں سے مراد تنگی اور تکلیف اور دشمنوں کا غالب آنا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بھلائی سے مراد سرکشوں کا مطیع اور نافرمانوں کا فرمانبردار اور کافروں کا مومن کرلینا ہو، اور برائی سے بدبخت لوگوں کا باوجود دعوت کے محروم رہ جانا، تو حاصل کلام یہ ہوگا کہ اگر میں نفع اور ضرر کا ذاتی اختیار رکھتا تو اے منافقین و کافرین تمہیں سب کو مومن کر ڈالتا اور تمہاری کفری حالت دیکھنے کی تکلیف مجھے نہ پہنچتی۔ (خزائن العرفان علی حاشیۃ کنزل الایمان ص 282، مطبوعہ تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور)

علماء دیوبند نے بھی اس سے ملتی جلتی اس آیت کی تفسیر کی ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالم الغیب کہنے اور آپ کی طرف علم غیب کی نسبت کرنے میں علماء دیوبند کا نظریہ 

مفتی محمد شفیع دیوبندی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : 

اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ اس کا اعلان کردیں کہ میں اپنے نفس کے لیے بھی نفع نقصان کا مالک نہیں، دوسروں کے نفع نقصان کا تو کیا ذکر ہے۔ 

اسی طرح یہ بھی اعلان کردیں کہ میں عالم الغیب نہیں ہوں کہ ہر چیز کا علم ہونا میرے لیے ضروری ہو، اور اگر مجھے علم غیب ہوتا تو میں ہر نفع کی چیز کو ضرور حاصل کرلیا کرتا اور کوئی نفع میرے ہاتھ سے فوت نہ ہوتا۔ اور ہر نقصان کی چیز سے ہمیشہ محفوظ ہی ہوتا تو میں ہر نفع کی چیز کو ضرور حاصل کرلیا کرتا اور کوئی نفع میرے ہاتھ سے فوت نہ ہوتا۔ اور ہر نقصان کی چیز سے ہمیشہ محفوظ ہی رہتا اور کبھی کوئی نقصان مجھے نہ پہنچتا۔ حالانکہ یہ دونوں باتیں نہیں ہیں، بہت سے کام ایسے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو حاصل کرنا چاہا مگر حاصل نہیں ہوئے اور بہت سی تکلیفیں اور مضرتیں ایسی ہیں جن سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بچنے کا ارادہ کیا مگر وہ مضرت و تکلیف پہنچ گئی۔ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر آپ صحابہ کرام کے ساتھ احرام باندھ کر عمرہ کا ارادہ کرکے حدود حرم تک پہنچ گئے مگر حرم میں داخلہ اور عمرہ کی ادائیگی اس وقت نہ ہوسکی سب کو احرام کھول کر واپس ہونا پڑا۔

اسی طرح غزوہ احد میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زخم پہنچا اور مسلمانوں کو عارضی شکست ہوئی، اسی طرح کے اور بہت سے واقعات ہیں جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں معروف و مشہور ہیں۔

اور شاید ایسے واقعات کے ظاہر کرنے کا مقصد ہی یہ ہو کہ لوگوں پر عملاً یہ بات واضح کردی جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ مقبول اور افضل خلائق ہیں مگر پھر بھی وہ خدائی علم وقدرت کے مالک نہیں تاکہ لوگ اس غلط فہمی کے شکار نہ ہوجائیں جس میں عیسائی اور نصرانی مبتلا ہوگئے کہ اپنے رسول کو خدائی صفات کا مالک سمجھ بیٹھے اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوگئے۔ 

اس آیت نے بھی یہ واضح کردیا کہ انبیاء (علیہم السلام) نہ قادر مطلق ہوتے ہیں نہ عالم الغیب بلکہ ان کو علم وقدرت کا اتنا ہی حصہ حاصل ہوتا ہے جتنا من جانب اللہ ان کو دے دیا جائے۔ 

ہاں اس میں شک و شبہ نہیں کہ جو حصہ علم کا ان کو عطا ہوتا ہے وہ ساری مخلوقات سے بڑھا ہوا ہوتا ہے خصوصاً ہمارے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اولین و آخرین کا علم عطا فرمایا گیا تھا۔ یعنی تمام انبیاء (علیہم السلام) کو جتنا علم دیا گیا تھا وہ سب اور اس سے بھی زیادہ آپ کو عطا فرمایا گیا تھا۔ اور اسی عطا شدہ علم کے مطابق آپ نے ہزاروں غیب کی باتوں کی خبریں دیں جن کی سچائی کا ہر عام و خاص نے مشاہدہ کیا۔ اس کی وجہ سے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہزاروں لاکھوں غیب کی چیزوں کا علم عطا کیا گیا تھا، مگر اس کو اصطلاح قرآن میں علم غیب نہیں کہ سکتے ہیں اور اس کی وجہ سے رسول کو عالم الغیب نہیں کہا جاسکتا۔ (معارف القرآن ج 4، ص 147 ۔ 148، مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی، 1993 ء)

اس کی مزید وضاحت اس تفسیر سے ہوتی ہے جو شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی 1369 ھ نے النمل : 65 میں سپرد قلم کی ہے۔ 

ہاں بعض بندوں کو بعض غیوب پر باختیار خود مطلع کردیتا ہے جس کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو حق تعالیٰ نے غیب پر مطلع فرمایا یا غیب کی خبر دے دی، لیکن اتنی بات کی وجہ سے قرآن وسنت نے کسی جگہ ایسے شخص پر عالم الغیب یا فالن یعلم الغیب کا اطلاق نہیں کیا۔ بلکہ احادیث میں اس پر انکار کیا گیا ہے کیونکہ بظاہر یہ الفاظ اختصاص علم الغیب بذات الباری کے خلاف موہم ہوتے ہیں، اس لیے علماء محققین اجازت نہیں دیتے کہ اس طرح کے الفاظ کسی بندہ پر اطلاق کیے جائیں۔ گو لغۃً صحیح ہوں (الی قولہ) واضح رہے کہ علم غیب سے ہماری مراد محض، ظنون و تخمینات نہیں اور نہ وہ علم جو قرائن و دلائل سے حاصل کیا جائے بلکہ جس کے لیے کوئی دلیل و قرینہ نہ ہو وہ ماد ہے۔ اور الاعراف : 188 کی تفسیر کے آخر میں لکھتے ہیں : بہرحال اس آیت میں کھول کر بتلا دیا کہ اختیار مستقل یا علم محیط نبوت کے لواز میں سے نہیں جیسا کہ بعض جہلاء سمجھتے ہیں۔ ہاں شرعیات کا علم جو انبیاء (علیہم السلام) کے منصب سے منتعلق ہے کامل ہونا چاہیے، اور تکوینات کا علم خدا تعالیٰ جس کو جس قدر مناسب جانے عطا فرماتا ہے۔ اس نوع میں ہمارے حضور تمام اولین و آخرین سے فائق ہیں۔ آپ کو اتنے بیشمار علوم و معارف حق تعالیٰ نے مرحمت فرمائے ہیں جن کا احساء کسی مخلوق کی طاقت میں نہیں۔ 

ہمارے نزدیک بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو باوجود عالم ماکان ومایکون ہونے کے عالم الغیب کہنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح مطلقاً یوں نہیں کہنا چاہیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غیب جانتے تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب کا علم دیا گیا یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب پر مطلع کیا گیا۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالم الغیب کہنے اور آپ کی طرف علم غیب کی نسبت کرنے میں اعلی حضرت کا نظریہ 

اعلی حضرت امام احمد رضا متوفی 1340 ھ لکھتے ہیں :

علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ یعلم الغیب وارد ہے کما فی مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح للملا علی القاری بلکہ خود حدیث سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) میں سیدنا خضر (علیہ السلام) کی نسبت ارشاد ہے کان یعلم علم الغیب مگر ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عز جلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اس سے عرفاً علم بالذات متبادر ہے۔ کشاف میں ہے المراد بہ الخفی الذی لاینفذ فیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر و لہذا لا یجوز ان یطلق فیقال فلان یعلم الغیب (غیب سے مراد وہ پوشیدہ چیز ہے جس میں ابتدا صرف اللہ تعالیٰ کا علم نافذ ہوتا ہے۔ اس لیے مطلقاً یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص غیب کو جانتا ہے)

اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آتا۔ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعاً بیشمار غیوب و ماکان ومایکون کے عالم ہیں مگر الم الغیب صرف اللہ عزوجل کو کہا جائے گا، جس طرح حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قطعاً عزت و جلالت والے ہیں تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل نہ ہے نہ ہوسکتا ہے مگر محمد عزوجل کہنا جائز نہیں بلکہ اللہ عزوجل و محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ غرض صدق و صورت معنی کو جواز اطلاق لفظ لازم نہیں نہ منع اطلاق لفظ کو نفی صحت معنی، امام ابن المنیر اسکندری کتاب الانتصاف میں فرماتے ہیں کم من معتقد لایطلق القول بہ خشیۃ ایھام غیرہ مما لا یجوز اعتقادہ فلا ربط بین الاعتقاد و الاطلاق (کتنے عقائد ایسے ہیں جن کا مطلقاً قول نہیں کیا جاتا۔ مبادا ان کے غیر کا وہم کیا جائے جن کا اعتقاد جائز نہیں ہے، اس لیے کسی چیز کا اعتقاد رکھنے اور اس کا اطلاق کرنے میں کوئی تلازم نہیں ہے) یہ سب اس صورت میں ہے کہ مقید بقید اطلاق اطلاق کیا جائے یا بلا قید علی الاطلاق مثلا عالم الغیب یا عالم الغیب علی الاطلاق اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ بالواسطہ یا باالعطا کی تصریح کردی جائے تو وہ محذور نہیں کہ ایمان زائل اور مراد حاصل۔ علامہ سید شریف قدس سرہ حواشی کشاف میں فرماتے ہیں وانما لم یجز الاطلاق فی غیر تعالیٰ لانہ یتبادر منہ تعلق علم بہ ابتداء فیکون منا قضا واما اذا قید وقیل اعلمہ اللہ تعالیٰ الغیب او اطلعہ علیہ فلا محذور فیہ (اللہ تعالیٰ کے غیر کے لیے علم غیب کا اطلاق کرنا اس لیے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ علم کا تعلق ابتداءً ہے، تو یہ قرآن مجید کے خلاف ہوجائے گا لیکن جب اس کو مقید کیا جائے اور یوں کہا جائے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے غیب کی خبر دی ہے یا اس کو غیب پر مطلع فرمایا ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے) ۔ (فتاوی رضویہ ج 9، ص 81، مطبوعہ دار العلوم امجدیہ، کراچی)

نیز اعلی حضرت امام احمد رضا فرماتے ہیں : 

علم مافی الغد (کل کا علم) کے بارے میں ام المومنین کا قول ہے کہ جو یہ کہے کہ حضور کو علم مافی الغد تھا (کل کا علم تھا) وہ جھوٹا ہے۔ اس سے مطلق علم کا انکار نکالنا محض جہالت ہے علم جب کہ مطلق بولاجائے خصوصاً جب کہ غیب کی خبر کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے۔ اس کی تصریح حاشیہ کشاف پر میر سید شریف (رح) نے کردی ہے اور یہ یقیناً حق ہے کہ کوئی شخص کسی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے یقیناً کافر ہے۔ (ملفوظات ج 3، ص 34، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی، کراچی)

اعلی حضرت فاضل بریلوی اور شیخ شبیر احمد عثمانی دونوں نے ہی یہ تصریح کی ہے کہ علوم اولین و آخرین کے حامل ہونے اور بکثرت غیوب پر مطلع ہونے کے باوجود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالم الغیب کہنا اور آپ کی طرف علم غیب کی نسبت کرنا ہرچند کہ ازروئے لغت اور معنی صحیح ہے لیکن اصطلاحاً صحیح نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” وہ (اللہ ہی) ہے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کی بیوی بنائی تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے، پھر مرد نے جب اسے ڈھانپ لیا تو اسے خفیف سا حمل ہوگیا، وہ اس کے ساتھ چل پھر رہی تھی، پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے اللہ سے دعا کی جو ان کا پروردگار ہے کہ اگر تو نے ہمیں صحیح وسالم بیٹا دیا تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے۔ پس جب اللہ نے انہیں صحیح وسالم بیٹا دے دیا تو انہوں نے اس کی عطا میں اس کے شریک ٹھیرا لیے، سو اللہ اس سے بلند ہے جس میں وہ شرک کرتے ہیں “۔

ان روایات کی تحقیقی جن میں مذکور ہے کہ حضرت آدم اور حوا نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث رکھا 

امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی 279 ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب حوا حاملہ ہوگیں تو ان کے پاس ابلیس گیا، حوا کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا، ابلیس نے ان سے کہا تم اس کا نام عبدالحارث رکھ دو ، انہوں نے اس کا نام عبدالحارث رکھ دیا پھر وہ بچہ زندہ رہا، یہ کام شیطان کے وسوسہ سے تھا۔ امام عبدالرزاق نے قتادہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے نام رکھنے میں شرک کیا تھا عبادت میں شرک نہیں کیا تھا۔ (تفسیر امام عبدالرزاق رقم الحدیث : 968 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 3088 ۔ مسند احمد ج 7، رقم الحدیث : 20137 ۔ المستدرک ج 2، ص 545 ۔ الدر المنثور ج 3، ص 263)

امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صرف عمر بن ابراہیم از قتادہ کی سند سے مروی ہے۔ اور اس کی روایت لائق احتجاج نہیں ہے۔ 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں : 

امام احمد نے کہا ہے اس نے قتادہ سے منکر احادیث روایت کی ہیں۔ امام ابن عدی نے کہا اس نے قتادہ سے ایسی احادیث روایت کیں ہیں جن میں اس کی کوئی موافقت نہیں کرتا۔ امام ابن حبان نے اس کا ضعفاء میں شمار کیا اور کہا جب یہ قتادہ سے روایت میں منفرد ہو تو اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جائے گا۔ (تہذیب التہذیب ج 7، ص 359 ۔ رقم الحدیث : 5040 ۔ تہذیب الکمال رقم الحدیث : 4200 ۔ لسان المیزان ج 3، رقم الحدیث : 1959)

حافظ عماد الدین اسماعیل بن کثیر متوفی 774 ھ اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں : 

یہ روایت اہل کتاب کے آثار سے ہے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث صحیح ہے کہ جب اہل کتاب تم سے حدیث بیان کریں تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب کرو اور اہل کتاب کی روایات کی تین قسمیں ہیں، بعض وہ ہیں جن کا صحیح ہونا ہمیں کتاب اور سنت سے معلوم ہے۔ بعض وہ ہیں جن کا کذب ہمیں کتاب اور سنت سے معلوم ہے۔ (مثلاً حضرت عیسیٰ کو یہود کا سولی پر لٹکانا) اور بعض وہ ہیں جن کا صدق یا کذب متعین نہیں ہے۔ اور اس روایت کا کذب ہمیں معلوم ہے کیونکہ اگر دونوں میاں بیوی سے مراد حضرت آدم اور حوا ہوں تو لازم آئے گا کہ وہ دونوں مشرک ہوں کیونکہ اس سے اگلی آیت میں ہے پس جب اللہ نے انہیں صحیح وسالم بیٹا دے دیا تو انہوں نے اس کی عطا میں شریک ٹھہرا لیے اور حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں اور معصوم ہیں ان کا شرک کرنا عادۃً محال ہے، اور امام عبدالرزاق کی روایت کلبی سے ہے اور اس کا حال سب کو معلوم ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 3، ص 265، مطبوعہ دار الاندلس بیروت، 1385 ھ)

امام ابن جریر متوفی 310 ھ اور امام ابن ابی حاتم متوفی 327 ھ نے اپنی اپنی سندوں سے روایت کیا ہے : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم اور حوا کو زمین پر اتارا گیا تو حضرت آدم کی طبیعت میں شہوت ڈال دی گی اور انہوں نے حضرت حوا سے عمل زوجیت کیا، جس کے نتیجہ میں وہ حاملہ ہوگئیں اور ان کے پیٹ میں بچہ حرکت کرنے لگا اور وہ سوچتی تھیں کہ یہ کیا چیز ہے ؟ ان کے پاس ابلیس گیا اور کہنے لگا تم نے زمین پر اونٹنی، گائے، بکری، دنبہ اور بھیڑ کو دیکھا ہے ؟ ہوسکتا ہے تمہارے پیٹ سے ایسی ہی کوئی چیز نکلے، حضرت حوا یہ سن کر گھبرا گئیں، اس نے کہا میری بات مان لو، اس کا نام عبد الحارث رکھو تو پھر تمہارے مشابہ بچہ پیدا ہوگا۔ حواء نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔ حضرت آدم نے فرمایا یہ وہ شخص ہے جس نے ہم کو جنت سے نکلوایا تھا، وہ بچہ مرگیا، حضرت حوا دوبارہ حاملہ ہوئیں ابلیس پھر ان کے پاس گیا اور کہا میری بات مان لو اس کا نام عبدالحارث رکھو، اور ابلیس کا نام فرشتوں میں حارث تھا، اس نے کہا ورنہ کوئی اونٹنی یا گائے یا بکری یا بھیڑ پیدا ہوگی یا تمہارے مشابہ بچہ ہوا تو میں اس کو مار دوں گا جیسے میں نے پہلے بچہ کو مار دیا تھا۔ حواء نے اس واقعہ کا حضرت آدم سے ذکر کیا انہوں نے گویا اس پر ناگواری ظاہر نہیں کی، تو حواء نے اس بچہ کا نام عبد الحارث رکھ دیا۔ سعید بن جبیر نے ان آیات کا مصداق حضرت آدم اور حوا کو قرار دیا ہے۔ (جامع البیان جز 9، ص 193، تفسیر امام ابن ابی حاتم ج 5، ص 1632 ۔ الدر المنثور ج 3، ص 624)

یہ روایت بھی باطل ہے۔ کیونکہ حضرت آدم نے اگر اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث بہ طور علم رکھا تھا اور اس کے لفظی معنی کا لحاظ نہیں کیا تھا تو پھر یہ نام رکھنا شرک نہ ہوا کیونکہ اسماء اعلام میں الفاظ کے معانی اصلیہ کا اعتبار نہیں ہوتا۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کو ان آیات کا مصداق قرار دینا صحیح نہ ہوا اور اگر حضرت آدم نے اپنے بیٹے کا نام عبدالحارث بہ طور صفت رکھا تھا تو پھر یہ شرک ہے اور حضرت آدم (علیہ السلام) نبی معصوم ہیں ان سے شرک کیسے متصور ہوسکتا ہے یہ کیوں کر متصور ہوسکتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو ابلیس کا بندہ قرار دیں۔

جعلا لہ شرکاء (انہوں نے اللہ کے شریک بنا لیے) کی توجیہات 

اب پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں ہے تو دونوں نے اللہ سے دعا کی نیز دوسری روایت میں ہے جب اللہ نے انہیں صحیح وسالم بیٹا دے دیا تو انہوں نے اس کی عطا میں شریک ٹھہرا لیے یہ دعا کرنے والے اور شریک ٹھہرانے والے کون تھے ؟ مفسرین کرام نے ان آیات کی حسب ذیل توجیہات کی ہیں : 

1 ۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا جہل اور ان کا شرک بیان فرمایا ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تم میں سے ہر شخص کو پیدا کیا ہے، اور اسی کی جنس سے اس کی بیوی بنائی اور جب شوہر نے اپنے بیوی سے عمل زوجیت کرلیا اور وہ حاملہ ہوگئی تو دونوں میاں اور بیوی نے اللہ سے دعا کی، جو ان کا رب ہے کہ اگر تو نے ہمیں صحیح وسالم بیٹا دیا تو ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے اور جب اللہ ت عالیٰ نے انہیں صحیح وسالم بیٹا دے دیا تو وہ اللہ کی دی ہوئی نعمت میں شرک کرنے لگے۔ دہریے کہوتے ہیں کہ بچہ کا اس طرح پیدا ہونا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔ ستارہ پرست کہتے ہیں کہ یہ ستاروں کی چال اور ان کی تاثیر سے پیدا ہوا اور بت پرست یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے بتوں اور دیوی دیوتاؤں کی دین ہے۔ اور یہ لوگ اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ فطرت ہو یا ستارے، بت ہوں یا دیوی اور دیوتا، سب کا پیدا کرنے والا اللہ ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے اسی نے اولاد کو بھی پیدا کیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بڑھاپے میں اسی نے بیٹا دیا، حضرت زکریا جب بڑھاپے میں اولاد سے ناامید ہوچکے تھے تو انہوں نے اسی کو پکارا اور اسی سے دعا کرنے کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کی بوڑھی اور بانجھ بیوی کو فرزند عطا کیا۔ سو اولاد کی طلب کے لیے اسی کے آستانہ پر سر جھکانا چاہیے اور اولاد پانے کے بعد اسی کا شکر ادا کرنا چاہیے، البتہ اولاد کی طلب کے لیے نیک لوگوں اور بزرگوں سے دعا کرانا جائز ہے اور ان کے وسیلہ سے دعا مانگنا بھی جائز ہے۔ 

طلب اولاد کے لیے اگر نذر ماننی ہو تو اللہ کی عبادت مقصودہ کی نذر مانی جائے، نذر عبادت ہے اس لیے کسی ولی یا بزرگ کی نذر ماننا جائز نہیں ہے، اگر کسی بزرگ کی دعا سے اولاد ہو یا ان کے وسیلہ کے ساتھ دعا کرنے سے اولاد ہو، تب بھی اللہ کا شکر ادا کرے اور یوں کہے کہ فلاں بزگ کے وسیلہ سے یا ان کی دعا سے اولاد ہوئی، اور اگر عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کے عطا کرنے سے اولاد ہوئی ہے اور فلاں بزرگ وسیلہ ہیں، اور یوں کہے کہ فلاں بزرگ نے اولاد عطا کی ہے تو یہ سبب کی طرف نسبت ہونے کی وجہ سے شرک نہیں ہے لیکن افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ اس مجازی نسبت کا ذکر کرنے کی بجائے حقیقی نسبت کا ذکر کرے اور اللہ تعالیٰ ہی کا شکر ادا کرے جس نے اس بزرگ کی دعا قبول فرمائی اور جائز حد اس بزرگ کی بھی تعطیم کرے کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 4811 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1961 ۔ مسند احمد ج 2، ص 258 ۔ مشکوۃ رقم الحدیث : 3025 ۔ مجمع الزوائد ج 5، ص 217)

2:۔ اس آیت میں ان قریش سے خطاب ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تھے، اور وہ قصی کی اولاد تھے، اور اس آیت سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو ایک نفس یعنی قصی سے پیدا کیا اور اس کی جنس سے اس کی بیوی عربیہ قرشیہ بنائی تاکہ وہ اس سے سکون حاصل کرے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کے موافق ان کو صحیح وسالم بیٹا عطا فرمادیا تو ان دونوں میاں بیوی نے اس کی دی ہوئی نعمت میں اللہ تعالیٰ کے شریک گھڑ لیے اور انہوں نے اپنے چار بیٹوں کے یہ نام رکھے۔ عبد مناف، عبدالعزی، عبد قصی اور عبداللات اور اس کے بعد ان کے متبعین کے متعلق فرمایا سو اللہ اس سے بلند ہے جس میں وہ شرک کرتے ہیں۔ 

3:۔ اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ یہ آیات حضرت آدم اور حواء کے متعلق ہیں تو یہ آیتیں مشرکین کے رد میں نازل ہوئی ہیں اور اشکال کا جواب یہ ہے کہ یہاں ہمزہ استفہام کا مقس ہے یعنی اجعلالہ شرکاء اور ان آیتوں کا معنی اس طرح ہوگا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حواء کی دعا کے موافق ان کو صحیح وسالم بیٹا عطا کردیا تو کیا انہوں نے اللہ کے شریک گھڑ لیے تھے ؟ تو اے مشرکو ! تم کیوں اللہ کے لیے شریک گھڑتے ہو ؟ اور اللہ اس چیز سے بلند ہے جس میں یہ مشرک اللہ کے لیے شریک بناتے ہیں۔

4 ۔ اس صورت میں دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں جعلا کا فاعل اولادھما ہے اور مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کا قائم مقام کردیا جو جعلا میں ضمیر فاعل ہے اور معنی اس طرح ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حواء کی دعاء کے موافق ان کو صحیح وسالم بیٹا دیا تو ان کی اولاد نے اللہ کی ہوئی نعمت میں شرک گھڑ لیے۔ 

5 ۔ قتادہ نے حسن سے روایت کیا ہے کہ یہ آیتیں یہود اور نصاریٰ سے متعلق ہیں یعنی جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی دعا کے موافق صحیح سالم بیٹا دے دیا تو انہوں نے اس اولاد کو یہود و نصاریٰ بنادیا اور یوں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا۔ (جامع البیان جز 9، ص 197، زاد المسیر ج 3، ص 303)

6 ۔ حوا ہر مرتبہ ایک مزکر اور یک مونث دو بچے جنتی تھیں اور جعلا کا فاعل یہ دو بچے ہیں۔ یعنی جب ان کی دعا سے حضرت حوا کے دو صحیح وسالم بچے ہوگے تو ان بچوں نے برے ہو کر اللہ کے شریک بنا لیے یا پھر ان کی اولاد در اولاد نے۔ (زاد المسیر ج 3، ص 303، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ)

غلط طریقہ سے نام لینے اور نام بگاڑنے کی مذمت 

بعض تفاسیر کے مطابق ان آیتوں میں شرک فی التسمیہ (نام رکھنے میں شرک) کی مذمت فرمائی ہے۔ یعنی عبدالحارث، عبدالعزی، عبداللات وغیرہ نام رکھنا شرک ہیں۔ اور عبداللہ اور عبدالرحمن ایسے نام رکھنے چاہئیں۔ ہمارے زمانہ میں نام کے سلسلہ میں بہت فروگزاشت پائی جاتی ہے بعض لوگ اپنے بچے کا نام عبدالرحمن یا عبدالخالق رکھتے ہیں اور لوگ اس کو رحمن صاحب خالق صاحب کہتے ہیں۔ کسی کا نام عبدالغفور ہوتا ہے اس کو لوگ غفورا، غفورا کہتے ہیں۔ کسی کا نام انعام الٰہی ہوتا ہے اور اور لوگ اس کو الٰہی صاحب کہتے ہیں یہ پڑھے لکھے لوگوں کا حال ہے اور پنجاب میں جو ان پڑھ لوگ ہیں وہ غلام محمد کو گا ما اور غلام رسول کو سولا کہتے ہیں اور جس کا نام کنیز فاطمہ ہو اس کو پھتو کہتے ہیں۔ یہ نام تو صحیح اور مستحب ہیں لیکن ان ناموں کو غلط طریقہ سے پکارنے والے سخت بےادبی اور گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : ” ولا تنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الایمان ومن لم یتب فاولئک الم الظلمون : اور ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ بلاؤ کیسا برا نام ہے ایمان کے بعد فاسق کہلانا، اور جو لوگ توبہ نہ کریں سو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں ” (الحجرات :11)

بچوں کا نام رکھنے کی تحقیق 

دوسری بڑی خرابی نام رکھنے کے سلسلہ میں ہے لوگوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ نام رکھنے میں انفرادیت ہو اور ان کو یہ شوق ہوتا ہے کہ ان کے بچے کا نا نیا اور اچھوتا ہو۔ خواہ اس کا مطلب، معنی کچھ نہ ہو۔ اس کی ایک عام مثال یہ ہے کہ لوگ شرجیل نام رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ مہمل لفظ ہے اصل لفظ شرحبیل ہے۔ اسی طرح بچی کا نام ثوبیہ رکھتے ہیں یہ بھی مہمل لفظ ہے اصل لفظ ثوبیہ ہے۔ بہترین نام عبداللہ اور امۃ اللہ ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ نام رکھنے کے سلسلہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ہدایات دیں ان پر مشتمل احادیث کو یہاں بیان کردیں۔ 

پسندیدہ اور ناپسندیدہ ناموں کے متعلق احادیث 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے نزدیک تمہارے سب سے پنسیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں۔ (صحیح مسلم الآداب 2 (2132) 5483 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 2841 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3728)

حضرت زینب بنت ابی سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میرا نام برہ (نیکو کار) رکھا گیا تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنی پاکیزگری اور بڑائی مت بیان کرو، اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ تم میں سے کون نیکو کار ہے۔ صحابہ نے پوچھا ہم ان کا کیا نام رکھیں ؟ آپ نے فرمایا اس کا نام زینب رکھو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6192 ۔ صحیح مسلم الاداب 19 (2142) 5504 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3732)

جن اسماء سے صاحب اسم کی پاکیزگی اور بڑائی ظاہر ہوتی ہو ایسے نام رکھنا ناپسندیدہ اور مکروہ ہیں، جیسے آج کل لوگ نام رکھتے ہیں شمس الزمان، شمس الہدی، اعظم خان، اکبر خان وغیرہ۔ علامہ شامی نے لکھا ہے کہ شمس الدین اور محی الدین نام رکھنا ممنوع ہے اس میں خود ستائی کے علاوہ جھوٹ بھی ہے۔ علامہ قرطبی مالکی نے بھی ایسے ناموں کو ممنوع لکھا ہے اور علامہ نووی شافعی نے مکروہ لکھا ہے۔ (رد المحتار ج 5، ص 268)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر کی بیٹی کا نام عاصیہ (گنہ کرنے والی) تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ (صحیح مسلم الاداب، 15 (2139) 5500 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 4952 ۔ سنن الترمزی رقم الحدیث : 2847 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3733)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برے نام کو تبدیل کردیتے تھے۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2848، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

شریح بن ھانی اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ وفد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے قوم سے سنا کہ وہ ان کی نیت ابوالحکم کے ساتھ ان کو پکارتے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بلا کر فرمایا بیشک اللہ ہی حکم ہے اور اسی کی طرف مقدمات پیش کیے جاتے ہیں تم نے اپنی کنیت ابوالحکم کیوں رکھی ہے ؟ انہوں نے کہا میری قوم کا جب کسی معاملہ میں اختلاف ہوتا ہے تو وہ میرے پاس آتے ہیں اور میں ان کے درمیان حکم دیتا ہوں (فیصلہ کرتا ہوں) تو میرے حکم پر دونوں فریق راضی ہوجاتے ہیں (سو اس لیے میری کنیت ابو الحکم۔ یعنی حکم دینے والا) ۔ آپ نے فرمایا یہ اچھا نہیں ہے، تمہارے بیٹے ہیں، شرح نے کہا میرے تین بیٹے ہیں۔ شریح، مسلم اور عبداللہ۔ آپ نے پوچھا ان میں سے بڑا کون ہے ؟ میں نے کہا شریح، آپ نے فرمایا پس تم ابو شریح (شریح والا) ہو۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 4955 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 5378)

اللہ کے اسماء صفات کی طرف اب کی اضافت کرکے کنیت رکھنا ممنوع ہے تاکہ یہ وہم نہ ہو کہ یہ شخص اللہ کی صفت والا ہے جیسے کوئی شخص ابو الغفور، ابو الرحیم یا ابو الاعلیٰ کنیت رکھ لے۔

عبدالنبی نام رکھنے کا شرعی حکم 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے میرا عبد، (بندہ) اور میری بندی، تم سب اللہ کے عبد ہو اور تمہاری عورتیں اللہ کی بندی ہیں۔ لیکن تم کو کہنا چاہیے میرا غلام اور میری باندی یا میرا نوکر اور میری نوکرانی۔ (صحیح مسلم الفاظ الادب، 13 (2249 13 (2249) 2765 ۔ صحیح البخاری رقم الحدیث :2552 ۔ سنن کبری للنسائی رقم الحدیث : 10070 ۔ مسند احمد ج 2، ص 444) 

کسی شخص کا اپنے مملوک کو میرا عبد کہنا خلاف اولیٰ یا مکروہ تنزیہی ہے، حرام نہیں ہے۔ کراہت کی وجہ یہ ہے کہ اس کا مملوک اللہ کا عبد ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے، اب اگر اس کا مالک بھی اس کو اپنا عبد کہے تو اس میں شرک کی مشابہت کا خدشہ ہے، لہذا اس سے احتراز کے لیے اولیٰ ہے کہ اس کو میرا نوکر اور میرا خادم کہے، اور یہ حرام اس لیے نہیں ہے کہ قرآن مجید میں مالک کی طرف عبد کی اضافت کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” وانکحوا الایامی منکم والصلحین من عبادکم وامئکم : اور تم اپنے بےنکاح (آزاد) مردوں اور عورتوں کا اپنے نیک عباد (غلاموں) اور باندیوں سے نکاح کردو “

اسی طرح احادیث میں بھی عبد کی اضافت مسلمان کی طرف کی گئی ہے۔ 

” عن ابی ہریرہ ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال لیس علی المسلم فی عبدہ ولا فی فرسہ صدقۃ : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان کے بعد اور اس کے گھوڑے میں زکوۃ نہیں ہے ” (صحیح البخاری رقم الحدیث : 1463 ۔ صحیح مسلم زکوۃ 8 (982) 2237 ۔ سنن ابو داود رقم الحدیث : 1594 ۔ سنن الترمزی 9 رقم الحدیث : 628 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 2467 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 1812)

علامہ ابن بطال نے کہا کہ اس آیت کی رو سے کسی شخص کا اپنے غلام کو میرا عبد کہنا جائز ہے اور احادیث میں ممانعت تغلیظ کے لیے ہے تحریم کے لیے نہیں، اور یہ مکروہ اس لیے ہے کہ یہ لفظ مشترک ہے کیونکہ اس کا غلام بہرحال اللہ کا عبد ہے اب اگر وہ اسے میرا عبد کہے تو اس سے اس غلام کا مشترک ہونا لازم آگیا۔ (عمدۃ القاری ج 13، ص 110، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ، 1348 ھ)

بعض لوگوں کا نام عبدالنبی اور عبدالرسول رکھا جاتا ہے۔

شیخ اشرف علی تھانوی نے کفر اور شرک کی باتوں کا بیان، اس عنوان کے تحت لکھا ہے۔ علی بخش، حسین بخش، عبدالنبی وغیرہ نام رکھنا۔ (بہشتی زیور، ج 1، ص 35، مطبوعہ ناشران قرآن لمیٹڈ، لاہور)

ظاہر ہے کہ یہ دین میں غلو اور زیادتی ہے۔ عبدالنبی اور عبدالرسول نام رکھنا سورة نور کی اس آیت کے تحت جائز ہے اور احادیث میں جو ممانعت وارد ہے، اس کی وجہ سے خلاف اولیٰ یا مکروہ تنزیہی ہے۔ ہمارے نزدیک مختار یہی ہے کہ عبدالنبی، عبدالرسول اور عبدالمصطفیٰ نام رکھنا، ہرچند کہ جائز ہے لیکن چونکہ احادیث میں اس کی ممانعت ہے، اس لیے خلاف اولیٰ یا مکروہ تنزیہی ہے، اس لیے افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ ان کے بجائے غلام نبی، غلام رسول اور غلام مصطفیٰ نام رکھے جائیں۔

علامہ ابن اثیر جزری متوفی 606 ھ لکھتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) کی حدیث میں ہے کوئی شخص اپنے مملوک کو میرا عبد نہ کہے بلکہ میرا نوکر یا خادم کہے۔ یہ ممانعت اس لیے کی گئی ہے تاکہ مالک سے تکبر اور بڑائی کی نفی کی جائے اور مالک کی طرف غلام کی عبودیت کی نسبت کی نفی کی جائے اس کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہی تمام بندوں کا رب ہے۔ (النہایہ ج 3، ص 155، ص مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، مجمع بحار الانوار ج 3 ص 512، مطبوعہ مکتبہ دار الایمان المدینہ المنورہ، 1415 ھ)

علامہ عبدالروؤف مناوی شافعی متوفی 1021 ھ لکھتے ہیں : اجلاء الشافعیہ میں سے علامہ ازرعی نے کہا فتاوی میں مذکور ہے کہ ایک انسان کا نام عبدالنبی رکھا گیا میں نے اس میں توقف کیا۔ پھر میرا اس طرف میلان ہوا کہ یہ نام حرام نہیں ہے، جب اس کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نسبت سے مشرف ہونے کا ارادہ کیا جائے اور لفظ عبد سے خادم کے معنی کا ارادہ کیا جائے اور اس نام کی ممانعت کی بھی گنجائش ہے جب جاہلوں کے عقیدہ شرکیہ کا خدشہ ہو یا کوئی شخص لفظ عبد سے حقیقت عبودیت کا ارادہ کرے، علامہ دمیری نے یہ کہا ہے کہ عبدالنبی نام رکھنے کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ جب اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طر نسبت کرنے کا قصد کیا جائے تو جائز ہے اور اکثر علماء کا میلان اس نام رکھنے کی ممانعت کی طرف ہے، کیونکہ اس میں اللہ کا شریک بنانے کا خدشہ ہے اور حقیقت عبودیت کے اعتقاد کا خطرہ ہے۔ جس طرح عبدالدار نام رکھنا منع ہے اور اسی قیاس پر عبدالکعبہ نام رکھنا حرام ہے۔ (فیض القدیر ج 1، ص 321 ۔ 322 ۔ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

شیخ محمد حنفی لکھتے ہیں : 

عبد النبی نام رکھنے کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ یہ حرام ہے، کیونکہ اس سے یہ وہم ہوگا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اور اس دلیل کو مسترد کردیا گیا ہے کیونکہ جو شخص بھی عبدالنبی کا لفظ سنتا ہے وہ اس سے خادم کا معنی سمجھتا ہے مخلوق کا معنی نہیں سمجھتا۔ ہاں اولیٰ یہ ہے کہ یہ نام نہ رکھا جائے تاکہ یہ وہم نہ ہو۔ (حاشیہ فیض القدیر علی ھامش السراج المنیر ج 1، ص 51، المطبوعہ المطبعہ الخیریہ، 3104 ھ)

علامہ شامی لکھتے ہیں : فقہاء نے عبد فلاں نام رکھنے سے منع کیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عبدالنبی نام رکھنا ممنوع ہے، علامہ مناوی نے علامہ دمیری (شافعی) سے نقل کیا ہے کہ ایک قول جواز کا ہے جبکہ اس نسبت سے مشرف ہونا مقصود ہو، اور اکثر فقہاء نے اس خدشہ سے منع کیا ہے کہ کوئی حقیقت عبودیت کا اعتقاد کرے، جیسے عبدالدار نام رکھنا جائز نہیں ہے۔ (رد المحتار ج 5 ص 368، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، 1407 ھ)

اعلی حضرت متوفی 1340 ھ نے لکھا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے برسر منبر خطبہ میں فرمایا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا میں آپ کا عبد اور خادم تھا۔ (النور والضیاء ص 24، مطبوعہ پروگریسو بکس لاہور)

حضرت عمر (رض) کا یہ ارشاد خلاف اولیٰ نہیں ہے۔ کیونکہ آپ نے عبد کے ساتھ خادم کے لفظ کا ذکر فرمایا ہے جس سے عبد بمعنی مخلوق کا وہم پیدا نہیں ہوتا۔ 

قیامت کے دن انسان کو اس کے باپ کے نام کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا یا ماں کے نام کی طرف ؟ 

قیامت کے دن انسان کو اس کے باپ کے نام کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا۔ امام بخاری نے کتاب الاداب میں ایک باب کا یہ عنوان قائم کیا ہے لوگوں کے آباء کے نام سے پکارا جائے گا اور اس باب کے تحت یہ حدیث ذکر کی ہے۔ 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین اور آخرین کو جمع فرمائے گا اور ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا پھر کہا جائے گا یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 6177 ۔ صحیح مسلم جہاد 9 (1735) 4448)

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک تم قیامت کے دن اپنے ناموں سے اور اپنے باپوں کے ناموں سے پکارے جاؤگے تو اپنے اچھے نام رکھو۔ (سنن ابو داود رقم الھدیث : 4948 ۔ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : 5818 ۔ سنن دارمی رقم الحدیث : 2694 ۔ مسند احمد ج 5، ص 194، طبع قدیم، اس کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد ج 16، رقم الحدیث : 21859، مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ۔ موارد الظمآن رقم الحدیث : 1944 ۔ سنن کبری للبیہقی ج 9، ص 306 ۔ مشکوۃ، رقم الحدیث : 4767)

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کی ماں کے نام کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا۔ ان کا استدلال اس حدیث سے ہے : 

سعید بن عبداللہ اودی بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابوامامہ (رض) کے پاس گیا اس وقت وہ نزع کی کیفیت میں تھے۔ انہوں نے کہا جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ اس طرح عمل کرنا جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں کے ساتھ عمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی شخص فوت ہوجائے تو تم اس کی قبر کی مٹی ہموار کرنے کے بعد اس کی قبر کے سرہانے کھرے ہوجانا پھر کہنا اے فلاں بن فلانہ، کیونکہ وہ تمہاری بات سنے گا اور جواب نہیں دے سکے گا۔ پھر کہنا اے فلاں بن فلانہ تو پھر وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا۔ پھر کہنا اے فلاں بن فلانہ تو وہ کہے گا اللہ تم پر رحم کرے ہم کو ہدایت دو ، لیکن تم کو اس کے کلام کو شعور نہیں ہوگا۔ پھر اس سے یہ کہنا کہ یاد کرو جب تم دنیا سے گئے تھے تو ان لا الہ الا اللہ وان محمد عبدہ ورسولہ کی شہادت دیتے تھے اور تم اللہ کو رب مان کر، اور اسلام کو دین مان کر، اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مان کر اور قرآن کو امام مان کر راضی تھے۔ پھر منکر اور نکیر میں سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر یہ کہے گا یہاں سے چلو ہم اس شخص کے نہیں بیٹھتے جس کو جواب تلقین کردیا گیا ہے۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! اگر ہم کو اس کی ماں کا نام یاد نہ ہو تو ؟ آپ نے فرمای پھر پکارنے والا اس کو حواء کی طرف منسوب کرے اور کہے یا فلاں بن حواء : (المعجم الکبیر ج 8، رقم الحدیث : 7979 ۔ تہذیب تاریخ دمشق ج 6، ص 424، مجمع الزوائد ج 2، ص 324، کنزالعمال رقم الحدیث : 42406، 42934)

اس کا جواب یہ ہے کہ ہماری بحث اس میں ہے کہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے باپ کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا اور اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ دفن کے بعد قبر پر کھڑے ہو کر اس شخص کو اس کی ماں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے لہذا یہ حدیث ہمارے خلاف نہیں ہے۔

اس موضوع پر حسب ذیل احادیث سے بھی استدلال کیا جاتا ہے : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا پردہ رکھتے ہوئے قیامت کے دن ان کو ان کے ناموں سے پکارے گا۔ (المعجم الکبیر ج 11، رقم الحدیث : 11242 ۔ البدور السافرہ ص 335 ۔ الدر المنثور ج 8، ص 53)

حافظ سیوطی نے البدور السافرہ میں یہ حدیث اسی طرح ذکر کی ہے لیکن الدر المنثور میں امام طبرانی اور امام ابن مردویہ کے حوالوں سے اس طرح ذکر کی ہے : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندوں کا پردہ رکھتے ہوئے ان کو ان کی ماؤں کی طرف منسوب کر کے پکارے گا۔ لیکن امام طبرانی کی روایت میں ماؤں کا ذکر نہیں ہے۔ حافظ الہیثمی نے کہا ہے اس حدیث کا ایک راوی اسحاق بن بشر ابوحذیفہ متروک ہے (مجمع الزوائد ج 10، ص 359) حافط محمد بن احمد ذہبی متوفی 748 ھ اس کے متعلق لکھتے ہیں : امام ابن حبان نے کہا اس کی احادیث کو اظہار تعجب کے سوا لکھنا جائز نہیں ہے۔ امام دار قطنی نے کہا یہ کذاب متروک ہے۔ علی بن مدینی نے بھی اس کو کذاب قرار دیا، یہ شخص 260 ھ میں بخاری میں فوت ہوگیا تھا۔ (میزان الاعتدال ج 1، ص 335، رقم 740، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1416 ھ)

امام ابن عدی، اسحاق بن ابراہیم الطبری کی سند سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت انس (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ عزوجل کی طرف سے لوگوں پر ستر کرتے ہوئے ان کو ان کی ماؤں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا۔ امام ابن عدی نے کہا یہ حدیث اس سند کے ساتھ منکر ہے۔ (الکام فی ضعفاء الرجال ج 1، ص 335، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

علامہ شمس الدین ذہبی اسحاق بن ابراہیم الطبری کے متعلق لکھتے ہیں امام ابن عدی اور امام دارقطنی نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا اور امام ابن حبان نے کہا یہ ثقات سے موضوعات کو روایت کرتا ہے، اس کی احادیث کو اظہار تعجب کے سوا روایت کرنا جائز نہیں ہے۔ امام ابن حبان نے اس کی متعدد باطل روایتوں کی مثال ذکر کی ہے، حافظ ذہبی نے اس روایت کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے۔ یہ منکر ہے۔ (میزان الاعتدال ج 1، ص 327، رقم : 719، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

علامہ بدر الدین محمد بن احمد عینی حنفی متوفی 855 ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں : 

امام بخاری کی صحیح حدیث میں ان لوگوں کا رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ قیام کے دن لوگوں کو صرف ان کی ماؤں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا تاکہ ان کے آباء پر پردہ رہے۔ نیز اس حدیث سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اشیاء پر حکم ان کے ظاہر کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے۔ (عمدۃ القاری ج 22، ص 201، مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ مصر، 1348 ھ)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں : 

علامہ بن ابطال نے کہا ہے کہ اس حدیث میں ان لوگوں کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں کو صرف ان کی ماؤں کی طرف منسوب کرکے پکارا جائے گا تاکہ ان کے (اصل) آباء پر پردہ رہے۔ (علامہ عسقلانی فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ یہ وہ حدیث ہے جس کو امام طبرانی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند بہت ضعیف ہے اور امام ابن عدی نے اس کی مثل حضرت انس سے روایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ منکر ہے۔ علامہ ابن بطال نے کہا کسی شخص کی پہچان اور شناخت کے لیے اس کو اس کے باپ کی طرف منسوب کرنا بہت زیادہ واضح ہے۔ اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ چیزوں کے ظاہر پر حکم لگانا جائز ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ کسی شخص کی اس کے اسی باپ کی طرف نسبت کی جائے گی جو دنیا میں اس کا باپ مشہور تھا نہ کہ اس کے حقیقی باپ کی طرف اور یہی قول معتمد ہے۔ (فتح الباری ج 10، ص 563، مطبوعہ لاہور، 1401 ھ)

بچوں کا نام محمد رکھنے کی فضیلت 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرا نام رکھو اور میری کنیت نہ رکھو، کیونکہ میں ہی قاسم ہوں اور تمہارے درمیان تقسیم کرتا ہوں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 6196 ۔ صحیح مسلم الاداب 5 (2131) 5487 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 3728)

حضرت ابو وہب جشمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انبیاء کے نام رکھو۔ اور تمام اسماء میں اللہ کو محبوب عبداللہ اور عبدالرحمن ہیں اور حارث اور ہمام تمام ناموں میں سچے ہیں۔ اور سب سے قبیح نام حرب (جنگ) اور مرہ (کڑوہ) ہے۔ (سنن ابوداود رقم الھدیث : 4950 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 3568)

حارث کے صادق ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حارث کا معنی ہے کسب اور کام کرنے والا اور ہر انسان کوئی نہ کوئی کام کرتا ہے۔ سو یہ نام اپنے معنی کے مطابق ہے اور ہمام کا معنی ہے ارادہ کرنے والا اور ہر انسان کسی نہ کسی کام کا ارادہ کرتا ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی 1252 ھ لکھتے ہیں : 

علامہ مناوی نے کہا ہے کہ عبداللہ نام رکھنا مطلقاً افضل ہے، اس کے بعد عبدالرحمن ہے، اس کے بعد محمد نام رکھنا افضل ہے، پھر احمد نام رکھنا، پھر ابراہیم نام رکھنا۔ ایک اور جگہ یہ ہے کہ عبداللہ اور عبدالرحمن کے ساتھ ان کی مثل دوسرے نام لاحق ہیں مثلاً عبدالرحیم اور عبدالمالک وغیرہ۔ اور یہ اس کے منافی نہیں ہے کہ محمد اور احمد نام، اللہ تعالیٰ کو تمام ناموں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو وہی نام رکھا ہے جو اس کو تمام ناموں میں سب سے زیادہ محبوب ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے اس کا نام محمد یا احمد رکھا تو وہ شخص اور اس کا بچہ دونوں جنت میں ہوں گے۔ اس حدیث کو امام ابن عساکر نے حضرت ابوامامہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ حافظ سیوطی نے کہا ہے اس باب میں یہ سب سے عمدہ حدیث ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار ج 5، ص 268، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت، 1407 ھ)

” محمد ” نام رکھنے کے متعلق متعدد احادیث وارد ہیں ان میں سے بعض کی اسانید ضعیف ہیں لیکن چونکہ فضائل میں احادیث ضعیفہ کا اعتبار ہوتا ہے اس لیے ہم وہ احادیث بیان کر رہے ہیں۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص کے ہاں تین بیٹے ہوئے اور اس نے کسی کا نام محمد نہیں رکھا اس نے جہالت کا کام کیا۔ (الکامل لابن عدی ج 6، ص 2107 ۔ المعجم الکبیر ج 11 ۔ رقم الحدیث : 11077 ۔ مجمع الزوائد ج 8، ص 49 ۔ کنز العمال رقم الحدیث : 45204 ۔ مسند الحارث ص 199 ۔ 200)

حافظ سیوطی نے کہا ہے کہ اس کی سند میں موسیٰ ، لیث سے متفرد ہے اور وہ ضعیف ہے لیکن اس کا ضعف وضع تک نہیں پہنچا۔ امام مسلم، امام ابو داود، امام ترمزی، امام ابن ماجہ اور امام طبرانہ نے اس سے احادیث کو روایت کیا ہے، اور امام ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے۔ یہ حدیث مسند الحارث میں بھی ہے اور یہ مقبول کی قسم میں داخل ہے۔ (اللآلی المصنوعہ ج 1، ص 93، 94، مطبوعہ دار الکتب العلملیہ بیروت، 1417 ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے تین بیٹے ہوں اور وہ کسی کا نام محمد نہ رکھے تو یہ بےوفائی کے کاموں میں سے ہے اور جب تم اس کا نام محمد رکھو تو نہ اس کو برا کہو (گالی دو ) اور نہ اس پر سختی کرو، نہ اس پر ناک چڑھاؤ اور نہ اس کو مارو، اس کی قدر منزلت اور تعطیم و تکریم کرو اور اس کی قسم پوری کرو۔ (الکامل لابن عدی، ج 3، ص 890)

امام ابن عدی متوفی 365 ھ نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے۔ حافظ سیوطی لکھتے ہیں اس حدیث کی تقویت اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام دیلمی متوفی 509 ھ نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کے چار بیٹے ہوں اور وہ میرا نام کسی کا نہ رکھے اس نے مجھ سے بےوفائی کی۔ (الفردوس بماثور الخطاب ج 3، رقم الحدیث : 5981) ۔ نیز امام بکیر نے اپنی سند کے ساتھ مرفوعاً روایت کیا ہے : جب تم کسی کا نام محمد رکھو تو اس نام کی تعظیم کے سبب سے اس کی تعظیم اور توقیر کرو اور اس کی تکریم کرو، اس کی تذلیل اور تحقیر نہ کرو اور اس پر سختی نہ کرو۔ (الجوامع رقم الھدیث : 2010 ۔ اللآلی المصنوعہ ج 1، ص 94، مطبوعہ بیروت، 1417 ھ)

حضرت ابو رافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم کسی کا نام محمد رکھو تو نہ اس کو مارو نہ محروم کرو۔ امام دیلمی کی روایت میں یہ اضافہ ہے (نام) محمد میں برکت رکھی گئی ہے اور جس گھر میں محمد ہو، اور جس مجلس میں محمد ہو۔ (مسند البزار رقم الحدیث : 1359 ۔ مجمع الزوائد، ج 8، ص 48 ۔ الفردوس بماثور الخطاب رقم الحدیث : 1354 ۔ کنز العمال رقم الحدیث : 45197، 45220 (اس حدیث کی سند ضعیف ہے)

امام فراوی اپنی سند کے ساتھ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی ندا کرے گا اے محمد ! کھڑے ہوں اور جنت میں بغیر حساب کے داخل ہوجائیں تو ہر وہ شخص جس کا نام محمد ہوگا وہ کھڑا ہوجائے گا اور یہ گمان کرے گا کہ یہ اس کو نداء کی گئی ہے تو نام محمد کی کرامت کی وہ سے ان کو منع نہیں کیا جائے گا۔ (تنزیہ الشریعہ مطبوعہ القاہرہ)

حافظ سیوطی لکھتے ہیں : اس حدیث کی سند معضل (منقطع) ہے اور اس کی سند سے کئی راوی ساقط ہیں۔ (اللآلی المصنوعہ ج 1، ص 97، مطبوعہ بیروت)

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور اس نے میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کی وجہ سے اس کا نام محمد رکھا تو وہ شخص اور اس کا بچہ دونوں جنت میں ہوں گے۔ (تنزیہ الشریعہ ج 1، ص 198، جامع الاحادیث الکبیر رقم الحدیث : 23255 ۔ کنز العمال رقم الحدیث : 45223)

حافظ سیوطی نے لکھا ہے کہ اس باب میں جنتی احادیث وارد ہیں یہ ان سب میں عمدہ حدیث ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (اللآلی المصنوعہ ج 1، ص 97، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 189