حکایت نمبر279: احکامِ شریعت کی پابندی

قاضی ابوطاہر محمدبن احمد بن عبداللہ بن نَصْر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں:” مجھے یہ خبر پہنچی کہ”جس علاقے میں حضرت ابوحَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم قاضی تھے ، وہاں کے دو شخص آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاس اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے آئے ، ان کا جھگڑا انتہا کو پہنچ چکا تھا ، وہ کمرۂ عدالت میں بھی ایک دوسرے پر جَھپَٹ رہے تھے۔ قاضی صاحب کے ہوتے ہو ئے کمرہ ئعدالت میں ایک دوسرے پر چھپٹنا ایک مذموم حرکت تھی ۔ ان کی یہ حرکتیں بڑھتی گئیں بالآخر ان میں سے ایک شخص نے کوئی ایسی نازیبا حرکت کی جو سخت تادیبی کاروائی کے لائق تھی ۔ چنانچہ، قاضی صاحب نے حکم دیاکہ اسے توہینِ عدالت کی سزادی جائے تا کہ اسے معلوم ہو کہ اَدَب کتنا ضروری ہے۔ سپاہوں نے اسے سزادی تو اتفاقاً اس کی موت واقع ہوگئی اور موت کا سبب تادیبی کا روائی بنی۔ قاضی صاحب نے جب یہ صورتحال دیکھی تو خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کو یہ خط بھیجا: ” اللہ تبارک وتعالیٰ خلیفہ کی عمر دراز فرمائے! میرے پاس دو شخص اپنا مقدمہ لے کرآئے۔ ان میں سے ایک نے ایسی غلطی کی جس پر اسے ادب سکھانے کے لئے سزا ضروری تھی۔ میں نے اسے سزا دلوائی تو اتفاقاً وہ ہلاک ہوگیا۔جب مسلمانوں کی فلاح وبہبود اور ادب سکھانے کے لئے کسی کو سزادی جائے اور اس کی موت واقع ہوجائے تو اس کی دِیَت ،بیت المال سے ادا کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔لہٰذا بیت ُ المال سے رقم بھجوا دیں تا کہ میں اسے بطورِ دیت مقتول کے وُرَثاء کو دے دوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو عمرِ داز عطا فرمائے ۔” والسّلام
جب خلیفہ مُعْتَضِد باللہ کے پاس قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کایہ خط پہنچاتو اس نے جواباََ یہ پیغام بھجوایا:
” اے قاضی ابوحَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم ! ہمیں تمہارا خط ملا جس میں دیت بھجوانے کا کہا گیا ۔لہٰذا میں تمہاری طرف دیت کا مال بھجوارہا ہو۔” والسّلام
خلیفہ نے دس ہزار درہم قاضی صاحب کے پاس بھجوائے۔ قاضی صاحب نے مقتول کے ورثاء کو بلوایا اور ساری رقم بطورِ دیت انہیں دے دی ۔”
(اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قاضی ابو حَازِم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم پررحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو ۔)