أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَيُشۡرِكُوۡنَ مَا لَا يَخۡلُقُ شَيۡئًـــا وَّهُمۡ يُخۡلَقُوۡنَ‌ ۞

ترجمہ:

کیا یہ ان کو شریک قرار دیتے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں

تفسیر:

191 ۔ 193:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” کیا یہ ان کو شریک قرار دیتے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ اور وہ ان (مشرکین) کے لیے کسی مدد کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ اور (اے مشرکو ! ) اگر تم ان بتوں کو ہدایت کے حصول کے لیے پکارو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آسکیں گے سو تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو پکارو یا تم خاموش رہو “

بتوں کی بےمائیگی اور بےچارگی 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : کیا یہ ان کو شریک بناتے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرسکتے۔ یہ آیت اس مطلب پر قوی دلیل ہے کہ ان آیات میں جن لوگوں کا قصہ بیان کیا گیا ہے ان کا تعلق حضرت آدم (علیہ السلام) سے نہیں ہے، بلکہ اس سیاق اور سباق کا تعلق مشرکین سے ہے۔ 

اس آیت سے علماء اہل سنت نے یہ استدلال کیا ہے کہ انسان اپنے افعال کا خالق نہیں ہے، کیونکہ اس آیت کا یہ تقاضا ہے کہ مخلوق کسی چیز کو خلق کرنے پر قادر نہیں ہے۔ 

دوسری آیت کا مفاد یہ ہے کہ معبود کے لیے ضروری ہے کہ وہ نفع پہنچانے اور ضرر دور کرنے پر قادر ہو اور بت اپنی پرستش کرنے والوں کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، تو ان کی پرستش اور عبادت کرنا کیوں کر درست ہوگی۔ بلکہ بتوں کا حال تو یہ ہے کہ اگر کوئی ان بتوں کو توڑ دے تو وہ اپنے آپ کو اس سے با نہیں سکتے، تو جو اپنی ات سے ضرر کو دور کرنے پر قادر نہیں ہے تو وہ تمہیں تکالیف اور مصائب سے کب بچا سکتے ہیں۔

تیسری آیت میں یہ فرمایا ہے کہ جس طرح یہ بت حصول نفع اور دفع ضرر پر قادر نہیں ہیں، اسی طرح ان کو کسی چیز کا علم بھی نہیں ہے، اس لیے جب تم انہیں کسی نیک کام کے لیے پکارو تو یہ تمہارے پیچھے نہیں لگیں گے، اور اس آیت کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ اگر تم ان کو کسی خیر اور اچھائی کے لیے پکارو تو یہ تمہاری پکار کا جواب نہیں دیں گے یا تم ان سے کوئی دعا کرو تو یہ تمہاری دعا کو قبول نہیں کریں گے۔ اس لیے فرمایا کہ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 191