أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمۡثَالُـكُمۡ‌ فَادۡعُوۡهُمۡ فَلۡيَسۡتَجِيۡبُوۡا لَـكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم ان کو پکارو اور پھر چاہیے کہ وہ تمہاری پکار کا جواب دیں اگر تم سچے ہو

تفسیر:

194 ۔ 195:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” بیشک اللہ کو چھوڑ کر تم جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہاری طرح بندے ہیں تو تم ان کو پکارو اور پھر چاہیے کہ وہ تمہاری پکار کا جواب دیں اگر تم سچے ہو۔ کیا ان کے پیر ہیں جن سے وہ چل سکیں یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑ سکیں، یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھ سکیں، یا ان کے کان ہیں جن سے وہ سن سکیں، آپ کہیے کہ تم اپنے شرکاء کو بلاؤ اور پھر اپنی تدبیر مجھ پر آزماؤ اور اس کے بعد مجھے (بالکل) مہلت مت دو “

اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ بت تو بےجان پتھر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ تمہاری طرح بندے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ کلام برتقدیر فرض ہے۔ پہلی آیت میں یہ بتایا ہے کہ جن بتوں کی تم عبادت کرتے ہو، وہ بےجان پتھر ہیں۔ جن کے حواس ہیں اور نہ وہ حرکت کرسکتے ہیں، اور اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ وہ حواس اور عقل رکھتے ہیں اور حرکت بالارادہ کرسکتے ہیں، تب بھی زیادہ سے زیادہ وہ تمہاری طرح بندے ہیں اور ان کو تم پر کوئی فضیلت نہیں ہے، پھر تم نے ان کو اپنا خالق، اپنا رب اور اپنا معبود کیسے فرض کرلیا۔ پھر اس پر دلیل قائم فرمائی کہ ان کو تم پر کوئی فوقیت نہیں ہے اور اگر تم ان کے رب اور معبود ہونے کے دعوی میں سچے ہو تو ان کو پکارو تاکہ وہ تمہاری پکار کا جواب دیں۔

اس آیت میں بتوں کو پکارنے کا جو حکم دیا ہے وہ بتوں کے عجز کو ثابت کرنے کے لیے ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ کسی کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے تو پھر وہ خدائی کی صلاحیت کب رکھ سکتے ہیں۔ پس ظاہر ہوگیا کہ اے مشرکو ! تم اور وہ ایک جیسے ہیں بلکہ وہ تم سے بھی ارزل اور ادنی ہیں کیونکہ تم تو چلنے پھرنے، چیزوں کو پکڑنے اور سننے اور دیکھنے پر قادر ہو اور وہ تو اتنی قدرت بھی نہیں رکھتے۔ 

حسن بصری نے کہا ہے کہ مشرکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے بتوں سے خوف زدہ کرتے تھے، اس لیے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ تم اور تمہارے بت اگر میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو بگاڑ لیں، اور پھر مجھے بالکل مہلت نہ دیں اور اس سے یہ واضح ہوگیا کہ یہ بت کسی کو نفع اور نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔ سو ان کی عبادت کرنا جائز نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 194