أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ وَلىِّۦَ اللّٰهُ الَّذِىۡ نَزَّلَ الۡـكِتٰبَ ‌ۖ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

بیشک میرا مددگار اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک لوگوں کی مدد کرتا ہے

تفسیر:

196 ۔ 198:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” بیشک میرا مددگار اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک لوگوں کی مدد کرتا ہے۔ اور تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کرسکتے اور نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں۔ اور اگر آپ انہیں ہدایت کی طرف بلائیں تو وہ سن نہیں سکیں گے، اور آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ وہ (بظاہر) آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، حالانکہ وہ (حقیقت میں) بالکل نہیں دیکھ رہے “

اللہ اور رسول کے مقرب نیک لوگ ہیں 

اس سے پہلی آیتوں میں یہ فرمایا تھا کہ بتوں کو حصول نفع اور دفع ضرر پر مطلقاً قدرت نہیں ہے اور اس آیت میں یہ واضح فرمایا ہے کہ صاحب عقل کو یہ چاہیے کہ صرف اللہ کی عبادت کرے جو دین اور دنیا کے منافع پہنچانے کا ولی ہے۔ دین کے منافع اس طرح پہنچائے کہ اس نے یہ کتاب یعنی قرآن مجید کو نازل فرمایا جس میں معیشت اور آخرت کا مکمل اور جامع نظام ہے اور دنیا کے منافع اس طرح پہنچائے کہ اس نے فرمایا وہ صالحین کا ولی ہے یعنی نیک لوگوں کا مددگار ہے۔ 

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہ آواز بلند فرماتے ہوئے سنا ہے۔ آپ نے فرمایا سنو ! میرے باپ کی آل میرے مددگار نہیں ہیں، میرا ولی اللہ ہے اور نیک مسلمان ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : 5990 ۔ صحیح مسلم الایمان : 366 (215) 508 ۔ مسند احمد ج 4، ص 203)

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ میرے والی (دوست یا مقرب) نیک مسلمان ہیں خواہ وہ نسبتاً مجھ سے بعید ہوں۔ اور جو نیک نہیں ہیں وہ میرے ولی (مقرب) نہیں ہیں خواہ وہ نسبتاً مجھ سے قریب ہوں۔

عمر بن عبدالعزیز اپنی اولاد کے لیے کچھ مال جمع نہیں کرتے تھے ان سے اس کا سبب پوچھا گیا انہوں نے کہا اگر میری اولاد صالح اور نیک ہوئی تو اس کا ولی اور مددگار اللہ ہے لہذا اس کو میرے مال کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اگر میری اولاد مجرم اور گنہ گار ہوئی تو میں اپنے مال سے اس کی مدد نہیں کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول ذکر فرمایا ہے : ” قال رب بما انعمت علی فلن اکون ظہیرا للمجرمین : موسیٰ نے عرض کیا اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھ پر احسان فرمایا ہے سو اب میں ہرگز مجرموں کا مددگار نہیں ہوں گا ” (القصص :17) ۔ (تفسیر کبیر ص 435 ۔ غرائب القرآن اور غائب الفرقان ج 3، ص 362، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت، 1416 ھ)

دوسری آیت میں پھر یہ ذکر فرمایا کہ یہ بت نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں نہ اپنی، سو یہ اس لائق نہیں ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے۔ اور اس کے بعد والی آیت میں فرمایا اور آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ بظاہر آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں، اس سے مراد بت ہیں یا مشرکین۔ اگر اس سے مراد بت ہیں تو ان کے دیکھنے کا معنی یہ ہے کہ وہ آپ کے سامنے اور بالمقابل ہیں اور چونکہ دیکھنے والا بالمقابل ہوتا ہے اس لیے فرمایا وہ بظاہر دیکھ رہے ہیں حالانکہ حقیقت میں وہ بالکل نہیں دیکھ رہے، اور اگر اس سے مراد مشرکین ہیں تو پھر معنی یہ ہے کہ یہ کفار اور مشرکین ہرچند کہ یہ ظاہر آپ کو دیکھ رہے ہیں لیک یہ چونکہ آپ کو محبت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ عداوت سے دیکھتے ہیں تو گویا کہ وہ آپ کو نہیں دیکھتے یا چونکہ وہ حق سے اعراض کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں نبوت کے جو دلائل اور نشانیاں رکھی ہیں ان کا اثر قبول نہیں کرتے اس لیے گویا کہ وہ آپ کو نہیں دیکھتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 196