تقدیم

اللہ تعالیٰ نے اس روئے زمین پر جیسے بے شمار انسان پیدا فرمائے ، ویسے ہی ان کے رنگ و نسل میں بھی جہاں قدرے اختلاف ہے، وہیں ان کی طبیعتیں بھی باہم متضاد اور مختلف ہیں۔ کوئی ان میں طبعی طور پر شریف، سنجیدہ اور منصف مزاج واقع ہوا ہے۔ جو ہمیشہ حق سننا چاہتا ہے ،حق دیکھنا چاہتا ہے اور حق ہی بولنا چاہتا ہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔

رہے وہ جوفطری طور پر شر پسند ہیں، شرارت جن کا شیوہ ، بے جا اختلافات جن کی عادت اور عداوت و دشمنی جن کا مشغلہ ہوتا ہے، ایسے لوگوں کی تعداد دور حاضر میں بہت زیادہ ہوگئی ہے جو چھوٹے سے چھوٹے ضمنی اور فرعی مسائل کو ہوا دے کر اتنا بڑا طوفان اٹھا دیتے ہیں کہ خدا کی پناہ !

فروعیات میں اختلاف تک ہی معاملہ ہوتا تو شاید ’’فلسفہ اذان قبر ‘‘ آپ تک پہنچانے کی چنداں حاجت نہ تھی مگر در اصل فروعیات کے پس پردہ کچھ اصولی مسائل میں بھی بعض دعویداران ایمان و اسلام سخت مخالفت کرتے ہیں۔اسی بیجا تشدد کے رد عمل میں یہ رسالہ آپ تک پہنچانے کی سعادت حاصل کی جاتی ہے ۔

اذان قبر کے سلسلے میں آج مخالفین نے اتنی شدت برتنا شروع کر دی ہے کہ بعض مقامات پر جنگ و جدال کی نوبت آن پڑتی ہے۔ لہذا اس رسالہ کے فاضل مصنف حضرت علامہ عبد الستار ہمدانی، نوری برکاتی (مد ظلہ العالی) نے وقت کی ضرورت محسوس کی اور مخالفین کو دنداں شکن جواب دیتے ہوئے یہ مختصر مگرجامع رسالہ تحریر فرمایا۔

اس رسالہ میں اذان قبر کے جواز بلکہ استحباب پر تین قوی دلائل پیش کرکے طوالت کے خوف سے ،یا یہ کہ رسالہ خالص عوامی ہے اور عوام الناس کو مد نظر رکھ کر طویل اور گنجلک بحثوں سے احتراز فرمایا ہے ۔

مجھ جیسے کم علم اور ناتجربہ کار کے لیے اس رسالے پر مقدمہ لکھنا بڑا دشوار تھا، کہ جس مسئلہ پر سیدی اعلیٰ حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا قادری فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوان نے دلائل کا بحر بے کراں رسالہ بعنوان ’’ ایذان الاجر فی اذان القبر‘‘ ( ۱۳۰۷ھ) تصنیف فرماکر امت کو اس اختلافی مسئلہ سے بچنے کے لیے بہت پہلے ہی ایک پلیٹ فارم عطا کر دیا، اس کے بعد زیر نظر رسالہ میں عام فہم زبان میں انھیں مسائل کا اعادہ و تلخیص کے بعد مزید کچھ تحریرکرنے کی ضرورت نہیں، تاہم فاضل مصنف کی تعمیل حکم میں چند سطور قلم بند کرنے کا شرف حاصل کر رہا ہوں۔

اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’إنَّ الْقَبْرَ أوَّلُ مَنْزِلٍ مِنَ مَنَازِلِ الآخِرَۃِ فَإنْ نَجَا مِنْہُ فَمَا بَعْدُہٗ أیْسَرُ مِنْہُ وَ إنْ لَمْ یَنْجُ مِنْہُ فَمَا بَعْدَ شَرٌ مِّنْہُ۔ ‘‘

بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے پس بندہ اگر اس سے نجات پاگیا تو اگلی منزلیں اس کے لیے آسان ہیں اور اگر اس میں ( معاذ اللہ ) کامیاب نہ ہوا تو اس کے بعد کی منزلیں اس کے لیے مشکل ترین ہیں۔

نیز فرمایا :

’’وَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا رَأیْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إلاَّ الْقَبْرَ أفْزَعُ مِنْہُ ۔ ‘‘

قبر سے زیادہ قبیح (خوفناک)منظر میں نے کہیں نہیں دیکھا ۔

( شعب الایمان للبیہقی ، ۷/۳۵۲ ، دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان)

لہذا قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کے جواب میں ثابت قدم رکھنے کے لیے ہر مرد مومن اپنے خویش و اقرباء کے سلسلے میں خواہش مند ہے ، تو کیوں نہ اسے ایسا مجرب عمل بتادیا جائے جس سے اس کی مراد بر آئے اوراس کے عزیزوں کی میت قبر میں ثابت قدم رہے اور شریعت مطہرہ کی خلاف ورزی بھی نہ ہو ، تو وہ اذان کے کلمات ہیں جن کے ذریعہ بندئہ مومن دنیا و آخرت، دونوں جہان میں حق پر ثابت قدم رہتا ہے۔

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

{ یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الآخِرَۃِ ۔۔۔} (سورہ ابراہیم ، آیت : ۲۷)

اللہ تعالیٰ مومنین کو قول ثابت کے ذریعہ دونوں جہان میں ثابت قدم رکھتا ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تفسیر میں ہے :

’’مَنْ دَاوَمَ عَلیَ الشَّھَادَۃِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا یُثَبِّتُہُ اللّٰہُ عَلَیْھَا فِی قَبْرِہٖ وَ یُلَقِّنُہُ إیَّاھَا۔‘‘

کہ جو شخص دنیا میں کلمہ شہادت پر مداومت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو قبر میں اسی پر ثابت رکھتا ہے اور اس کی تلقین فرماتا ہے ۔

(تفسیر کبیر للامام الرازی ۱۰/۱۳۰ ، دار الفکر بیروت، لبنان)

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

’’ خَیْرُ الْکَلاَمِ أرْبَعَۃٌ ، لاَ یَضُرُّکَ بَأیِّھُنَّ بَدَأتَ ۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لاَ إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ أکْبَرُ ۔ ‘‘

( کنز العمال ۲۰۰۲، ابن النجار عن ابی ہریرہ )

بہترین کلام چار ہیں ، ان میں سے جس سے بھی تو شروع کرے کوئی نقصان نہیں ،وہ یہ ہیں ’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ لاَ إلٰہَ إلاَّ اللّٰہُ وَ اللّٰہُ أکْبَرُ ۔ ‘‘

غور فرمائیے ! اذا ن کے کلمات میں کلمہ شہادت اور بہترین چار باتیں جو حدیث میں مذکور ہیں ،وہ سب موجود ہیں، اور بے شمار حدیثوں میں فرمایا گیا کہ یہ دعا بھی ہے اورحدیث ہی کا مفاد ہے کہ دعا مصیبت کو دور کرتی ہے ، لہذا اگر صاحب قبر پر مصیبت کا وقت ہو اور ایسی صورت میں قبر پر اذان دی جائے اور وہ اذان مقومات شرعیہ سے متصادم نہ ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ یہ امر مستحب ہے ۔

اب رہا یہ سوال کہ ایسا کرنا اگرچہ امر مستحسن ہے مگر بہر حال بدعت ہے ۔ اور احادیث کریمہ میں بدعت کی مذمت آئی ہے ۔

جی ہاں ! مگر بدعت کی مذمت عام نہیں ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت کردہ حدیث جو بخاری شریف میں موجود ہے :

’’ مَنْ أحْدَثَ فِی أمْرِنَا ھٰذَا مَا لَیْسَ مِنْہُ فَھُوَ رَدٌّ ۔

یعنی جس نے ہمارے اس معاملہ میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس سے نہیں تو وہ مردود ہے ۔

اور انھیں سے مسلم شریف میں یوں ہے :

’’ مَنْ عَمِلَ عَمْلًا لَیْسَ عَلَیْہِ أمْرُنَا فَھُوَ رَدٌّ۔‘‘

یعنی جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا کوئی حکم نہیں تو وہ مردود ہے ۔

غور فرمائیے ! یہ دونوں حدیثیں حتمی لفظوں میں صراحت کرتی ہیں کہ ہر بدعت گمراہی نہیں بلکہ کوئی حدیث پاک جب مطلق حکم ثابت کرے پھر وہی حدیث مقید ہوجائے تو قاعدہ ہے کہ مطلق کو مقید کرنا واجب ہوگا۔

لہذا حدیث کا صریح مفہوم یہ ہوا کہ جو نئی بات پیدا ہو اور اس پر ہماری کوئی دلیل موجود ہے تو وہ مقبول ہے ۔

بقیہ بدعت کے تعلق سے مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے کتاب کے اوراق الٹئے فاضل مصنف نے بڑے اچھے انداز اور سلیس زبان میں نقشہ کے ساتھ بدعت کی جو تفصیل پیش کی ہے اس سے مسئلہ بالکل واضح ہوجائے گا۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل اس رسالہ کو عوام و خواص کے لیے نافع بنائے اور اس کے مصنف کو اجر جزیل عطا فرمائے اور ہمیں خدمت دین کی مزید توفیق بخشے۔ آمین

و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم و علی آلہ و صحبہ اجمعین۔

نیاز مند

نعمان اعظمی

خادم مرکز اہل سنت برکات رضا

(رجب المرجب ۱۴۲۶ھ)