سستی کرنے والوں کے لئے ویل ہے 

قرآن پاک میں ہے :’’ فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلَّیْنَ الَّذِ یْنَ ھُمْ عَنْ صَلَا تِھِمْ سَاھُوْن‘‘

تو ان نمازیوں کے لئے خرابی ہے جو اپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں۔ (کنز الایمان، پارہ ۳۰ سورۂ ویل)

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! منافقین جنہوں نے بظاہر تو اپنے آپ کو مسلمانوں کے زمرے میں شامل کر رکھا ہے لیکن ان کے دلوں میں قیامت پر ایمان نہیںاس لئے نماز کے بارے میں بڑی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ’’سَاھُوْن‘‘َغَافِلُوْنَ کے معنی میں ہے،یعنی نماز کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں، نماز ادا ہوگئی تو ہوگئی نہ ہوئی تو انہیں ذرابھی دکھ نہیں۔ اگر نماز پڑھتے ہیں تو کسی ثواب کے امیدوار نہیں ہوتے اور اگر نہیں پڑھتے تو کسی عذاب کا اندیشہ نہیںہوتا اگر لوگوں میں گِھر گئے تو نماز پڑھ لی تنہا ہوئے تو ہضم کر گئے یا نماز پڑھتے تو ہیں لیکن صحیح وقت پر ادا نہیں کرتے۔ یونہی بیٹھے گپیں ہانکتے رہتے ہیں اور جب وقت ہونے کے قریب ہوتا ہے توتیزی سے اٹھتے ہیں اور تین چار ٹھونگ مار کر فارغ ہو جاتے ہیںیا نماز میں جس خشوع، خضوع کی ضرورت ہے اس کی انہیں ہواتک نہیں لگی ہوتی عبادت و ذکر الٰہی کی لذت سے کبھی سرشار نہیں ہوتے۔ 

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! یہ سب غفلت کی قسمیں ہیں، سچے مومن کو چاہئے کہ ان تمام باتوں سے پرہیز کی پوری پوری کوشش کرے۔ حضرت عطا نے بڑی پیاری بات کہی ہے۔ فرماتے ہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ قَالَ’’ عَنْ صَلاَتِھِمْ‘‘ وَلَمْ یَقُلْ ’’فِیْ صَلٰوتِھِمْ‘‘۔ یعنی اللہ کا شکر ہے کہ’’ عن صلوٰتھم‘‘ فرمایا ’’فِیْ صَلوٰتِھِمْ‘‘ نہیں فرمایا کیونکہ اس صورت میں معنیٰ یہ ہوتے ’’ ویل‘‘ ہے ان کے لئے جو نمازمیں سہو کرتے ہیں پھر شاید ہی کوئی نماز ی ا س ویل سے محفوظ رہتا کیونکہ ہر مسلمان کو اثنائے نماز میں سہو و نسیان سے کبھی نہ کبھی سابقہ پڑتا ہے۔ 

لیکن صاحب روح البیان اس آیت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’اَلَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلٰوتِھِمْ سَاھُوْنَ‘‘سے مراد یہ کہ وہ نمازکو ترک کرتے ہیں سہو سے اور اس کی طرف قلت التفات سے اور یہ منافقین کا یا فاسقین کا کام ہے، یہی ’’عَنْ‘‘ کا مطلب ہے۔ 

اس آیت کریمہ میں اللہ نے فرمایا کہ نماز میں سستی کرنے والوں کے لئے ویل ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کانام ہے اگر اس میں دنیا کے پہاڑ ڈالے جائیں تو وہ بھی اس کی شدید گرمی کی وجہ سے پگھل جائیں اور یہ وادی ان لوگوں کا مسکن ہے جو نمازوں میں سستی کرتے ہیں اور وقت گزارکے پڑھتے ہیں۔ 

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ تفصیل جان لینے کے بعد آئو ہم سچے دل سے توبہ کرلیں کہ آئندہ نماز میں سستی نہیں کریں گے اور نماز باجماعت کی پا بندی کریں گے۔ اللہ د ہم سب کو وقت پر نماز کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ 

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔