حدیث نمبر 34

روایت ہے حضرت فضل ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز دو،دو رکعتیں ہے ۱؎ ہر دو رکعتوں میں التحیاتہ عجز ہے نیاز مندی ہے اور اظہار غریبی ۲؎ پھر ہاتھ اٹھاؤ یعنی اپنے رب کی طرف پھیلاؤ ۳؎ جن کی ہتھیلیاں تمہارے چہرے کی طرف ہوں۴؎ اور کہو اے مولا اے مولا اور یہ نہ کرے تو وہ ایسا ایسا ہے۔اور ایک روایت میں ہے کہ وہ ناقص ہے ۵؎ ترمذی۔

شرح

۱؎ یعنی نفل نماز میں دو دو رکعتیں افضل ہے۔خیال رہے کہ امام اعظم کے ہاں نفل چار چار افضل،امام شافعی کے ہاں دو دو،صاحبین کے ہاں رات میں دو دو اور دن میں چار چار افضل،یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے،رضی اﷲ عنہ۔امام صاحب فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم عشاء کے بعد اور چاشت میں چار چار رکعتیں پڑھتے تھے،یہ حدیث نفل کی مقدار معلوم کرنے کے لیئے ہے نہ کہ رکعات کی افضَلیت،یعنی نفل ایک یا تین رکعت نہیں ہوسکتے،لہذا یہ حدیث ا مام اعظم کے خلاف نہیں۔

۲؎یعنی اگر چار یا آٹھ رکعت نفل کی نیت بھی باندھے تب بھی ہر دو رکعت پر التحیات واجب ہے۔خیال رہے کہ بدن سے عاجزی ظاہری کرنے کو خضوع اور نگاہیں نیچی رکھنے کو خشوع کہا جاتا ہے،بعض نے فرمایا کہ ظاہری عجز خضوع ہے اور دل کا عجز خشوع۔

۳؎ اس میں دعامانگنے کے آداب سکھائے گئے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر نمازِ نفل کے بعد بھی دعا مانگنا سنت ہے اور ہر دعا میں ہاتھ اٹھانا سنت اور ہاتھ آسمان کی طرف اٹھیں وہ رب کی خاص تجلی گاہ ہے اور بندوں کے رزق کا خزانہ ہے،رب فرماتا ہے:”وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُکُمْ وَ مَا تُوۡعَدُوۡنَ”۔ہاں عام دعاؤں میں سینہ تک اٹھائے اور نماز استسقاء میں سر سے اوپر۔

۴؎یعنی اگر نماز کے بعد دعا نہ مانگی تو نماز مکمل نہ ہوگی۔دعانماز کا تکملہ ہے اس کی تفسیر وہ احادیث ہیں جن میں ارشاد ہوا کہ دعا عبادات کا مغز ہے یا دعا سے پہلے عبادات معلق رہتی ہیں وغیرہ۔