حدیث نمبر36

روایت ہے حضرت عکرمہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک بزرگ کے پیچھے مکہ مکرمہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے بائیس تکبیریں کہیں ۱؎میں نے حضرت ابن عباس سے کہا کہ یہ بوکقوف ہیں تو فرمایا تمہیں تمہاری ماں روئے یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے ۲؎(بخاری)

شرح

۱؎ نماز چار رکعت تھی اس میں تکبیرتحریمہ اور پہلے التحیات سے اٹھتے وقت کی تکبیریں بھی شامل ہیں،یہ بزرگ ابوہریرہ تھے اور عکرمہ حضرت عبداﷲ ابن عباس کے غلام ہیں ان کا ذکر پہلے آچکا ہے۔

۲؎ یعنی چار رکعت والی نماز میں بائیس تکبیریں کہنا بھی سنت ہے اور امام کو ہرتکبیر اونچی آواز سے کہنا بھی سنت ہے،تم اپنی بویقوفی سے سنت پرعمل کرنے والے کو بولقوف بتا رہے ہو۔شایدحضرت عکرمہ نے چیخ کر تکبیر کہنے کو غلط سمجھا ہوگا مگرتعجب ہے کہ آپ ہمیشہ باجماعت نماز پڑھتے تھے پھر ان پر یہ مسئلہ کیسے مخفی رہا۔یہ بات تو ہر نمازی جانتا ہے کہ چار رکعت میں تکبیریں بائیس ہوتی ہیں اور امام ہرتکبیر بآواز بلند کہتا ہے۔خیال رہے کہ حضرت عکرمہ نے لڑکپن کے جوش میں یہ الفاظ بول دیئے،ورنہ کسی کو پیٹھ پیچھے احمق کہنا غیبت ہے،صحابہ کی شان تو بہت بلند ہے اسی لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کو سخت تنبیہ کی۔