کامیابی کے لئے فرائض سے آگے بڑھو

اسلام میں بہت سارے کاموں کا تعلق واجب اور فرض سے ہوتا ہے اور بہت سارے کاموں کاتعلق سنت اور مستحب سے ہوتا ہے،آخرت کی کامیابی کے لئے اور درجات کی بلندی کے لئے ہم صرف یہ نہیں دیکھتے کہ فرض اور واجب کیا ہے بلکہ نوافل اور مستحبات تک کو عمل میں لے آتے ہیں،مقصود ہمارا کامیابی ہے،جب حقوق اللہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور فرائض کے ساتھ نوافل بھی ادا کرلیتے ہیںتو حقوق العباد میں ہم صرف ضرورتوں پر اٹک کر نہ رہ جائیں بلکہ ہمیں ضرورتوں سے آگے نکل کر ماحول کو سازگار بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیئے،ضرورت اسلام کے قانون کا تقاضہ ہے لیکن ان ضرورتوں سے آگے نکلنا درجۂ ممانعت میں نہیں بلکہ مرتبۂ جواز و استحسان میں ہے تو ہمیں اس میں دریغ محسوس نہیں کرنا چاہیئے،اور حتی الوسع آگے سے آگے رہنا چاہیئے

محبت کا انداز الگ ہے

اسلام کی طرف سے عورتوں کو شوہر کی محبت میں وارفتگی کا بارہا درس اس لئے دیا گیا کہ محبتوں میں صرف ضرورتوں کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ محبت میں محبوب کی رضا کو دیکھا جاتا ہے،جتنے پر وہ خوش ہو جائے اتنے پر اپنے عمل کی انتہاء ہوتی ہے،وہاں محبوب کی رضا میں جو بھی آئے اسی کو ضرورت سمجھا جاتا ہے،بلکہ یہ کہہ لو تب بھی چل سکتا ہے کہ اپنی چاہت محبوب کی چاہت بنا لی جاتی ہے،حدیث میں محبت کا ذکر اس خلوص کو بتانے کے لئے ہے،ہماری مسلمان بہنیں اپنے معاشرہ کو خوشگوار بنانے میں اس تعلیم کو اپنا لیں تو ساری مصیبتیں کافور ہو جائیں اور طلاق کا نام تک سننے کو نہ ملے،اور مسلمان کا ہر گھر مثالی جنت بن جائے 

یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑے

میرے آقا ﷺ کی پیاری دیوانیو ! یہ بات مسلم ہے کہ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے،قربانیوں کے بغیر کامیابی نہیں ملتی ہے،دنیا میں کون ہے جو کامیابی نہیں چاہتا ایک بچہ بھی کسی کھیل میں ناکام ہونا نہیں چاہتا،ہارکمسن کو بھی پسند نہیںآتی،جب بچہ ناکامی اور ہار نہیں چاہتاتو بڑوں کی یہ چاہت کیسے ہو سکتی ہے ؟ مگر خیالی پلاؤ پکانے سے یہ کام بن نہیں جاتا،جیسا عزم ہو ایسا عمل بھی درکار ہے ، 

من طلب العلیٰ بغیر کد ، اضاع العمر فی طلب المحال

جس نے بے کوشش بلندی طلب کی اسنے ناممکن کی طلب میں عمر ضائع کی

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جھنم بھی

یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری 

اللہ تعالیٰ ہماریہ بہنوںکو عمل کی توفیق عطا فرمائے (آمیں بجاہ النبیﷺ)